معذرت کے ساتھ “اِس حَمام میں سَب ننگے ہیں”۔

معذرت کے ساتھ “اِس حَمام میں سَب ننگے ہیں”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس معاشرے میں جھوٹ کی قدر منزلت ہو، محبت و یگانگت اور اَخوت کو شَک بَھری نگاہ سے دیکھا جاتا ہو، اوپر کی حرام کمائی کو حلال کمائی پر فوقیت دی جاتی ہو، جہاں انصاف کے تقاضے بہروپ لیے ہوئے ہوں، پیمانے غریب کے لیے کچھ اور دُولت مند کے لیے کچھ ہوں تو ایسے معاشرے کو تباہی کی جلد یا بدیر نوید سنائی جاسکتی ہے، جہاں ہر مشکل وقت میں حکومت وقت کا تعلیم پر ہی “نزلہ” گرتا ہے، جبکہ تعلیم ہی دنیا میں نام اونچا کراتی ہے،ہماری بدبختی اور بدقسمتی ہے78 سال سے تعلیم سے محبت کرنے والا برسر اقتدار نہیں آیا، بجٹ میں ہی تعلیم میں سب سے زیادہ رقم رکھنی چاہیئے تاکہ پڑھا لکھا معاشرہ وجود میں آسکے، یہاں ناصرف حق بات کہنے والوں کی آواز دبادی جاتی ہو بلکہ زیادہ بولنے والے ہی کو زیرِ زمین پہنچانے کا انتظام ہوتا ہے، وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا، جہاں اجتماعی فائدے کی جگہ انفرادی فائدے کو ترجیح اور تقویت دی جاتی ہو، جہاں ساری سختیاں غریب عوام کے لیے ہوں اور برسر اقتدار اپنے شاہانہ اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے بجائے پُرتَعیُش اور لگژری گاڑیاں، جدید ترین فوکر جہاز عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدنے کو ترجیح دیں، اپنی تنخواہ معہ الائونسز میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کریں، عوام کو “بچت پہاڑ” کے نیچے دبادیں اور عوام کے پیسوں کے زیاں کا احساس تک نہ ہو، یعنی ” کانوں پر جُوں تک نہ رینگتی ہو” ، جواب آتا ہے کہ جُوں ہوگی تو رِینگے گی نا، ایسے ڈھیٹ معاشرے کے مُستقبل اور کرتا دَھرتاؤں پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے تو بہتر ہے، جہاں سیاسی لوگ اقتدار سے باہر ہوں تو سیاسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو جائیں اور اقتدار میں آتے ہی ٹھندی یخ لگژری گاڑیوں، ٹھنڈے یخ دفتر اور یخ مشروب کے اِستعمال کے باوجود نزلہ، زکام اور کھانسی تک غائب ہو جائے، کمر تک کا درد تک “گدھے کے سَر سے سِینگ کی طرح غائب” ہو جائے، اِقتدار ملتے ہی عوام کو اپنے ظالمانہ اِِحکامَات سے عوام کو مہنگائی جیسی مہلک بیماری میں مبتلا کردیں، قارئین آپ خود بتائیں کہ ایسے مُردہ معاشرے اور دُولت کے سیاسی اکھاڑے کو کیا کہیں گے؟ عوام کو دِکھایا کچھ جاتا ہے اور ہوتا کچھ ہے، عوام خود ایک قرضدار ملک کے مسند پہ بیٹھے ہوئے افراد کے شاہانہ اخراجات اور فضول خرچیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں، قرض اتارنے کے بجائے قرض میں بےرحمی سے اِضافہ کرکے چلے جاتے ہیں، بعد میں ایک دوسرے پر الزامات الزامات کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔

لفظ جسے یہ بچت کہہ رہے ہیں اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں، کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ ہو، وہ اپنے اندر معنی اور وسعت رکھتا ہے، پڑھا لکھا تعلیم یافتہ شخص اگر اِس کے معنی نہیں جانتا یا اس کا غلط مفہوم بتاتا ہے تو اس کو ہر سطح پر مَزاق/سُبکی/بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا اگر کوئی شخص ایک بلند مرتبے پر بیٹھا ہے یا زبردستی بٹھادیا گیا ہے، تو اس کا تو مزاق زمانے میں تو ہوگا ہی مگر اُس کو اِس مَرتبے/عُہدے پر بٹھانے والی شخصیت کا بھی پتہ چل جائے گا۔

