تحریر: ریحان محمود خان
“جن پہ تھا تکیہ وہی پتے ہوا دینے لگے، ٹرمپ جی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرمپ جی۔۔۔۔ بس اَب “اَپنا بُوریا بِستر لپِیٹ لُو، کیونکہ جِن پہ تھا تکیَہ وہی پَتٌِے ہَوا دِینے لگے۔
میرے کالموں کی سَچَائی ایک بار پِھر سَامنے آگئی، جس میں میں نے کئی بار تحریر کیا ہے کہ “کسی بھی ملک کی عوام غلط نہیں ہوتی، یہ برسرِ اِقتدار لوگ جو اُسی عوام کے وُوٹ سے مُنتخب ہوکر آتے ہیں اور اِنہی کے مُستَقبل کے خواب چکنا چُور کردیتے ہیں، ہُوا بھی یہی کہ ” اُلٹی ہوگئیں سب تَدبِیریں کُچھ نہ دَوا نے کام کیا” اب یہی نَعرہ لگ رہا ہے کہ ” بادشاہ نہیں” چاہیئے، جس نے امریکہ کو اسرائیل کی جنگ میں پھنسا دیا ہے اور امریکی عزت بھی دائو پر لگادی ہے، میں نے گزشتہ کالم “ایک چال کُفر چلتا ہے اورایک چال اللٌٰہ چلتا ہے” میں نے بھرپور تجزیہ کرتے ہوئے “نوشتہ دیوار” تحریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ کو اب اپنی جھوٹی کامیابی کا شور مَچاتے ہوئے یہ کہہ کر اِس جَنگ سے نِکل جانا چاہیئے کہ امریکہ کو وقت سے پہلے ہی کامیابیاں مل گئی ہیں، ہم دُنیا کو مزیدجَنگ کی آگ میں نہیں جُھونک سکتے، مگر غروروتکٌبُر میں اَکڑی ہوئی گردن میں جو “سَریا” پڑا ہوا تھا وہ اُسے جُھکنے نہیں دے رہا تھا، ٹرمپ کو بہت اچھا مشورہ دیا تھا مگر ٹرمپ جلد ہی ” آپ اپنے دَام میں صَیَاد آگیا” یعنی شِکاری خود اپنے بنائے جال میں پھنس گیا، یا یوں کہا جائے کہ ” جِس کے لیے قَبرتیار کی وہ خود اُس میں گِر گیا” یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کی جس نے اِیران میں ” رِجِیم چِینج” کرنے کی کوشش کی اُس کی بادشاہت خُود بَخود تبدیل ہونے والی ہے، کیونکہ ٹرمپ کی اِیران پر جنگ مُسلط کرنے کے خلاف امریکی عوام جاگ گئی، گزشتہ روز ہفتہ 28/مارچ 2026ء کو واشنگٹن سمیت امریکہ کے مُتعددشِہروں میں “نوکنگز” کے مَظاہروں سے امریکی “سینیٹر برنی سینڈرز” نے اِنتہائی گرجدار آواز میں خِطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نے امریکہ کے قانون کو ✋ ہاتھ میں لے رکھا ہے اور پوری دُنیا کو بُحران میں مُبتلا کیا ہوا ہے، یہ جنگ غیر آئینی ہے اِس کی اِجازت نہیں لی گئی، بس” اب اور نہیں بادشاہ سلامت” یعنی “نومورکنگز”یہ آج ہمارا پِیغام ہے، امریکی عوام سے ایران جنگ کے حوالے سے بھی جھوٹ بولا جا رہا ہے، ہم اپنے ملک میں آمریت نہیں چاہتے، امریکی سینیٹر نے مزید کہا کہ امریکی تاریخ میں پہلے کبھی اپنی طاقت کا کسی نے اِتنا غلط اِستعمال نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ امریکی عوام سے ویتنام اورعراق سے متعلق جھوٹ بولا گیا، ایران کے خلاف جنگ نیتن یاہو نے شروع کی، جس سے 2000 ایرانی شہید ہوئے، جس میں بے گناہ اور معصوم 186 طالبات شامل ہیں، جن کے اسکول کو تعلیم حاصل کرتے وقت جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، ان شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اِن مَظاہروں میں 70 لاکھ امریکی عوام نے شرکت کی اور وہ ٹرمپ کے خلاف پُرجوش نعرے لگا رہے تھے، اِس جنگ سے امریکہ کی معیشت کو ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا، دراصل حقیقی تبدیلی، زبردستی شروع نہیں ہوتی، کسی بھی ملک میں عوام کی اُمنگوں کے مُطابق تبدیلی آتی ہے، اِن کامیاب اور زبردست مَظاہروں سے معلوم ہورہا ہے کہ ٹرمپ کو نہ صرف اپنی “جنگی دُوکان” بند کرنی پڑے گی بلکہ جنگی جرائم کا بھی عوامی کٹہرے میں جواب دینا پڑے گا، وزیرِ اعظم پاکستان، شہباز شریف نائب وزیرِ اعظم، اسحاق ڈار، ایرانی وزیرِ خاجہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جَنگ بندی کی کوششیں رَنگ لارَہی ہیں، اگر پاکستان کی سِفارتی سطح پر کاوشوں کے ذریعے جنگ بند ہو جاتی ہے اور دُنیا میں مذاکرات سے امن قائم ہوجاتا ہے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف، عالمی امن کے “نوبل انعام” کے حقدار ہونگے، کیونکہ مصر، سعودی عرب، کویت، ترکی، متحدہ عرب امارات، دبئی، لبنان، شام، اسرائیل، اِیران اور اُردن سمیت 10 ممالک کی جنگ رُکوانے اور امن قائم کرنے میں کردار سامنے آئے گا، اِن شاءاللہ اور ہمیشہ کے لیے یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ کوئی ملک دُوسرے ملک کو ختم نہیں کرسکتا اور نہ اِس کے اندرونی مُعاملات میں “ٹانگ” اَڑا سَکتا ہے، ٹرمپ کی “ٹانگ” کا اَنجام سب کے سامنے ہے، جو ٹانگ اڑائی تھی پتہ نہیں وہ کونسی ٹانگ ہے، ۔ اِس سے پہلے کہ امریکی معاملات مزید گھمبِیر ہو جائیں، ٹرمپ کو معافی مانگ کر ہرجانہ ادا کرنا چاہیئے اور امریکی فوجی واپس بلالیناچاہیئے، یہی امن قائم کرنے کا واحد حل ہے۔ یقیناً یہ ٹرمپ حکومت کو ایک زبردست جَھٹکا اور ٹرمپ پر عَدم اعتماد بھی ہے، ساتھ ہی ٹرمپ پہ خطرناک الزامات بھی ہیں، جو جنگی جرائم اور ملک سے غداری کے زُمرے میں آتے ہیں، اب یہ فیصلہ تو امریکی عوام ہی کرے گی۔
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
