آٹا مہنگاٸی کےخلاف حکومت سندھ کے اقدامات

تحریر: ریحان محمود خان

آٹا مہنگاٸی کےخلاف حکومت سندھ کے اقدامات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روٹی کی قیمت اس وقت کم ہوتی ہے جب آٹے (گندم) کی قیمت کم ہوتی ہے، روٹی، پانی، کپڑا اور مکان، یہ انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں، اس کو پورا کرنا، اس کی قیمتیں مستحکم رکھنا اور اس کو مقررکردہ قیمت پر عوام کو مہیا کرانا، حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، ذخیرہ اندوز حکومت کو اپنے مفادات کے لیے بدنام کرنے سے باز نہیں آتے، روٹی، کپڑا اور مکان یہ سندھ میں برسراقتدار جماعت PPP کے وجود کا بنیادی نعرہ ہے، اس سے قطع نظرکہ یہ جماعت اپنے نعرہ کو عملی جامہ پہنانے میں کہاں تک کامیاب ہوٸی ہے، یہ اس کی عوام میں دلچسپی اور کارکردگی ہی بتاسکتی ہے، انسان مختصر کپڑے پہن کر اور اپنا مکان نہ ہونے پر تو زندگی گزار سکتا ہے مگر روٹی اور پانی کے بغیر زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتا، یہ بات افسرشاہی اور اُمرأ کیا جانیں؟ “قبر کا حال صرف مردہ ہی جانتا ہے” یعنی جس پہ گزرتی ہے وہی جانتا ہے، روٹی یعنی آٹا زندگی کے لیے جتنا اہم ہے اتنا ہی پینےکے لیے شفاف پانی اور عبادات کی پاکیزگی کے لیے بھی ضروری ہے، پانی تو جیسے تیسے لوگ حاصل کر ہی لیتے ہیں، مگر جب سے پیٹرول مہنگا ہوا، روٹی مہنگی ہوگٸی، کیونکہ پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے بعد آٹا مہنگا ہونے کا کیا مطلب؟ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ماہ بعد ہی خاموشی کے ساتھ روزمرہ استعمال کی اشیأ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، جتنی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اتنی تیزی سے کمی نہیں ہوتی، یقیناً یہ متعلقہ اداروں کی کمزوری ہے یا نااہلی، جس سے حکومت کے عوام کو پہنچنے والے فاٸدے اور اقدامات بھی زیرو ہوجاتے ہیں اور سارا الزام حکومت پر آجاتا ہے، ان عناصر کو قرار واقعی سزا دینےکے لیے حکومت سندھ نے عوامی مفاد میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاررواٸی کا فیصلہ کیا ہے، عوام اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کاررواٸی کس طرح عمل میں آتی ہے یا ہمیشہ کی طرح خبروں کی سرخیوں تک محدود ہوکر قصہ پارینہ ہو جاتی ہے، کیونکہ چیف سیکرٹری سندھ،آصف حیدر شاہ اور صوباٸی وزیرخوراک مخدوم محبوب الزمان کی مشترکہ زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جسم میں صوبے بھر میں موجود گندم کے ذخاٸر اور آٹے کی قیمتوں کا جاٸزہ لیا گیا، غیر قانونی ذخیرہ کی گٸی گندم مقرر
کردہ قیمت سے زیادہ وصول کرنے پر ضبط کرلی گٸی، صوبے کے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ خوراک کے اعلی افسران کو اپنے اپنے علاقوں میں کاررواٸی کو حکم دے دیا گیاہے۔
صوبے میں 290 فلورملز اور لاتعداد لاٸسنس یافتہ ٹریڈرز کام کررہے ہیں، حکومت کے ہر برے کام پر تنقید کی جاسکتی ہے تو حکومت کے اچھے اقدام کی تعریف تو بنتی ہے نا۔
حکومت سندھ کے لیے ضروری ہے کہ ان عناصر کو بھی کنٹرول کرے جو عوام کے لیے اٹھاٸے گٸے ہر اقدام کو ثبوتاز کرتے ہیں جیسا کہ ڈبل روٹی/بن بنانے والی کمپنیاں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتے ہی اپنی پروڈکٹ کی قیمت میں اضافہ تو کردیتی ہیں مگر پیٹرول کی قیمت آدھی ہونےپر بھی قیمت کم نہیں کرتیں۔ حکومت کے کیٸے گٸے کمی کے اقدامات کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچنے دیتے، یہی حال نانباٸیوں اور چپاتی بنانے والوں کاہے وہ غریب لوگوں کا نہیں سوچتے، خدا کا خوف تو بالکل ہی ختم ہوگیا یے، روٹی پانی کو تو بہت سستا ہونا چاہیے، کہیں 25 روپے کی روٹی ہے تو کہیں 30 روپے میں فروخت ہورہی ہے جس کا دِل چاہتا ہے اپنی مرضی سے اضافہ کردیتا ہے کہ پیچھے سے ہی آٹا مہنگا آرہا ہے، ہم سستی کیسے فروخت کریں، اِس سِتَم پر بالاٸےسِتَم یہ کہ آٹے کے پیڑے کا وزن بھی کم، یہ بات ان کے لیے نہیں ہے جو حکومت کے کہنے پر اور اپنی ایمانداری پہ فروخت کرتے ہیں۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.