بہت کم پڑھا لکھا شخص قرینے سے گفتگو کرتا ہے تو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اس کے پاس تو تعلیم ہی نہیں، اب لفظ “کفایت شعاری” کو لے لیجئے “کفایت شعاری” کے نام پر ملازمین کی تنخواہوں سے 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں،”کفایت شعاری” بچت کا دوسرا نام ہے، ایسی بچت جس سے دوسروں کے گھر پر کھانے پینے کے لالے پڑ جائیں، وہ زبردستی کی بچت ہے، جو غریب ملازمین (1) گریڈ سے (15) گریڈ تک ہیں ان کی تنخواہ 15 تاریخ تک ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مہینہ بھر دکان سے ادھار لے لے کر کھاتے ہیں، مہینہ ہوتے ہی ادھار کے پیسے ادا کردیتے ہیں، پھر اُدھار چڑھ جاتا ہے، یہی سرکل ساری زندگی چلتا رہتا ہے، یہ کفایت شعاری اپنے شاہانہ اخراجات کو چلانے کے لیے ان پر مزید بوجھ ڈال کر ظالمانہ فیصلے کو تقویت دی جائےتو اچھی بات نہیں، کفایت شعاری کا مطلب یہ نہیں کہ محنت کشوں پر ظلم کرتے ہوئے انہیں خودکشی پر مجبور کردیاجائے اوپر سے ظلم یہ کہ دو دن کی تنخواہ بھی منہا کرلی جائے، ہاں اگر عوام کو محبت دی گئی ہو تو عوام مشکل وقت میں حکومت کی اپنی بچت کی ہوئی رقم اور زیورات سے مدد کرتی ہے، جیسا کہ ایرانی عوام اس مشکل وقت میں متحد رہتے ہوئے، مال ہی کیا جان نثار کرنے کے لیے بے چین ہے، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سے معاشرہ بے راہ روی کی طرف گامزن ہونے لگا ہے، مگر مجبوری ہے، مگر ایران اور روس سے تیل لینے میں کیا قباحت ہے؟ بڑے بڑے تیل کے جہاز آ بھی رہے ہیں مگر وہیں جا رہے ہیں جہاں جاکر غائب ہو جاتے ہیں، عوام تیل کی آمد کے فائدے سے محروم ہے، ایران میں ایک جگہ رُوزمرہ اِستعمال کی اشیاء رکھ کر وہاں تحریر کردیا گیا کہ” آپ روزمَرٌَہ ضرورت کی اشیاء یہاں سے لے جائیں جب جنگ ختم ہو جائے تو اِس کے پیسے 💰 جمع کرادیجئے گا ورنہ واپسی ضروری نہیں”اِس عمل کی دیکھا دیکھی مُخیر حَضرات، نَان رُوٹی فروخت کرنے والے، دَوَایاں فروخت کرنے والے بھی میدان میں آگئے، جو بھی اشیاء چاہئیے لے جائو، یعنی وہاں کی حکومت نے بھی وقتی طورپر مکمل ریلیف دے کر عوام کا دِل جِیت لیا، مُشکل وقت تو ٹالنا ہے نا، ویسے ہی ہمارے ہاں اِدارے ٹیکس کی صورت میں ہر خریداری پہ کچھ نہ کچھ کاٹ لیتے ہیں، جو تھوڑا سا بَچ جاتا ہے وہ بھی ایسے وَقتوں میں کاٹ لیا جاتا ہے، عوام کے پاس صرف “بابا جی کا ٹُھلا” بچتا ہے، یعنی صرف آواز رہ جاتی ہے، اُس پہ بھی قَدغَن لگا دی جاتی ہے کہ آواز نِکالی تو جان نِکال لی جائے گی، جس سے مُعاشرے کی حالت بہتر ہونے کے بجائے بگڑتی چلی جاتی ہے، عوام دُشمن قانون آسانی سے پاس ہو جاتے ہیں،کوئی کسی کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا، کیونکہ ” اِس حمام میں سب ہی ننگے” ہوتے ہیں یعنی ایک دُوسرے کے مَفادَات کو تَحَفُظ دیتے ہوئے نَظَر آتے ہیں۔

وَفاقی حُکومت کے اِحکامات کو اُن پر لاگو کیا جانا چاہیئے جو سَرکاری مَراعَات میں مُفت پیٹرول لے رہے ہیں، جنگ کے باعث اعلٰی افسران، ججز اور بیوروکریٹ کی بھاری تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ایسے موقعوں پر ہمارے ہاں بھی صاحبِ حیثیت اور مُخیر حضرات کو آگے آنا چاہئیے اور “وزیرِ اعظم کے امدادی فنڈ” میں دِل کھول کرحِصہ ڈالنا چاہئیے ورنہ مَنفی اِقدامات سے پارٹی اور شخصیت بَدنام ہوتی ہے، مانا کہ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ اُمراء کو بھی “کفایت شعاری” بچت مہم میں شامل کرلیا ہے، مگر اپنے غیر ضروری اور غیرترقیاتی اخراجات کو ختم کرنا چاہیئے، دفاع تو ناقابلِ تسخیر ہو چکا، حکومت جنگ کے اثرات کو کافی حد تک کم کرنے کے لیے کوشاں ہے، ان اقدامات کی وجہ سے کافی حد تک کامیابی ملی ہے۔ اللہ اِن کو کامیاب کرے کیونکہ اُن کی کامیابی، پاکستان کی کامیابی ہے۔ اللہ پاکستان کو ہر مشکل گھڑی سے محفوظ رکھے۔آمین


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading