مکلی(ٹھٹھہ)کاقدیم قبرستان

تحریر: ریحان محمود خان

لازوال محبتوں کی تاریخ
سوہنی دھرتی سندھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکلی(ٹھٹھہ)کاقدیم قبرستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے تو پورا پاکستان ہی ایک تاریخی حیثيت رکھتا ہے، مگر سندھ دھرتی کے شہروں کی تاریخ اپنی جگہ ایک حيثيت رکھتی ہے، مکلی سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے قریب ہونے کے ساتھ ایک تاریخی مقام بھی ہے، جس کا شمار دنیا کے قدیم شہروں میں ہوتا ہے، اس کی تاریخ 14 ویں صدی سے 18ویں صدی پر محيط ہے، اُس وقت ٹھٹھہ سندھ کا علم و ثقافت کا گہوارہ ہونے کے ساتھ ساتھ دارالحکومت کا درجہ رکھتا تھا، مکلی میں تقریبا 5 لاکھ قبریں اور مقبرے موجود ہیں، جس کے بہت خوبصورتی سے تراشے ہوٸے پتھر دیدہ زیب اور فن کا شاہکار ہیں، اس کی رعناٸیاں اتنےسال گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوٸی ہیں، یہاں بادشاہ، صوفی بزرگ، عُلمأ ، شاعر، گورنر اور مختلف اہم شخصیات آرام فرمارہی ہیں، اُن کا درس ہی امن، محبت اور اخوت تھا جس کی وجہ سے یہاں اسلام بہت تیزی سے پھیلا، راقم مضمون کا دو مرتبہ مکلی آنا ہوا، میں نے یہاں کے مقبروں کے پتھروں پرنقش نگاری کو بہت غور سے دیکھا، جو کہ انتہاٸی نفیس انداز میں کی گٸی تھی، جن میں قرآنی خطاطی کے ساتھ سندھی، مغلیہ، فارسی اور گجراتی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
مکلی کےتاریخی ورثے کو 1981ء میں “یونیسکو” نے “ورلڈ ہیریٹيج ساٸٹ” قرار دے کر اِس کی اہمیت کو مزید اجا گر کیا، مکلی سے نزدیک ہی مشہور” شاہجہانی مسجد ٹھٹھہ” بھی ہے، جو اپنے دیدہ زیب ٹاٸلوں اور اپنی شاندار طرز تعمیر کے لحاظ سے دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کی مکلی سندھ کی تاریخ، فن و تعمیر، تصوف اور اسلامی تہذیب کا ایک عظيم تاریخی ورثہ ہے جس کی حفاظت کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کی شناخت اُس کی تاریخ سے ہی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ مکلی کا قبرستان پاکستان کی اہم ترین ثقافتی یادگاروں میں سے ایک ہے۔
“حضرت سید عبداللہ شاہ اصحابیؒ ۔”
ویسے تو سندھ کی تاریخ بزرگوں کے روحانی فیض سے بھری پڑی ہے، مکلی کا یہ قبرستان “حضرت سید عبداللہ شاہ اصحابیؒ ۔” کے روحانی فیض سے مالا مال ہے، یہاں روزانہ ہزاروں زاٸرین کی آمد ہوتی ہے، جویہاں آکر روحانی فیض حاصل کرنا چاہتا ہے اور کوٸی مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے بابا صاحب کے فیوض و برکات حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ قلب کی صفاٸی(تزکیہ) کا بھی موقع ملتا ہے، جس سے مراتب میں ۱ضافہ ہوتا ہے، آپ کا جاہ و جلال اس لیے بھی زیادہ ہے کہ آپ کا شجرہ نصب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ(غوث پاکؒ) سے جا ملتا ہے۔
آپ بغداد سے سندھ دھرتی پر تشریف لاٸے اورتبلیغ اسلام، اصلاح معاشرہ اور باطنی و روحانی تربیت دینے میں مشغول رہے، اہل سندھ ان کو بہت عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بابا کے بارے میں کسی اوروقت تفصیلی مضمون تحریر کرونگا، زیرقلم مکلی کا عظیم تاریخی قبرستان ہے جو کہ آپ کے اور دیگر بزرگوں کے مزارات کے ساتھ مقام اہمیت رکھتا ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ مکلی کے قدیم قبرستان میں آپ تشریف فرما ہیں۔ کچھ قبروں کے پتھروں کی خوبصورتی عدم توجہ سے ماند ہورہی یے مگر مضبوطی آج بھی قاٸم ہے، جن قبروں کے پتھر گر گٸے ہیں ان کو سرکاری توجہ کی ضرورت ہے اور یہ ہمارا تاریخی ورثہ ہے اس کی حفاظت بھی ہونی چاہیٸے تاکہ بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک سے سیاح اس تاریخی قدیمی ورثے کو دیکھنے آٸیں تو پاکستان کی آمدنی میں
اور تاریخ کے طلبأ کے علم میں اضافہ ہو۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.