تحریر: ریحان محمود خان
“نصرُمٌِنَ اللٌہِ و فَتحُ النٌقریب”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” میری خدمات کا یہ صلہ دیا تم نے”
“اپنی حفاظت پہ مجبور کردیا تم نے”
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان کے حملہ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے، پاکستان نے افغان جنگ سے پہلے بھارت کا شوق پورا کردیا تھا، اب افغانستان کا شوق پورا کردیا، بِلا اِشتعال فائرنگ اور حملہ کا جواب تو بنتا ہے، جس کو دیکھو تَرنوالہ سمجھ رہا ہے، چین نے ببانگِ دُہَل کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں مداخلت کریں گے؟ صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر عظیم ہیں، دونوں کا اِحتَرام کرتا ہوں، اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے، میں مداخلت کرسکتا تھا مگر میرے پاکستان کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں، پاکستان بہترین طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے، ٹرمپ کا یہ بیان پاک امریکہ دُوستی کو پائیداری کی طرف لے جائے گا، افغانستان کو پاکستان نے بار بار اور برملا کہا کہ ہم لاشیں اُٹھاتے اُٹھاتے تھک گئے ہیں، اب افغانستان نے دہشت گردوں کو لگام نہیں دی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، مگر اُس پر کوئی اثر نہیں ہوا، پاکستان پر حملہ کے جواب میں بھرپور جوابی کارروائی کی گئی جس سے طالبان دہشت گرد اپنی چپلیں، سامان، اسلحہ اور اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، صاف ظاہر ہے کہ دَرپَردَہ بھارت اور اِسرائیل یقینی مدد کررہے ہیں، اسرائیل کو ہم نہیں کہتے مگر قارئین جیسے ہی مجھے اخباروں کے ذریعے یہ خبر ملی کہ نریندر مودی نے اِسرائیل کا ہنگامی دورہ کیا اور اس کے ایک دن بعد ہی افغانستان اپنی فضائی حدود سے پاکستان پر ڈروُنز کے ذریعے حملہ کردیا، افغانستان میں اتنی ہمت کہاں، مگر جو خوارج فتنہ الہندوستان اتنی بڑی تعداد میں مارے جارہے ہیں اُس سے یہ ہی محسوس ہورہا ہے کہ یہ حملوں کی ابتدا ہے، افغانستان اپنے دوستوں کی مدد سے کوئی بھی بڑا حملہ کرسکتا ہے، ہو سکتا ہے کہ بھارت نے افغانستان سے کہا ہو کہ تم پاکستان کو اپنی طرف اُلجھائو ہم اسرائیل کی مدد سے اپنی طرف سے فضائی حملہ کر کے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائیں گے، یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہوشیار رہا جائے، “بند باندھ کر سو نہ جانا، دریا آخر دریا ہے” ۔
پاک فوج کو افغان سرحد پر مصروف دیکھ کر بھارت بزدلانہ حملہ کرسکتا ہے، افغانستان، پاکستان کا اِسلامی بِرَادَر ملک ہے، پڑوسی ہونے کے ناطے اُس کی طرف سے بے شرمی اور بے غیرتی کی اِنتہا کردی گئی، 40 سالہ خدمات کے صلے میں مہمان نوازی کا جواب، اِس طرح دیا جارہا ہے، افغانستان میں اگر اِسلام کی رُوح پر عمل کیا جارہا ہوتا تو وہ یہ بھی جانتے ہونگے کہ اِسلام میں احسان کا جواب صرف احسان ہے، پاکستان نے افغانستان کی خود مختاری کی حفاظت میں اپنی معیشت، اور مستقبل کو داؤ پر لگایا، پاکستان میں مہنگائی کا طوفان اور کلاشنکوف کلچر معاشرہ وجود میں آیا، دہشت گردی میں اضافہ ہوا، پاک فوج نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے تمام ڈروُنز حملوں کو ناکام بناکر سب کو تباہ کردیا، پھر پاک فوج نے” معرکۂ حَق ” کی طرح ” غَضَب لِلحَق” کے ذریعے افغانستان کو بھرپور جواب دیا گیا۔
پاکستانی افواج وطنِ عزیز کی ایک ایک اِنچ کی حِفاظت کرنا جانتی ہے اور کررہی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ دُشمن کی جارحیت کا جواب دے رہی ہے، اِس موقع پر مُسلح افواج بہت سوچ سمجھ کر مخصوص مقامات پر جوابی کارروائی کی اور افغانستان میں چترال، خیبر مہمند،کرم ایجنسی اور باجوڑ میں سرحدی خلاف ورزیوں پر سیکیورٹی فورسز نے موجود متعدد دہشت گرد اور ان کے ٹرینگ سینٹرز اور تمام کواڈ کاپٹرز تباہ کردیئے، پاکستان کے اس آپریشن ” غَضَب لِلحَق” کے باعث، 274 طالبان ہلاک، 400 سے زیادہ زخمی، متعدد بکتر بند گاڑیاں اور 115ٹینک تباہ، اس کارروائی میں پاکستان کے 12 فوجی جوان شہید، 27 زخمی یوئے، تمام حملہ آور ڈرونز بھی مار گرائے گئے، صوابی، ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں فتنہ الخُوارِج کے حملے ناکام بنادیئے گئے، پاک فضائیہ نے کابل میں اِنفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، رات کے اندھیرے میں چمکتے ہوئے گولہ بارود( فائر ورکس) پوری دنیا نے آن لائن دیکھے، پاکستان کی مشرقی یا مغربی سرحدوں پر کارروائیاں کرنے والے بھارت کے انجام سے شاید بے خبر ہیں، چین، روس، قطر، ترکی، ایران اور سعودی عرب نے پاک افغان صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ثَالِثٌی کی پِیش کش کرتے ہوئے دُونوں مُمالک کو بات چیت کے ذریعے اِختلافات حل کرنے پر زور دیا،جمعیتِ عُلمائے اِسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاک افغان کی بگڑتی ہوئی کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے گہری تشویش اِظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی افغانستان سے شکایات جائز ہیں، یہ اِس موقع پر بہت بڑا بیان ہے اور پاکستان کے موقف کی تائید بھی ہے جس کی اِس موقع پر شدید ضرورت تھی، یہ بیان وہ بھی اِس وقت، آگ پر پانی ڈالنے کے مُترادِف ہے، کیونکہ مولانا کے اثرورَسُوخ اور اہمیت کا اِن علاقوں میں کوئی بھی اِنکار نہیں کرسکتا، عوام پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگا رہی ہے، اس وقت پوری قوم جاگ رہی ہے، سب کچھ دیکھ رہی ہے اور متحد ہونے کے ساتھ ساتھ پوری قوم صرف پاکستانی ہے.
پاک فوج نے جب ان کی تربیت گاہوں پر قبضہ کیا تو احترام سے اُن کے جھنڈے کو اتارا، کیونکہ افغانستان کے جھنڈے پر کلمہ طیب تحریر ہوتا ہے اور پاکستان کا جھنڈا لہرایا، پاک فوج نے تقریباً 73 پوسٹیں تباہ کیں،پاک فوج نے اِس عزم کا اعادہ کیا کہ اپنے مقاصد کے حصول تک آپریشن ” غَضَب لِلحَق” جاری رہے گا۔
” پاکستان ہمیشہ زِندہ باد”
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
