تحریر: ریحان محمود خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مورخہ: 07/اپریل 2026ء کو ایک اخبار کی اِشَاعَت پر نظر پڑی جس میں تحریر تھا کہ روس اور سعودیہ کے درمیان “” ویزہ فری سفر”” کا معاہدہ گیارہ مئی 2026ء سے نافِذٌُالعَمَل ہو جائے گا، اِس معاہدے پر یکم دِسمبر 2025ء کو سعودی عَرَب کے شہر ریاض میں دستخط ہو چکے ہیں جس کے تِِحَت دُونوں ممالک کے شہری ایک دُوسرے کے ملک میں بغیر ویزا داخل ہو سکیں گے، خبر بہت چھوٹی لگائی گئی تھی مگر اِس دُوستی کے اثرات بہت وسیع اور گہرے ہیں، اِس کو دونوں ممالک کی دوستی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مسلم ملک اور دوسرا غیر مسلم مگر یہ مستقبل کی باہمی روابط کی پائیداری کی طرف پیش رفت ہے، تو پاکستان کو کیا ڈر ہے کہ عوامی دور رس فائدے کو چھوڑ کر وقتی فائدے ترجیح دے، ایران اور روس سے سستا تیل اور مختلف ضرورتوں کے معاہدے کرنے میں تساہل برتنے کی ضرورت نہیں، صاحب بہادر نے نرمی کردی ہے، وہ ممالک تو نہیں ڈر رہے جو تیل فراہم کرنا چاہ رہے ہیں، پاکستانی سرحد تک تیل کی پائپ لائن بچھا دی گئی ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پائیدار اور مستحکم دوستی جتنی پڑوس یعنی ہمسایہ سے ہوسکتی ہے، اس جیسی دوستی “سات سمندر پار” سے نہیں ہوسکتی، اِس وقت دُنیا میں امن قائم کرنے کے علاوہ کوئی دوسری سوچ رکھنے اور شور مچانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں قیادت زَبردستی عوام پر مسلط کردی گئی ہے، اس سوچ سے افراتفری پھیلنے کا خطرہ موجود ہے، جس سے دشمن فائیدہ اٹھا سکتا ہے، ملک اِس وقت غیر مستحکم ہونے کے خطرے کا متحمل نہیں ہوسکتا، پھر دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، ملک کی سرحدوں کے اطراف کی حالت غیر تسلی بخش ہے۔
ہمیں بھی تمام ممالک کی طرح سب سے پہلے تمام اختلافات بھلا کر، صِرف اور صِرف اپنے پیارے وطن کے مستقبل کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیئے یعنی “”سب سے پہلے پاکستان””۔ یقین مانیئے اِس وقت جو فیصلہ بھی پاکستان کرے گا، اِس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، کیونکہ جنگ کی وجہ سے خطے میں معیشت کے حوالے سے ہر ملک کو “” اپنی اپنی”” پڑی ہوئی ہے، ہمیں بھی اپنا ‘”قومی سُپر تِھنک ٹِینک”” بنانا چاہیئے جس میں اِنتہائی سمجھدار اور ملکی مفاد کو مقدم رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا جانا چاہیئے جن میں سیاسی مُدبر، مذہبی اِسکالرز، قومی سلامتی کے اِداروں کے ارآکین اور مثبت عوامی سوچ رکھنے والوں کی ایک ٹیم بنائی جائے۔ اُن پر اندرونی یا بیرونی کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہوناچاہیئے، سودے بازی کی کوئی گنجائش نہ ہو، یاد رکھیے کہ پاکستان کی تاریخ میں نہ اِس سے پہلے کبھی ایسا مُوقع ہاتھ آیا تھا اور نہ کبھی آئے گا””، کیونکہ اِمریکہ، اِسرائیل اور درپردہ بھارت کا گٹھ جُوڑ جنگ مُسلط کر چکا ہے، اُس سے اُن کا غیر اعلانیہ مخالف بلاک خودبخود وجود میں آرہا ہے، اللٌہ کا قانون ہے “” فرعون کے لیے موسیٰ ضرور پیدا کرتا ہے”” ، ہر ظلم کی سیاہ رات کے بعد نِجات کا سورج ☀️ ضرور طلوع ہوتا ہے، دُنیائے عالم کی نگاہیں اس وقت پاکستان کے اوپر لگی ہوئی ہیں کہ اِس جنگ میں پاکستان نہ صرف ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے بلکہ اِس کے فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت دی جارہی ہے۔ یہ صرف اور صرف پاکستانی عوام، اعلٰی سیاسی قیادت اور اعلٰی فوجی قیادت کے ایک پیج پر ہونے سے کامیابی نظر آرہی ہے، پاکستان استحکام اور امن قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے بلکہ خلیج کی قوتیں بھی پاکستان کے ساتھ مل کر دُنیا میں پائیدار امن قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، یاد رکھیے کہ اتحاد میں ہی برکت ہے، پہلے پاکستان کو اکیلا کرنے کی سازشیں ہوتی رہیں اور اب برادر اسلامی ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اس کو اکیلا کرنے کی کوششیں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں، کیونکہ ایک ٹہنی کو آسانی سے توڑا جاسکتا ہے، ایک ساتھ بندھے ہوئے لکڑی کے گٹھر کو توڑنا آسان نہیں ہوتا، حضرت عَلی رَضی اللٌہ تعالیٰ عَنہُ کا اِرشاد گرامی ہے کہ “”جو بِھیڑ 🐑 گلے سے باہر ہوتی ہے، اُسے بھیڑیا 🐺 آسانی سے کھا جاتا ہے”” پاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات، دبئی، شام، چین اور روس کے ساتھ مل کر پائیدار امن قائم کرنے کی طرف گامزن ہے اور ان شاءاللہ گامزن رہے گا، تازہ خبریں یہ آرہی ہیں کہ جنگ بندی کی خبر وں کے ساتھ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلٰی سطحی وفود آنے کی تَوقع اور امن معاہدے کی خوشخبری سنائی دے رہی ہے، اللہ کرے کہ دُنیا میں پھر سے امن قائم ہو، آمین۔
ہم ایک اچھے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے، امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے والوں اور غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں پر کڑی نظر رکھیں۔ خاص کر ایسے کامیاب معاہدے کے مکمل ہونے سے لے کر اس پہ عمل ہونے تک ہوشیار رہیں، ایسی چنگاریوں سے ہوشیار رہیں جو پلک جھپکتے امن کے ماحول کو آگ کے ماحول میں تبدیل کردے، اللہ تعالٰی پاکستان کی پوری قیادت بشمول عسکری قیادت کو عالمی امن قائم کرنے میں کامیابی عطا فرما، وہ تمام شخصیات جو عالمی امن میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں ان کو بھی کامیابی و کامرانی عطا فرما۔ آمین ثمہ آمین
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.

https://shorturl.fm/7QVqd
https://shorturl.fm/EYEJA
https://shorturl.fm/gLnFf
?