طاقت ایک نَشہ، بڑی مَچھلی چُھوٹی مَچھلی کو کھا جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


طاقت ایک نَشہ، جو سَر چڑھ کر بُولتا ہے، دُنیا کی تباہی کا آغاز بھی طاقت کے ذریعے ہی ہوگا چاہے وہ ایٹمی طاقت ہی کیوں نہ ہو، مَدہوشی اپنی مرضی سے جو دِل میں آئے وہ حرکتیں کرنے کو کہتے ہیں، دُوسروں کا خیال نہ کرنا، اِحترامِ رشتہ داری، عزت کرنا بھول جانا یا اِخلاقیات سے گِری ہوئی باتیں کرنا اور اپنے آپ کو بھی بُھول جانا کہ وہ کیا کررہا ہے اور کِس سے کررہا ہے، نَشہ کہلاتا ہے، نَشہ کسی بھی چیز کا ہو اپنے لیے بھی اور دُوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ہے، جب نَشہ حد سے زیادہ بڑھ جائے تو ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت اِختیار کرلیتا ہے اور وہ بَدمَست، پاگل ہاتھی بن جاتا ہے پھر اُس کے راستے میں جو شے بھی آتی ہے اُس کو رُوندنا شروع کردیتا ہے، تمام زِندگیوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اُسے وقت پہ نہ رُوکا جائے تو سب کی باری آسکتی ہے، اس لیے نَشہ کو حرام کہا گیا ہے کیونکہ پینے پلانے والے کا نَشہ تو مار پیٹ کے اُتارا جاسکتا ہے مگر طاقت کا نَشہ ایسا نَشہ ہے جسے صرف اُس سے بڑی طاقت سے ہی ختم کرسکتی ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بڑی طاقت ہی “شُتر بے مَہار” یا منہ زور 🐎 گھوڑا ہی بے لگام ہو تو کیا ہوگا؟ یقیناً بہترین منصوبہ بندی، اعلیٰ دِماغی قوت اور اِنتہائی جدید ٹیکنالوجی سے ہی رُوکا جاسکتا ہے۔
اِیٹمی طاقت کے زُعَم میں رہنے والے اگر جلدی نہ سمجھیں بعد میں سمجھیں کہ مُستِحکَم معیشت خود ایک طاقت ہے، اِیٹمی طاقت کے بغیر رہا جاسکتا ہے مگر کمزور اور گرتی ہوئی معیشت کے بغیر زیادہ دیر بڑی بڑی حکومتیں زمین پر آجاتی ہیں، چین کی حِکمت عملی دیکھیئے کہ وہ ایٹمی سُپر پاور ہونے کے باوجود نہ کسی پر حملہ کرتا ہے نہ کسی کو دَھمکی دیتا ہے، اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک خاموشی اور مضبوط جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ منصوبہ بندی کر کے پوری دُنیا کی معیشت کو کنٹرول کررہا ہے، مضبوط معیشت جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ قدرتی معدنیات، وسائل، قیمتی قدرتی ذخائر، تیل و معدنیات کا کنٹرول ہی طاقت کے توازن کو ثابت کریگا۔ آٹھ جنگوں کو رُوکنے کا سِہرا باندھنے والا اور نُوبل اِنعام کا حق دار آج جنگی جرائم “(میری طاقت میری مرضی)” کر بیٹھا، کسی کے گھر سے کسی کو، وہ بھی ونیزویلا پر حملہ کر کے صدرنِکُولَس مادُور واہلیہ کو اُن کی رِہائش گاہ سے اُٹھانا اور اَمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کابیان دِینا کہ “ہم اپنی طاقت کا اِظہار کہیں بھی کرسکتے ہیں” اور ونیزویلا کو اُس وقت تک چلائیں گے جب تک اُس کے اِقتدار کی مُنتقلی مِحفُوظ اورمُنصِفانہ ہاتھوں میں نہیں آجاتی تَب تک تمام تیل کمپنیاں امریکہ سے کنٹرول کی جائیں گی، یہ اِیران اور دُوسرے ملکوں کو عَندیہ یا نُوشتہ دِیوار یا دَھمکی سَمجھ لینا چاہئیے، کیا اَغوَا، ضِد اور ہَٹ دَھرمی کے زُمرے میں نہیں آتا؟ بڑا یہ حرکت کرے تو طاقت کہلاتی ہے اور چھوٹا یہ حرکت کرے تو “اَغوَا کار” واہ، واہ، آپ ہی قانون، آپ ہی مجرم اور آپ ہی منصف اور آپ ہی اُس پر فوراً فردِجرم بھی عائد کریں، نِکولَس مادور معہ اہلیہ پر فردِ جُرم دِہشت گردی، اسمنگ لنگ اوراسلحہ کی غیر قانونی برآمدگی کے اِلزامات ہیں, سب سے سَنگین اور غَلط بات یہ ہوئی کہ ایک ایسے جُرم و رَسم کی اِبتدا ہوگئی کہ اقوامِ مُتحدہ سے اجازت لیے بغیر کوئی بھی یہ قَدم اُٹھا سَکتا ہے، یعنی کوئی بھی ملک جب چاہے اپنے مذموم مقاصد کے لیے لشَکر کَشی کر سکتا ہے، یعنی ” نیو ورلڈ آڈر” عَملاً نافِذ ہو چکا ہے، جس سے دُنیا کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ہم جب، جہاں چاہیں اور جو چاہیں کرسکتے ہیں، اِس سے پہلے اِسرائیل بھی یہی غزہ کے ساتھ یہ سب کچھ کررہا ہے، اقوامِ متحدہ مانے یا نہ مانے اس کا عَمل دَخل اور وَجود بالکل بے معنی ہو گیا ہے، ٹَرمپ گزشتہ دِنوں کہہ بھی چکے ہیں کہ ہم اقوامِ متحدہ سے اچھا کام کررہے ہیں۔
امریکہ کے ہتھیاروں کی ری چیکنگ اور سَمُندَرمیں لانگ رینج والے میزائل کے کامیاب تجربے۔ نے ثابت کیا کہ آگے کیا ہونے جارہا ہے، فَرانس، چِین، رُوس، اِیران، کُولَمبِیا، کِیوبا سمیت عالمی رہنمائوں کی مزمت،سلامتی کونسل بلانے بلانے کا مطالبہ کردیا۔

