تحریر : ریحان محمود خان
“ہم سب تماشائی ہیں“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالم اِسلام کے ایک رہنما، آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت وہ بھی اپنی پوری فیملی کے ساتھ، اپنوں ہی کی مُخبَری لگتی ہے، ایک سانحہ اور ظُلم و جَبَر کی ایک دردناک داستان ہے، اس کے ساتھ ہی ہماری خود غرضی، اپنے مفادات کی ترجیح اور اِسلام سے دوری کی بہت بڑی مثال ہے، رَاقم (15) سال سے زیادہ عرصے سے اپنے کالموں میں جن باتوں سے آگاہ کرتا آرہا تھا وہ وقت ایک حقیقت بن کر بلکل سَر پہ آگیا ہے، بلکہ پانی اَب سَر سے اُونچا ہوگیا ہے مگر ہم خُوابُ و خَرگوش کے مزے لے رہے ہیں، صلیبی جنگ شروع ہوچکی ہے، جس کو بعد میں مارنا یا نشانہ بنانا ہے، اُسے پیارسے تَھپ تَھپایا جارہا ہے، پہلے اُس تک پہنچنے کے لیے راستہ بنایا جارہا ہےاور تنہا کرنے کا جال بُنا جارہا ہے، پہلے بھی الزامات لگا کر جس کا سر پیر ہی نہیں ہوتا کئی ملکوں، عراق، افغانستان، ونیزویلا اور اب ایران کو دھمکا کر ، جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگا کر صاحب بہادر نے اسرائیل کو پہل کرنے کا اشارہ دیا، پھر خود بھی جنگ کے میدان میں کود گیا اور ایران پر جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ چڑھائی کردی ہے، مگر مقصد ابھی پورا نہیں ہوا، صرف اپنی مَن پسند حکومت(رجیم چینج) قائم کرنے کے لیے امریکہ کچھ بھی کرسکتا ہے، زمینی فوج بھیجنے کا مطلب تخت اُلٹنا اور اپنی مَرضی کی حکومت بنانا ہے، یہ سب سے بڑی غلطی نہ ہو، پہلے امریکہ کی پالیسی یہ تھی کہ “لڑاو اور حکومت کرو” اب یہ پالیسی ” حکومت گرائو اور غلام بنائو” پالیسی میں تبدیل ہوگئی ہے، یہ نیوورلڈآرڈر/گریٹر اسرائیل کا تسلسل ہے، چھوٹی جنگیں ختم کرواکر بڑی جنگ کا آغاز کیا گیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقوام متحدہ سے اجازت لی گئی؟ ان عوامل کو بھانپتے ہوئے، فیلڈ مارشل نے امریکہ میں صاف الفاظ میں کہا کہ اگر ہمیں گرانے کی کوشش کی گئی تو “ہم اپنے ساتھ آدھی دنیا کو لے کر جائیں گے” اس کا کیا مطلب اور کیا بات پوشیدہ ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاک فوج کو پاکستان کے مستقبل میں پیش آنے والی سازشوں کا علم ہے، جو انہوں نے سپر پاور کے سامنے ببانگ دُہل کہا، اللہ پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حفاظت فرمائے، آمین، آج جو دنیا کے اسلام میں پاکستان کی کامیابیوں ڈنکا بج رہا ہے، پاکستانی فوج کے عملے، ماہر انجینیئرز اور سائنسدانوں کی طویل عرصے کی دِن رات کی محنت، لگن، صبر و تحمل اور دماغی صلاحیتوں کی کہانی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو ایران سے پہلے پاکستان کا نمبر ہوتا، کوشش بھی کی گئی، اسلامی ملک کو اسلامی ملک سے لڑایا گیا، اِس طرح دُونوں ہی کمزور ہوگئے اور آسانی کے ساتھ سُپر پاور کے سَر نِگوں ہوگئے، ہماری قوم تو ویسے بھی بِکھری ہوئی ہے، آسانی سے شِکار ہوجاتی ہے، اِیران ایک سُلجھی ہوئی بہادر اور مُتحد قوم ہے، جس نے اپنی سِیاسی اور فوجی قِیادت کی قُربانی دِینے کے باوجود امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال پامردی اور جواں مردی سے مِیدانِ جنگ میں ڈٹی ہوئی ہے، ایران کے جُوہری ہتھیاروں کی تیاری کو وہی رُوک سکتا ہے جس نے جُوہری ہتھیار نہیں بنائے ہوں، صرف اِسرائیل کی بقاء کے لیے یہ جنگ زبردستی تھوپی گئی ہے، اِیرانی قوم اِس وقت آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے غَم میں ڈوبی ہوئی ہے مگر اِیران کے تَرجمان کا بیان سامنے آگیا ہے کہ ہم کو غُلامی قبول نہیں، دیکھا جائے تو ایران کوئی نیاء ملک نہیں اِس کا پرانا نام فارس ہے، یہ قوم ظالموں کے سامنے نہ کل جُھکی تھی نہ آج جُھکے گی، دُشمن کل بھی اِس کو مِٹانے میں ناکام رہے اور آج بھی اپنی مُوت آپ مَر جائیں گے:
جو لوگ سَر اُٹھا کے جینے کا فَن جانتے ہیں
وہ راہِ حق میں شَہید، زِندہ جاویداں ہیں
یزید کے سامنے صرف بیعت ہی کا مسئلہ تھا۔
حسین(ع)نے سر کٹانا تھا، اِسلام بچانا تھا۔
دینِ حَق کی آبرو، حق گوئی، قُربانی، وَطن پرستی ہے۔
شِمَر کو ہے معلوم، وہ کل بھی یَزِیدتھا، آج بھی یَزِید ہے۔
طاقت کے نشے میں انسان، انسانیت کھو دیتا ہے۔
طاقت اور تکبٌر صرف اللہ کو زیب دیتا ہے۔
جب بھی آلِ رَسول(ص) پہ کڑا وَقت آیا، کربلا کہلائی۔
سَر کٹتے رہے، دیکھتا رہا زمانہ، مدد کو آیا نہ کوئی۔
ظالِم کو رُوکنے کی طاقت دی تھی تم کو۔
جواب آقا کے سامنے دینا ہے تمام اُمت کو۔
آج گھر جلا ہے پڑوسی کا، خود کو محفوظ نہ سمجھ۔
آج تمہارے بھائی کی باری ہے، کل باری اپنی سمجھ۔
حیرت، ایران دُشمن کے سامنے اکیلا ہی کھڑا ہے۔
شِیم۔۔۔ہر اِسلامی ملک، امریکہ کے سَنگ کھڑا ہے۔
یزید کتنا ہی ظُلم کرلے، مُقدر میں اُس کے ذِلٌَت کی مُوت ہے۔
حسین (ع) کل بھی زِندہ تھا، حسین (ع) آج بھی زِندہ ہے۔
اللہ ایران کو طاغوتی قوتوں کو شکِست دینے کی قوت اور اِسلامی قوموں کو مُتٌَحد ہونے کی توفِیق عَطا فَرمائے، آمین
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
