افسوس ہمارا معاشرہ بے حسی، بے شرمی،بے غیرتی کا شکار ہوگیا

آج کل ہم کہیں بھی، کسی جگہ بھی موبائل ہاتھ میں لیے ہوئے کسی واقعہ کے وقوع
پزیر ہونے کے اُس لَمحے کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں کہ ہماری شخصیت وہ ہو، جو اِس خبر کو سب سے پہلے اپنے چینل کا حصہ بنائے، چاہے وہ شخص جو کسی حادثے کے سبب ہمارے اور مجمع کے سامنے پڑا موت و زیست کی کشمش میں تڑپ رہا ہے، جسے اِیمرجَنسی ٹریٹمنٹ دیکر، جلد اَز جلد ہسپتال پہنچایا جاسکتا ہے، جس سے اِس کی جان بچ سکتی ہے، مگر ہم بے حسی دکھا تے ہوئے تصویر بنانے میں منہمک رہتے ہیں اور وہ بے چارہ اِس جہانِ فانی سے ملکِ عَدم روانہ ہو جاتا ہے اور اِس پر ہم ہی سب سے بڑے ہمدرد بن کر زمین و “:آسماں کے قلابے ملانا”‘ شروع کر دیتے ہیں، قارئین میں اور میرے فیملی ممبران، دوست احباب سمیت کراچی کا ہر طبقہ، مذاہب اور زبان سے تعلق رکھنے والے کی آنکھیں اَشکبار ہیں، جو بچہ ہماری اور ہمارے معاشرے کی بداخلاقی، بے حسی، بے شرمی اور بے غیرتی کا شکار ہوگیا، میں بھی اُن ہی لوگوں میں شامل ہوں اور صرف اِتنا کہہ سکتا ہوں کہ “
‘حسرت ہے اُن غنچوں، کلیوں اور پھولوں پہ جو بِن کھِلے مُرجھا گئے”‘ ۔جب اِس دلسوز واقع اور سانحہ کی خبر “‘جنگل میں آگ”‘ کی طرح پھیل گئی کہ ایک ماں کا 3 سال کا اِِکلوتا معصوم لختِ جگرابراھیم اپنی ماں سے ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور ماں کی نظروں کے سامنے ہی نیپا چورنگی گلشن اقبال میں واقع شاپنگ مال کے سامنے “‘کُھلے مین ہول”‘ کا شکار ہوگیا اور ایک دوسرے دِن اُس کی لاش نہیں کہوں گا، مُردہ جِسَم کہونگا جو قریبی نالےسے برآمد ہوا، ویسے تو کراچی آئے روز، ڈمپروں، پانی کے ٹینکروں اور آپس میں ریس لگاتی ہوئ گاڑیوں کے ٹکرسے ہونے والے حادثے دیکھتا رہتا ہے، مگر ایک ماں کے سامنے اُس کا اکلوتا تین سالہ بچہ پلک جھپکتے ہماری غفلت کا شکار ہوگیا، ہماری اِس لیے کہہ رہا ہوں کہ جب سرکاری اِدارے اپنی زمہ داریاں پوری کرتے ہیں تو نشئی، گٹر چور ڈھکنے ہی غائب کردیتے ہیں، پلوں سے دن دھاڑے لوہے کی گرل کاٹ کر لیجاتے ہیں، اس کا بھی انتظام ہونا چاہئیے، شہری، جن میں خاص کر شاپنگ مال والے اور مخیر حضرات شامل ہیں “‘اپنی مدد آپ کے تحت”‘ اس کام کو سر انجام دے سکتے ہیں، میرا ایک کالم”‘کراچی کے کھلے مین ہولز موت کی علامت”‘ مورخہ : 25/جنوری 2025ء کو روزنامہ انگلش اخبار اسٹار پلس”‘ میں شائع ہوا تھا،میں مسائل وسائل میں رہتے ہوئے حَل بھی پیش کرتا ہوں، اس لیے اِس مضمون میں بلدیاتی اِداروں کو حل /تجویز دی گئی تھی کہ مین ہولز پر1970ء اور 1980ء کی دہائی میں لوہے کے ڈھکنے لگتے تھے باقاعدہ اِس میں تالا لگا ہوا تھا، اس طرح کے ڈھکنے لگائے جائیں تاکہ چوری کا خدشہ بھی دور ہوجائے، یہ ڈھکنے بچے، نوجوان طلباء و طالبات۔ اور ضعیف خواتین و مردوں کے لیے، لوگوں کی زندگیوں سے قیمتی نہیں ہیں اور اِدارے کبھی کَنگلی اور قَلاش نہیں ہوتی، اپنے شاہانہ اِخراجات کم کرکے بہت سے مسئلے حل کئیے جاسکتے ہیں, اِس مُوضوع پر اُس اِشاعت میں سِیر حاصل گفتگو اور مفید مشورے دیے جا چکے ہیں، کاش ہم سب ایسے کاموں میں سنجیدہ ہو جائیں تو قیمتی معصوم جانیں بچائی جاسکتی ہیں، حد تو دیکھئے کہ کیمرے لگا کر بھاری جرمانے کرنے کے باوجود، ایک بھی ڈکیت کیمرے میں نہیں آتا، پھر ایک ہی راگ الاپنا جاتا ہے کہ پیسے نہیں ہیں، ِاِدارے ایک دوسرے پر الزام ڈال کر کہ یہ علاقہ ہماری ذمہ داری میں نہیں آتا، چلو سب کام سرکار نہیں کرسکتی تو کیا ڈپارٹمینٹل اسٹور جو کراچی سے کروڑوں کما رہے ہیں، کراچی چلتا ہے تو پاکستان دوڑتا ہے، کیا ایک ڈھکنا اپنے منافع میں سے نہیں نکال سکتے ہیں۔شرم کی بات دیکھیئے کہ وڈیو وائرل ہوتے ہی سب کو معلوم ہوگیا مگر اہلِ خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت پیسے خرچ کر کے مشینری منگوائی، ہر آنکھ اشکبار تھی، شہری کہہ رہے تھے کہ صدرِ پاکستان اور بلاول بھٹو معصوم بچے ابراہیم کی ہلاکت کا نوٹس لیں اور اِن ادروں کو بھی آن بورڈ لیا جائے جن کی یہ ذِِمہ داری تھی، اُن کو قرار واقعی سزا ملے گی تو اِن واقعات کو رُوکاجاسجتا ہے کیونکہ یہ اُس ماں کے دِل سے پوچھو جس نے اپنے سامنے اپنے لعل کو کھلے مین ہول میں ڈوبتے دیکھا، ماں کی آہیں تو عرش کو ہلا دیتی ہیں، ذمہ دار یہاں تو بچ سکتے ہیں مگر آخرت میں نہیں۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading