نہ رہے گا بَانس(زندگی)، نہ بَجے گی بَانسُری(خوشی)”ریٹائرمنٹ ملازمین کی”آہ

تحریر: ریحان محمود خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریز برے نہیں تھے، ایک سسٹم (نظام) کے تحت حکومت اور معاشرہ چلاتے آئے تھے، جیسا سسٹم ویسی حکومت، اگر سوچ تبدیل نہیں ہوگی تو نظام بھی پرانا ہی ہوگا، جب تک ہم انگریزوں کے چھوڑے گئے فرسودہ، جاگیردارانہ، وڈیرہ شاہی، سرکاری نواب شاہی والے نظام کا خاتمہ نہیں کردیتے اور
وقت کے تقاضوں، عوام کی امنگوں پر مبنی نظام نافذ نہیں کردیتے، ہم کامیابی کی طرف نہیں بڑھ سکتے، ہم جہاں تھے وہیں کھڑے رہیں گے، ہمارے آس پاس تبدیلیاں اور ترقیاں نظر آتی رہیں گی، اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں، ترقی کے بلندو بانگ جھوٹے دعووں سے ترقیاتی کاموں میں تبدیلی نہیں آتی، جدید نظام سے فائیدہ نہ اُٹھا کر ترقی کے بجائے پستی کی طرف چلتےجارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ترقی کی طرف گامزن ہیں، سڑکیں، بلڈنگیں، بسیں اور راستے بنانے سے ترقی ثابت نہیں ہوتی، قدرتی آفات ساری ترقیوں کا بھانڈا بیچ چوراہے پر پھوڑ دیتی ہے، اُس کے بعد بھی بچی کھچی ساکھ کو بچانے کے لیے مسلسل جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں، پہلے کی بلدیاتی قیادت کہتی تھی پیسے آئیں گے توغریب پنشنروں کو دے دیئے جائیں گے، “جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا” ، “اپنوں اپنوں میں ریوڑیاں بٹ ہی جاتی ہیں” ، جو چلے گئے وہ بے اختیار تھے، اب اختیار والے آگئے ہیں یعنی سندھ گورنمنٹ ہی آگئی ہے، یہ اختیار والے ہیں اور عوام پر ٹیکس لگا کر مختلف ذرائع سے پیسے وصول بھی کیئے جارہے ہیں مگر خاموشی ہے، مگر جمہوریت میں خاموشی بھی بولتی ہے، اعلیٰ معیار، اعلیٰ سوچ، اعلیٰ اَخلاق، ذہنی بَالِیدگی اور ایک دُوسرے کی عِزت کرنے سے مُعاشرہ ترقی کرتا یے، سوچ، غوروفکر جو کہ اُوپر سے نیچے نہیں آتی بلکہ ہر شے نیچے سے اُوپر کی طرف جاتی ہے تو ترقی کہلاتی ہے، عوام صحیح ہونگے تو ایوان میں بھی صحیح لوگوں کا چنائو ہوگا، نِظام کو اپنے اُوپر نافذ کرنا اور اِحتسابی عمل کے لیے خود کو پہلے پیش کرنا پڑتا ہے، جب عوام بِھیڑ، بَکرِی بنیں گے تو حُکمران عوام کو کہیں بھی ہانکتے ہوئے لے جاسکتے ہیں، حکمرانوں کو ہم خود اپنے اوپر مُسلط کرتے ہیں اپنی پسند کے مطابق یہ جانتے ہوئے کہ اِن کا ماضی کیسا تھا؟ ہم ایسے لوگوں کو کیوں ووٹ نہیں دیتے جو ہمارے ساتھ تکلیفوں میں رہتے اور ہماری مشکلوں کو سمجھتے ہیں، جو غریبوں کی تکلیفوں کو سمجھے گا وہ ہی صحیح نظام لائے گا، کرپٹ لوگوں کو سلیکٹ نہ کرکے ہی گلے، سڑے اور بدبودار نظام کو شکست دی جاسکتی ہے، جو موجودہ نظام رائج ہے وہ غریبوں کو مزید غریب اور امیروں بشمول اقتدار میں موجود کالی بھیڑوں کو طاقتور سے طاقتور کررہا ہے، آپ ان سرکاری آفیسرز اور ملازمین کو دیکھ لیں جو اپنی جوانی کے خوبصورت 40 سال اپنے ملک کی خدمت کرتے ہوئے تنگی اور تکلیفوں میں اس امید پر گزارتے ہیں کہ چلو ریٹائر ہونگے تو ملنے والی رقم سے بچیوں کی شادی کریں گے، اپنا گھر کرلیں گے، برسوں سے کرائے کے گھر میں رہتے ہوئے آرہے ہیں جان چھوٹے گی، رَاقم اُن راشی افسروں اور سرکاری ملازمین کی بات اِس لیے نہیں کررہا جو روز کے روز اچھا خاصہ کما لیتے ہیں اور رِشوت کے ساتھ دوزخ میں ٹھکانا بنالیتے ہیں، ایسے لوگ عوام سے چھپے نہیں ہوتے، ان کو ریٹائرمنٹ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، کیونکہ وہ وقت سے پہلے ہی لگژری مکانات خریدلیتے ہیں، اولادوں کو باہر بھیج دیتے ہیں، وہ خود بھی یہی کہتے ہیں کل کی کل دیکھی جائے گی، ان ہی جیسے لوگ جب پیسہ خرچ کر کے برسرِ اقتدار آتے ہیں تو وہ خزانے میں پیسہ ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ جب پیسہ اوپر سے منظور ہوکر آئے گا تو دیں گے، وقت گزرتا جاتا ہے، اُن کے لیے پیسہ آتا رہتا ہے اور وہ سرکاری ملازم جنہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق رشوت کا منہ نہیں دیکھا، اُن سے کہا جاتا ہے کہ 20 فیصد رِشوت دے دو ایک ہفتے میں پورے پیسے لے لو، اُن سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ جب پیسے نہیں آرہے تو رِشوت دے کر کیسے مِل جائیں گے، اِن لوگوں کو چکر لگوا، لگوا کر اِتنا مَجبُور کردیا جاتا ہے کہ جنہوں نے رشوت کو دوزخ کی آگ سمجھا وہ خود اس میں خوشی خوشی کودنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، اب آپ خود سوچیئے کہ سرکاری ملازم صحیح نہیں ہوتے یا نظام صحیح نہیں ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس جدید کمپیوٹرائزڈ دور کے ضَعِیفُ العُمری میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کے ساتھ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اُن کو دو مہینے پہلے ہی حساب کتاب کر کے “ون وِنڈو” کارروائی کرکے “حسن کارکردگی” ایوارڈ کے ساتھ تمام بقایاجات بشمول پراویڈنٹ فنڈ، سالانہ انکیشمنٹ اور گریجویٹی کا چیک تھما دیا جائے؟ میرے سامنے ہی کچھ ملازمین چکر کاٹتے کاٹتے، اللہ کو پیارے ہوگئے، جو اثرو رسوخ رکھتے تھے یا رشوت دینے کی طاقت رکھتے تھے وہ تو خاموشی سے سب کچھ لے کر نکل بھی جاتے ہیں، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کو ادا کیئے گئے لاکھوں اور کرڑوں روپے کہاں سے آتے ہیں؟ جب سے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب میئر کراچی بنیں ہیں انہوں نے اپنی کاوشوں سے ایک سال بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کے خزانے کو بھرنا شروع کیا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اثاثوں میں سے زمینی اثاثے کے۔الیکٹرک کو رینٹ پر دے کر، اُنہوں نے کہا تھا کہ جواس مَد میں کرایہ آئے گا وہ پینشنرز اور ریٹائرملازمین کو دہیے جائیں گے اور باقاعدہ دو سال پہلے ٹینٹ لگا کر رقوم بانٹیں گئیں، میں نے میئر کراچی کی کارکردگی کی تعریف میں کالم بھی تحریر کیا، کام ہوتے نظربھی آرہے ہیں، لوگوں کو پیسے ملنا شروع ہوگئے ہیں، مگر رِیٹائر غریب ملازمین کو جو توڑ توڑ کرقسطوں میں ہر چھ ماہ بعد دو یا تین لاکھ دیئے جاتے ہیں، اِس عرصے میں وہ اِن پیسوں کو اِس مہنگائی کے دور میں خرچ کرکے پھر اِس سے اور اُس سے قرض مانگتے نظر آتے ہیں، وہ بیچارے دِل مَسوس کر رہ جاتے ہیں کچھ بھی نہیں کرپاتے، نہ ہی اُن کی کرائے کے گھر سے جان چھوٹتی ہے نہ ہی بیٹی رخصت ہو پاتی ہے، بیچارے شُور مَچاتے مَچاتے خود ہی خامُوشی سے مُلکِ عَدم جَانے والی بَس پَکڑ کر رُخصت ہو جاتے ہیں، یہ صرف میری نہیں میرے جیسے نہ جانے کتنے سرکاری ملازمین کی خُوفنَاک اور ہُولناک کہانی ہے، میں اور میرے جیسے ریٹائر حضرات میئر کراچی سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ نے آپ کواور آپ کی پارٹی کو عزت، شہرت، دولت اور بلندی عطا کی ہے، ہمیں یَکمُشت بقاجات ادا کر کے ہماری داد رَسی کی جائے، تاکہ ہم اپنے مسائل اپنی زندگی میں ہی ادا کرلیں، اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے، آمین

اِن سچے حَقائق کے ساتھ سَوالات اور جَوابات قارئین کے لیے چھوڑے جارہا ہوں کہ ہم صحیح نہیں ہیں، یا اُوپر بیٹھے لوگ اپنے اپنے مَفادات کی نِگہبَانی کرتے ہوئے غریبوں کو دَفنانے اور اُن کی قبروں پر مِٹی ڈالنے کے اِنتظار میں ہیں کہ اُن کے بقایاجات ادا نہ کرنے پڑیں، “نہ رہے گا بانس (زندگی)، نہ بجے گی بانسری(خوشی)” ۔ اللہ تعالیٰ برسوں سے ریٹائر ملازمین کی”آہ” سن لے کیونکہ غریب کی” آہ” فَرش تا عَرش ہلا دیتی ہے، اللہ اُن کو صِحت کے ساتھ سَلامت رَکھے۔ آمین۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading