
اُوٹ پٹانگ یادوں کی شاعری
گزرے ہوئے لمحے یاد آئے آنکھ نم ہوگئی
جیسے کسی صحرا میں برسات ہوگئی
ساتھ ہی کچھ سرد ہوا بھی چلنے لگی
پیار کے گرم موسم میں خُنکی بڑھنے لگی
دِل کا اُداس چمن پُر رُونق ہو گیا
کانٹا کوئی دل سے جیسے نِکل گیا
پُھول زِندگی کے مُسکرانے لگے
تار دِل کے جیسے گُنگُنانے لگے
کچھ لَمحے تیری یادوں کے سَتانے لگے
نِکَھر گئے پَتے، ڈالی بھی لِہرانے لگی
تم تھے، خوشبو تھی یا تمہارا عَکسِ رُخ تھا
سَماں آس پاس کا سارا محوِ رَقص تھا
اُف یادیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں
کوئی ساتھ ہو نہ ہو، یہ ساتھ ہوتی ہیں
مَسحُور ہو جاتے ہیں زِندگی کے لَمحے
کُھل جاتے ہیں جب یادوں کے دَریچے
تیری یادوں سے کبھی خود کو بچا نہ سکے
جو گزارے عشق کے لمحے وہ چھپا نہ سکے
کوشش تو بہت کی مِلَن کے لمحے بُھلانے کی
یادوں تمہاری عادت نہیں گئی مجھے رُلانے کی
دردِ دل کیسا بھی ہو، علاج رکھتے ہیں
آنسوئوں کو پِینے میں کمال رکھتے ہیں
ریحان محمود خان(رِم جِھم)
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
