۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مبالغہ آرائی، چاپلوسی یا خوامخواہ تعریف نہیں ہے، ہم عوام ہی اپنی قیادت کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے اور ہر کام میں کیڑے نکالیں گے تو کامیاب معاشرہ کیسے وجود میں آئے گا؟ ملک میں سرکشی اور دہشت گردی کو ختم کرتے ہوئے ملکی سرحدوں کی حفاظت میں ہزاروں ماؤں کے لخت جگر شہید ہوئے اور ہورہے ہیں، ان کی ماؤں اور فوجی جوانوں کو سلام۔
یہ اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب عسکری اور عوامی قیادت متحد ہو، ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ پوری دنیا جنگ کی آگ و خون میں ڈوبی ہوئی تھی، خطے میں ہر طرف معصوموں کی درد بھری آہیں اور سِسکیاں گونج رہی تھیں، غزہ اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے سامنے بین الاقوامی ادارے “اقوام متحدہ ” تک کی کارکردگی مفلوج نظر آئی، ہاں یہ ضرور ہوا کہ نیٹو کے ارکان نے “بھیڑچال” پر توجہ نہیں دی، بلکہ وہ سمجھ گئے کہ یہ اسرائیل کی جنگ ہے، جو بغیر منصوبہ بندی کے شروع کی گئی ہے، عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ خطرہ بھانپتے ہی “آنکھ بند کرکے جنگ میں نہیں کودے” خود امریکی عوام اور برطانیہ، فرانس، اسپین و دیگر نے اِس جنگ کو غیر قانونی کہہ دیا کہ یہ کسی بھی دوسرے ملک کے معاملات میں دخل اندازی ہے، کسی کے کہنے پر اُس ملک تہہ تیغ کردینا، جب وہ اپنے دفاع میں جواب دے تو شور مچانا، کسی کی دُم پہ پائوں رکھو، یا گلہ دَباؤ اور کہو آواز نہ نکالنا ورنہ انجام بہت بُرا ہوگا، اسرائیل کے ایران پہ حملے سے خطے میں کشیدگی بڑھتی جارہی تھی، ہر ملک کا معاشی اور اقتصادی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا اور اِس سے بچاؤ کی کوئی اُمِید بَر نہیں آرہی تھی، جنگ وسیع سے وسیع تر ہوکر تیسری عالمی جنگ میں قدم رکھنے والی تھی اور خطہ خون میں نہا رہا تھا، تو ایسے میں ایک مردِ آہن فیلڈ مارشل عاصم منیر جو گزشتہ جنگ کے غازی بھی ہیں نے اپنی ذہنی حوصلہ مندی اور دلیرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا، امریکہ کے نائب وزیر جے۔ڈی۔وینس نے اس عمل کو ایک حیرت انگیز عمل قرار دیا، پاکستان اِبتدا سے ہی سے جنگ رُوکنے کی کوششیں کررہا تھا، کیونکہ جنگ کی ابتداء نیتن یاہو نے اپنی ضِد کے ساتھ ایران پر” شَب خُون” مارکر ایرانی قیادت کا خاتمہ کردیا، پاکستان کی عسکری قیادت نے “عالمی امن” کو قائم کرنے کے لیے سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر خطے میں موجود اسلامی ممالک کے سَنگ چین اور رُوس کا بھی گٹھ جوڑ بنائے رکھا، دو ہفتے کی جنگ بندی کرواکر پاکستان نے اپنا نام تاریخ میں سُنہری حرفوں سے لکھوالیا، مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے، لیکن ہمت نہیں ہارنا چاہیئے، مگر دُوستانہ ماحول میں ایک دوسرے کے مسئلے کو سمجھنے میں مدد ملی۔
میرا تَجزِیہ اور پُختَہ خیال ہوسکتا ہے کہ غلط ہو، وہ یہ ہے کہ جو معاہدہ امریکہ کرنا چاہ رہا ہے، وہ ممکن ہی نہیں، مشکل اور ناقابلِ یقین ہے، کوئی اپنے کھانے کی تقسیم کیسے کرسکتا ہے، ایران کی “آبنائے ہرمز ” ایران کی شہ رَگ ہے، جب آپ اپنی مرضی سے “ٹیرف نافذ” کرسکتے ہو تو ایران اپنے پانیوں سے گزرنے کا ٹیکس کیوں نہیں لے سکتا؟ ایک دُوسرے کے سارے نکات دونوں فریقین باہمی رضا مندی سے ایک جگہ بیٹھ کر مان سکتے ہیں، مگر ” بِلٌےِ کو دُودھ کی رَکھوالی پہ بٹھانے کا مطلب؟ کیا یہ ممکن ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کے ساتھ اسپیکر باقر قالیباف کے ساتھ شامل تھے، یہ بہت بڑی بات ہے کہ میزبانی کا شرف بھی پاکستان کو حاصل ہوا، یہ اس لیے ممکن ہوا جب پاکستان بھارت کو عبرتناک شکست دے کر اپنی قوم کا مثبت اور پُرامن چہرہ عالمی سطح پر نمایاں کرچکا تھا مزید یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بات کو رکھتے ہوئے فیلڈ مارشل نے پاک بھارت جنگ ختم کردی، کیونکہ پاکستان بار بار یہ کہتا آرہا ہے کہ “ایٹم بم” ہم نے اپنے دِفَاع کو محفوظ کرنے کے لیے بنایا ہے، عزت تو اللہ ہی دیتا ہے، مگر ذلت ہمارے حصے میں اپنے غلط اعمال کی ڈھٹائی کی وجہ سے آتی ہے۔
اَمن قائم کرنے کرنے کا سہرا پاکستان کی فوجی، سیاسی اور قومی قیادت کو جاتا ہے جنہوں نے جنگ کے پینتالیس (45) دنوں میں اپنے آپ کو مہنگائی جیسی عنفریت میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا، ان مذکرات کو جو کہ ایک خفیہ مقام پر ہو رہے تھے جہاں تک کسی میڈیا کی رسائی ممکن نہیں تھی، سب سے بڑی بات پاک فضائیہ کے لڑاکا بمبار طیارے امریکہ اور ایران کے وفود کو اپنی حفاظتی حصار میں لے کر اسلام آباد پہنچے تھے، کسی بھی لڑتی ہوئی دو قوتوں کے برسرِ پیکار رہنے کے بعد، ان کے درمیان امن قائم کرانا ایک مثالی اِقدام ہے، اپنے حفاظتی حصار کا مطلب “اَمن دُشمنوں” کو یہ باور کرانا تھا کہ دُنیا کی مضبوط ترین فضائیہ جدید میزائلوں سے لیس مہمانوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے، یہی بہت اہم کام تھا، اس بات کی صداقت کا اندازہ چین کے برائے عالمی امور کےمعروف ماہر وکٹرگاؤ نے ایران اور امریکہ جنگ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں پاکستان کو کریڈٹ جاتا ہے، دُنیا بھر کی نظریں دوبارہ اِسلام آباد میں مذاکرات شروع ہونے پر لگی ہوئی ہیں اور دُنیا بھر میں پاکستان کے بلند کردار کی جِے۔جِے کار اور بھارت کے مِیڈیا اور عَوامی سطح پر ہَا، ہَا کار مَچی ہوئی ہے، پھر میں وہی بات دوہراؤں گا کہ فیلڈمارشل عَاصِم مُنیر اور شِہباز شَریف کا “نُوبِل اِنعَام برائے عَالمِی اَمن 2026ء” تو بَنتَا ہے نا۔
اس کی بھی سب سے وجہ یہ ہے کہ شہباز شریف سعودیہ اور عاصم منیر ایران پہنچ گئے جبکہ حالت جنگ میں موجود ملک کے دورے کرنے کے لیے لوہے کا جگرا چاہیئے، مگر دنیا دیکھ رہی ہے، “معاہدہ اَمن” نہ ہونے کے باوجود پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت بے چین ہے اور جنگ کے دونوں فریقین کو پھر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہی ہے، ان کو یہ بھی معلوم ہے سفارتکاری کئی طرح کی ہوتی ہے مگر براہ راست خود کی جان کو خطرے میں ڈال کر “عالمی امن” قائم کرنا ہی قوم کو تاریخ میں امر کرتا ہے۔
ایسے وقت پر اِسرائیل کا لبنان پربمباری کرکے سینکڑوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت مذاکرات کو ناکام کرنے کی احمقانہ کوشش ہے، کیونکہ جنگ کا اصل فریق تو اِسرائیل ہی ہے، اُس کے دَستخَط ضروری ہیں، اس کے خلاف تمام ممالک ہر قسم کا بائیکاٹ کریں اور ہر سطح اسرائیل پر پابندی لگنی چاہئے، وہ کہہ سکتا ہے میں نے تو دَستخَط نہیں کیے۔ اللٌٌہ “اَمن کی فَاختَہ” کو کامیاب و کامرانی عطا فرما۔آمین
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.

https://shorturl.fm/o3Mjz