۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادوں کے دریچوں سے کچھ خوبصورت اور بھینی بھینی مہک والے پھول توڑ کے لے آتا ہوں، تاکہ حال میں رہتے ہوئے ماضی کے آئینے میں دیکھ کر مستقبل کو بنائے رکھوں،1981 تا 1984، کی یادوں کا بہتا اور رِم جِھم رِم جِھم برستا، برسات کا موتی کی طرح صاف شفاف ٹھنڈا پانی، جو اپنی مَسحور کن آواز کے ساتھ ٹِپ ٹِپ سے خوابوں میں پہنچا دیتا ہے اور واپس آنے کا دِل نہیں کرتا، اب اُن لمحوں، ساعتوں کو یاد ہی کیا جاسکتا ہے۔ مل بیٹھنے کا تو وقت نکالا ہی نہیں جاسکتا، جو دوستوں اور اپنے پیاروں کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، اُن کی عمریں طویل ہو جاتی ہیں، ماتھے پہ سوچ کی جُھریاں نہیں پڑتیں، کیونکہ ہم وقت کی تیزرفتاری میں بہہ کر اپنے وجود کو کھو رہے ہیں، دل کھول کر ہنسی بھی نہیں آتی جو کہ چہرے پر شادابی میں اِضافہ کرتی تھی، دوست، بھائی، والدین اپنے گھر میں اور ہم اپنے گھر میں گُھٹ گُھٹ کر جی رہے ہیں ہیں اور اِسی کو زندگی کہہ رہے ہیں، ظلم یہ کہ اس کا احساس بھی نہیں، جب احساس ہوتا ہے توپھر زندگی وقت ہی نہیں دیتی، اس لیے اپنے موبائل ہی کی مصروفیات میں سے ہی وقت نکال لیجیئے، کیونکہ موبائل آہستہ آہستہ ہر جذبات، رشتے، دوست، قدروں، ایک دوسرے کی عزتوں، تربیتوں اور پیاروں کو نگل رہا ہے، وقت نکالیے، اِس سے پہلے کہ دُنیا سے ہی وَقت ہمیں نکال دے، کچھ لمحے نکال کر اِس کی مٹھاس سے تو لطف اندوز ہوں، کیونکہ ہم لمحوں میں تو جی رہے ہیں اور جو لوگ ایک دُوسروں سے مِلنے جُلنے اور ایک دوسرے کے دکھ اور تکلیفیں بانٹنے کے لیے وقت نکالتے ہیں تو وقت سست روی سے اس زمانے میں، اُن دوستوں کی محبت کو دیکھنے کے لیے اپنی پرواز روک کر حیرت سے اِستقبال کرتا ہے، اِس افراتفری کے دور میں “ملنے اور قربانیوں” کو دیکھتا ہے، کیونکہ ہم اپنے جگری دوست شعیب کے گھر ٹیبل ٹینس کھیلتے ہوئے اُن کی والدہ محترمہ جنہوں نے مجھے بھی ماں کا پیار دیا تھا، شفقت کے پھول نچھاور کرتی تھیں، کے ہاتھ کے لذیز کباب اور بہترین اِلائچی والی چائے آج بھی لذتِ دَھن و زبان اور دِماغ میں غُوطہ زَن ہے، وَقت بُھلائے نہیں بُھولتا، کاش وقت کی ماضی کی کشتی میں کچھ لمحوں کے لیے سوار ہوا جاسکتا جو کہ خود غرض تیزرفتار زمانے سے دور بہت دور اُفق کے اُس پار ہوتا مگر کاش واپسی ممکن ہوتی، تو اچھا ہوتا، جاتے اور آجاتے۔ آہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا جو تصویر ہے وہ محترم جناب محترم جناب عبدالغفور، نائب امیر جماعت اسلامی کے چھوٹے صاحبزادے شعیب اعزاز کی جناح کالج ناظم آباد میں طالبِ عِلمی کے زمانے کی ہے جو کہ میرے جگری دوست ہیں اور بہت زیادہ علیل ہیں، دعائے صحت کیجیئے اللہ اُن کو صِحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، آمین، شعیب اعزاز اپنے دُوست اِقتدار علی اور حافظ نابینا محمد فاضل کے ساتھ موجود ہیں۔
جبکہ یہ تصویر ریحان محمود خان، مَضمُون نِگار(آئینۂِ مسلمان) اور رُکن مَجلس اِدارت، جناح کالِج، سالانہ مجلٌہ “ہَم سخن” نے 1981ء میں اپنے کیمرے سے لی تھی۔
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.

https://shorturl.fm/OA0rY
https://shorturl.fm/EI0C8
https://shorturl.fm/Vpcow
https://shorturl.fm/iw3qh
https://shorturl.fm/hYAa1
https://shorturl.fm/3a5Rv