امریکہ کے اِس اِقدام سے ا؟نےفغانستان کا واقعہ سامنے آگیا کہ افغانستان پر “9 الیون حملہ” کا قصور وار کہہ کر دہشت گردی کا الزام لگایا اور 20 سال تک اس کے وسائل پر اپنی کمپنیوں کو قبضہ دیا اور اب وَنیزوِیلا کی قدرتی معدنیات قابو میں کرلیں، اِس کا مطلب یہی نکل رہا ہے کہ اب بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کا شکار کریں گیں، چھوٹے اور غریب ملکوں میں عدم تحفظ جاں گزیں ہوگا تو وہ بھی اپنے حفاظت کے لیے اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے کو ترجیح دیں گے جس خود بخود عالمی دنیا میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہو جائے گی اور ہم سب اپنی تباہی یعنی دُنیا کو تباہی کی طرف لے جانے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ جنگ اور موت کے بازار میں سب سے زیادہ قیمتی آپ کی اپنی جان ہوتی ہے، بجائے اِس کے کہ ہم اپنی جدید ٹیکنالوجی سے دنیا کو زِ ندگی کے لیے محفوظ بنائیں آگ میں دھکیل رہے ہیں، جہاں صرف اور صرف طاقت زندہ رہے گی جہاں سب ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے میدانِ عمل میں خود بھی تباہی ہونے سے نہیں بچ سکیں گے، امن کے راگ الاپنے اور زبانی دعوئوں سے کچھ نہیں ہوگا، جب تک ہم ایک دوسرے کو جینے کا حق نہیں دیں گے اور اپنے وسائل سے اپنے مسائل حل کرنے کی عادت نہیں ڈالیں گے۔ ورنہ آج کسی کا گھر جلا تو کل ہمارا بھی محفوظ نہیں رہے گا، شاید یہ بات ہماری ملکی سلامتی کے اِداروں کو بہت پہلےہی یہ بات سمجھ میں آگئی تھی اور وہ مُلکی دِفاع سے غافل نہ رہیں، “معرکہ حق” کی کامیابی کے بعد بھی زخمی دُشمن کی عَیِارانہ چَال اور “شب خُون مارنے کی عَادت” کو سمجھتے ہوئے دفاع کومزید مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں، سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ترکی، چین اور پاکستان کے اشتراک کی تیار کی ہوئی آبدوز سمندر میں اُتاری، پاک فضائیہ کا مقامی طور پر تیار کردہ “تیمور ویپن سسٹم” خُودکِفالَت کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے، جدید نیویگیشن، گائیڈنس نظام سے لیس (تیمورایئرلانچڈ کروز میزائل) کا ، گزشتہ روز کامیاب تجربہ کیا جو کہ کم بلندی پر پرواز کرنے والا اور دُشمن کے ایئر میزائل ڈیفنس سسٹمز (اے۔ایم۔ڈی۔ایس) کو دُھوکہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو 600 کلومیٹر تک زمینی و بحری اِہداف کو نِشانہ بَنانے کی بھی بھرپور صلاحیت رَکھتا ہے جس سے دُشمن پر مزید ہیبت طاری اور اُن کی صفوں میں مُوت کی خاموشی طاری ہوگئی ہوگی، عالمی س سَطح پر بڑھتے ہوئے حالات کے پیشِ نَظر یہ تجربہ بہت ضروری تھا، اِس کامیاب تجربے پر میں اِقتدار میں موجود سیاسی قائدین اور فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بشمول پاک فضائیہ اور “پاکستان ایٹومک اِنرجی رِیسرچ” ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دُعا گو ہوں کہ اللٌٰہ تعالیٰ ایسی ہزار کامیابیاں آپ کے دَامن میں عَطا فرمائے۔آمین


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading