مُحترمہ بِینَظِیر بَھٹُو شَہِید سانحہ، جمہوریت کا ناقابلِ تَلافِی نُقصان

مُحترمہ بِینَظِیر بَھٹُو شَہِید سانحہ، جمہوریت کا ناقابلِ تَلافِی نُقصان

“‘ہزاروں سال نَرگس اپنی بے نُوری پہ رُوتی ہے.”
“بَڑی مُشکل سے ہوتا ہے چَمَن میں دِیدَہ وَر پِیدا”
یعنی ایسی بُلند پایہ، ذہین، نڈر، مخلص اور صُلح جو شَخصِیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، شاعرِ مشرِق مُحترم ڈاکٹر عَلامہ اِقبال (رح) کا خُواب بانیِ پاکستان مُحترم قائدِاعظَم مُحمد علی جِناح کی وَلوَلہ انگیز قیادت میں حَقِیقَت بن کر پوری دُنیا کے نَقشہ پر اُبھرا، یہ شعر ہمیں ذہن نشین کراتا ہے اور سچ یہ ہے کہ مُخلص اور مُحبِ وَطن رَہنما رُوز رُوز پیدا نہیں ہوتے، یہ سب اللٌٰہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ وَطن پَرست لُوگ ضرور پِیدا کرتا ہے، کیونکہ پاکستان مملکتِ خُدادَادِپاکستان ہے اور قائدِ اعظم مُحمد علی جِناح (رح) کے فَرمان کے مُطابق “پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے”۔
بینظیر بھٹُو شہید سابق وزیرِاعظَم پاکستان ذُوالفِقارعلی بھٹو شہید اور بیگم نصرت بھٹُو کی صاحبزادی ہیں، عالمی رہنمائوں میں ذُوالفقار علی بھٹُو شہید کو ایک مُفکر، نِڈر اور بے باک رِہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، بینظیر بھٹو شہید کے والد ذُوالفِقار علی بھٹُو شہید کا پاکستان کے لیے سب سے بڑا کارنامہ ” 1973ء کا آئین ہے، ورنہ پاکستان 1973ء سے پہلے بغیر آئین کے چَل رہا تھا، بینظیر بھٹو شہید نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کامیابیاں حاصل کیں، کیونکہ اُن کے والد بینظیر صاحبہ کو تقریباً ہرملکی و غیر ملکی دُورُوں پر اپنے ساتھ رکھتے تھے، اِس طرح بینظر بھٹو نے اُن کی صُحبت میں رہتے ہوئے سیاسی دائو پیچ سِیکھے اور جلد ہی پاکستان کی پہلی خاتون وَزیرِاعظَم اور عالمِ اِسلام کی بھی پہلی مُسلم خاتون وَزیرِ اَعظَم بننے کا اِعزاز حاصل کیا، وہ21/جون 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں، خواتین کے لیے نمایاں اِقدامات کرکے خواتین کے حقوق کی علَمبَردَار کہلائیں، ” بینظیر اِنکَم سپورٹ” پروگرام کی بنیاد ڈالی، جو تاحال جاری و ساری ہے اور اس سے لاکھوں غریب، مُفلِس اور مُستَحق فائیدہ اٹھاکر دُعائیں دے رہے ہیں، کیونکہ اُن کے گھر کے چولھے جل رہے ہیں، سب سے پہلے اُنہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے پر توجہ دے کر بیمار افراد اور طلبۂ و طالبات کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے امداد عطا فرمائی۔
انہوں نے اپنے دُونوں ادوارِ حکومت 1988ء تا 1990ء اور 1993 تا 1996ء میں ملک کی قیادت سنبھالی۔ اُن کی کامیابی کا اِنحصار اُن کی سیاست کا بنیادی مِحوَر جمہوریت، عوامی حقوق اور سماجی انصاف تھا، پاکستان پیپلز پارٹی نے اُن کی وَلوَلہ انگیز قیادت میں بے انتہا ترقی کی منازلیں طے کیں اور مَضبوطی حاصل کی، اُن کی آمریت کے خِلاف طویل جِدُوجِہَد اور جمہوری اِداروں کی بَحَالی کِسی سے ڈَھکی چُھپی نہیں، بینظیر بھٹو کا سب سے بڑا اور نمایاں کارنامہ ” آزادیِ صحافت” کو فروغ دِینا تھا، جِس کے تِحَت سِیاسی قیدیوں کی رِہائی عَمل میں آئی، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام ، خواتین کے لیے بینکنگ سہولتوں کے آغازکرکے اور بچوں کی تعلیمی اِقدامات کو اپنی پالیسی کا اہم جُز بنایا، خارجہ پالیسی بھی ایسی بنائی کہ عالمی سطح پر دُنیا کو ماننا پڑا کہ پاکستان ایک اِعتدال پسند جمہُوری رویوں، جیو اور جینے دو کے سُنہری اُصولوں پر مبنی ایک ذِمہ دار ریاست ہے، جو مسلم دنیا اور مغربی ممالک سے تعلُقَات مَضبُوط سے َمضبُوط کرنے کا خُواہاں ہے، خطے کے امن کے لیے ایک قَدم آگے بڑھ کر سفارت رَوَابِط میں ہم آہنگی پیدا کررہا ہے۔

انہوں نے آمریت سے ڈرنے کے بجائے نواز لیگ کے ساتھ مِل کر اسے “میثاقِ جمہوریت” معاہدہ کر کے سیاسی حکمت ِعملی سے شکستِ دی، جس سے سِیاسی ماحول کو آزادی ملی، اگرچہ اُن کے دُونوں اَدوَار اِس الزامات اور عَدم اِستحکام کے جُھولے میں جُھولتے رہے، مگر بینظیر شہید کی جدوجہد جمہوریت کو پروان چڑھا نے میں صرف ہوئی، جس سے عوام میں شعور بیدار ہوا، اُن کی جان کی قُربانی پاکستانی تاریخ کا ایک دردناک اَلمیہ اور نہ بُھولنے والا ایک سَانحہ تھا، جس کی وجہ سے پاکستان ایک با اثَر عالمی شخصِیت سے مِحرُوم ہوگیا، یہ ایک ناقابلِ تَلافی نُقصان اور خَلا تھا جوکبھی پورا نہ ہوسکے گا، وہ جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئے جو مَعقولہ ادا کرتی تھیں وہ سونے میں تولنے کے لائق ہے، وہ فرماتی تھیں کہ ( جمہُوریت بِہترین اِنتقام ہے)
Democracy is the best revenge
اِس قُول کا مَطلب یہ ہے کہ عام زِندگی میں ظُلم و جَبر، زِیادتی، نااِنصافی، غُرُور و اَنا، کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ وُوٹ، قانون اور عَوامی اِختیار پر مبنی”جَمہُوری نِظام ” کے ذَریعے دِینا ہی”اَصل”جَمہُورِیت ہے۔
تین بڑےحملے:
اُن پر تین بڑے حملے ہوئے۔
1995ء میں اِسلام آباد میں حَملہ سَرکاری طور پر ناکام بناگیا، جلاوطنی کے (8) سال جس کا دورانیہ 1999ء تا 2007ء (2,920) دن جنرل پرویز مشرف کی 1999ء کی فوجی حکومت کے مارشل لأ کے بعد دُبئی (مُتحدہ عَرب اِمارات) اور لَندَن (بَرطانیہ) میں گزارنے کے بعد وَطن وَاپسی پر کارسَاز کے مَقام پر 18/اکتوبر 2007ء کو خُودکش حَملہ ہوا، جس میں (149)افراد شہید اور لاتعداد زَخمی ہوئے مگر بینظیر صاحبہ مِحفُوظ رہیں۔
شہادت:
تیسرا بڑا حملہ 27/دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے مقام پر انتخابی جلسے کے بعد اپنی گاڑی کی کُھلی چَھت میں کھڑی لوگوں کے جمع غفیر کو ہاتھ ہِلا ہِلا کر جواب دے رہیں تھیں کہ زُوردار فائرنگ اور خُودکَش دھماکے میں وہ شہید ہوگئیں، اُن کی آخری آرام گاہ گڑھی خُدابَخش، لاڑکانہ میں ہے، اللٌہ اُنہیں غریقِ رِحمت کرے اور لواحقین اور اُن کے چاہنے والے جیالوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین

بینظیربھٹُو شَہیِداپنے والد کی طرح قُربانی دے کر تاریخ میں اَمَر ہوگئیں، پیپلز پارٹی کی قیادت آج بھی نواز لیگ کے ساتھ مِل کر ملک میں جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کررہی ہے، یہ بانیِ پیپلز پارٹی (PPP) سابق وزیرِ اعظَم پاکستان ذُوالفقار علی بھٹُو شہید اور اُن تمام عہدیداروں اور جیالوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جو آج پاکستان پیپلز پارٹی، سینیٹ، قومی اسمبلی کے علاوہ صوبائی اسمبلی سندھ اور لوکل گورنمنٹ کی سطح پر بِلا شِرکت غیر 17 سال سے حکومت کررہی ہے، بینظیر کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو اِتنا عُروج نہیں ملا جو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی قیادت میں مِلا، کیونکہ اِن کی گرفت پارٹی پہ نہ صرف مضبوط ہے بلکہ وہ “سِیاسی بازیگَر” بھی ہیں اور سِیاسی” پِیچُ و خَم” کے رَمُوز اور کھِیل سے وَاقف ہیں، اِسی وجہ سے دُوسری مرتبہ صَدارت کی کُرسی پر براجمان ہیں، ذُوالفقار علی بھٹو شہید کے نقشِ قدم پر چلاہوئے وزارتِ خارجہ کے قلم دان کی بِلاول بھٹوُ کو تربیت دیتے ہوئے وَزارتِ عظمیٰ کے مِیدان میں اُتارنے کے لیے تیار ہیں، بِلاول بھٹو نے اپنی قابلیت، ذِہانت اور سِیاسی اُکھاڑ پچھاڑ سے دور رِہتےہوئے سنجیدہ سیاست اپنائی جس سے محسوس ہورہا ہے کہ بِلاول بھٹو نے سیاست کے بلند ایوانوں میں ایک اُبھرتے ہوئے چَمکدَار سِتارے کے مَانِد جگہ بنالی ہے، صدرِمملکت آصف علی زرداری کا اچانک اِیران میں مُختلف مَزارات اور نَجَف کا دُورہ کرنا بھی وہ بھی اِن حالات میں، اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ہی بہت کچھ دیکھ رہے ہیں، یقیناً وہ تو مولائی بندے ہیں ہر کام کی اِبتداء کے لیے مالی اور جِسمانی طاقت کے علاوہ اللٌہ تعالیٰ کی رَضا حَاصِل کَرنے کے لیے اَِنبیائے اِِکرام اور اُولیائے اکرام کی رُوحانی اِجازت، محبت اور فِیض حَاصِل کرنا ضروری ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کوشش کرنے میں کیا مُضائقہ ہے، کامیابیاں کہاں سے مَنظور ہوتی ہیں اور بَندوں کی خِدمت میں ہی اللہ کی رَضا پوشیدہ ہے۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading