پاک ۔ سعودی دِفاعی مُعاہدے کی مقبولیت میں اِضافہ

پاک ۔ سعودی دِفاعی مُعاہدے کی مقبولیت میں اِضافہ
تحریر: ریحان محمود خان –

تازہ ترین اطلاع کے مطابق پاک ۔ سعودی معاہدے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اِسلامی ممالک کو ہوش آنا شروع ہو گیا ہے، اِس طرح کی تجویز کا اِظہار اسپیکر اِیرانی پارلینت محمد باقر نے پاک۔ سعودی دفاعی معاہدے ” میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ” او۔آئی۔بی”‘ کی طرز پر اسلامی فوج بنانے کی تجویز بھی پیش کی ، اُنہوں نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اِسرائیلی جارحیت کے دوران جِس طرح اِیران کا ساتھ دیا، وہ ” قابل فخر”‘ ہے۔ ممالک کے باہمی تعاون سے ہی خطے کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، دِفاعی معاہدے میں اِیران کے شامل ہونے سے خطے اور دُنیاء میں امن وسلامتی کے لیے کی گئی کوششوں میں مزید اضافہ ہوگا ، ایک ملک پر حملہ معاہدے میں موجود تمام اِھءئسلامی ممالک پر حملہ تصور ہوگا ، سب مل کر اِس حملے کا مقابلہ کریں گے جس سے پائیدار امن اور یکجہتی کے حصول میں حائل روکاوٹیں دور کرنے میں مدد ملے گی اور اسرائیلی جنگی عزائم میں رکاؤٹ آئے گی جو کہ “&شتر بے مہار ” یعنی “‘بے لگام”‘ معصوم نسلِ اِنسانی کے قتلِ عَمد ( جان بوجھ کر قتل کرنا) کا مرتکب ہو رہا ہے اور اپنے عالمی جنگی جرائم میں اِضافہ کرتا جا رہا ہے، ایران کے عوام اور اُن کے قائدین کی صلاحیتوں کی معترف تو پوری دنیا پہلے ہی ہے مگر جس طرح رواں سال اِسرائیلی حملوں، امریکی بمباری اور ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود اِیران کا اِستقامت اور بہادری کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہنا اور مقابلہ کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حوصلوں اور اتفاق کو آسانی سے شکست نہیں دی جا سکتی ۔ گذشته ماه میرا مضمون ( قطر پر حملہ۔ اسلامی ممالک کے لئے خطرے کی گھنٹی ) انگریزی روز نامہ اسٹار پلس میں پاک سعودی اسٹریٹیجک با ہمی ” دفاعی معاہدہ (SMDA) ہوا، جس کا مقصد ہی یہ تھا کہ دونوں ممالک میں سے کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کی گئی تو دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دُونوں مِل کر اُس کا مقابلہ کریں گے، اِس سے متعلق رَاقم نے یہ تحریر کیا تھا کہ اِس خطے موجود دیگر اِسلامی ممالک بھی آہستہ آہستہ شراکت کی کوشش کریں گے، اُس مضمون کی تصدیق ہوگئی ، وہی ہورہا ہے جو قلم زد کیا تھا، دراصَل جدید دُنیا کی طاقت کا نظام بہت تیزی کے ساتھ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے ، اب کوئی طاقت زیادہ دیر کسی کو دباؤ میں رکھ کر زبردستی غلام نہیں بنا سکتی ، اِسلامی ہو یا غیر اِسلامی مُلک، اپنی حفاظت اور دِفاع کے لیے “‘ڈر”‘ نکال کر نیٹو بلاک کے مد مقابل عالم اِسلامی دِفاعی بِلاک” (WIDB) بنانا پڑے گا ، اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی بین الاقوامی سرحدوں کے قریب ہمسایہ ملکوں سے رابطوں اور دوستی کو مضبوط کرنا پڑیگا، یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت اور عوام انتہائی ایمان داری کے ساتھ اپنے ملک سے مخلص ہیں، یہی وجہ ہے کہ کم وقت میں کئی دہائیوں کی برائیوں کا اِدراک کر کے اُسے ختم کیا جا رہا ہے، ہمسایہ ملک “‘بنگہ دیش”‘ سے دُوستی کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے، پاکستان کی قیادت نے بھی اِس دوستی کو لبیک کہتے ہوئے ہمسایہ روابط اور معیشت کے اِستحکام کے لیے باہمی امُور پر مذاکرات اور دونوں ممالک کے وفود کے دورے شروع ہو گئے ہیں، امید ہے کہ پاک۔ بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان دوستی کا نیاء دور خطے میں امن کی کوششوں کو مضبوط کریگا۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت ملک کی صورتحال بہتر کرنے میں رات و دن محنت کر رہی ہے وہاں عسکری قیادت بھی اُن کے شانہ بشانہ ملک کو ترقی دینے کے لیے ہر سطح پر کوشاں ہے ، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اِس سلسلے میں اِنتہائی مُتحرک نظر آتے ہیں، برطانیوی فوج کے چیف آف جنرل اِسٹاف، جنرل سر چارلس رولینڈ ونسنٹ واکر نے (GHQ) راولپِنڈی میں فیلڈ مارشَل عاصم منیر سے ملاقات کرتے ہوئے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان “دفاعی تعاون” بڑھانے پر اتفاق، باہمی دلچسپی کے امور اور باہمی سلامتی کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ، مُعزز مہمان نے فوج کی دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی تعریف کی اور فوج کی کاوشوں کو سراہا۔ فوج کا جدید خطوط پر جدید ٹیکنالوجی کے تحت تیار رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ امریکہ کا تیس (30)سال بعد بینُ البرٌاَعظم (III۔Minuteman) بلیسٹک میزائل جو کہ امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے “‘نیوکلیئر ڈیٹرنس سِسٹَم”‘ کا حصہ ہے کا کامیاب اِیٹمی تَجربات کا آغاز ٹرمپ کے حکم پر کر دیا ہے، جس کے جواب میں رُوس کے صدر ویلادی میر پیوٹن کا فوری اِنتباہ سامنے آگیا کہ اگر امریکہ نے جوہری تجربات دُوبارہ شروع کیے تو رٌوس بھی اِقدامات اُٹھائے گا، پیوٹن نے کریملن میں سلامتی کونسل کے اِجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یا “‘سی ۔ ٹی۔ بی۔ ٹی” کے کسی بھی دَستخط کُنندہ نے جوہری تجربات کیے تو رُوس بھی جواب دینے کا پابند ہوگا۔
واضح رہے کہ( سی۔ٹی۔بی۔ٹی) مخفف ہے”‘ کمپری ہینسیو نیوکلیئر ٹیسٹ بین ٹریٹی “‘ جامع اِیٹمی تجربات پر پابندی کا معاہدہ کہلاتا ہے، جسے اَقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1996ء میں منظور کیا تھا، اِس معاہدے پر 190 ممالک نے دستخط کیے۔
دو طاقتوں کے بیان سے ظاہر ہو رہا ہے سرد جنگ اب گرم ماحول کو جنم دے رہی ہے، چھوٹی جنگیں ختم کر کے دُنیا کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیلنے کی تیاری لگ رہی ہے یعنی ”نیو ورلڈ آڈر” یا ” گریٹر اسرائیل”‘ یا “‘دَجٌالی فتنے”‘ کی آمد کے اِِستقبال کی تیاری ” مُعاہدہ اِبراہیمی بزور طاقت منوانے کی تیاری اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، یہ سب ایک ہی باتیں ہے، صرف نام مختلف ہیں ، یہ باتیں نئی نہیں ہیں، بس سمجھنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ، ہے کچھ، دکھایا کُچھ اور نظر کچھ آ رہا ہے جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ دنیا دُو (۲) حصوں میں ظالم ( طاقتور ) اور مظلوم (کمزور) میں تقسیم ہونے جارہی ہے، جو کہنا مانے گا زندہ رہے گا وہی مظلوم ہو گا، مگر قدرت کا قانون ہے کہ “‘ظلم
جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو مِٹ جاتا ہے”‘، آخر میں یہی کہونگا کہ اللٌٰہ خیر کرے، سب اِنسانوں کو محفوظ رکھے، ایسا کچھ نہیں ہو جس سے تباہی پھیلے، آمین ۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading