نظمیہ شاعریہم گمان میں رہےکہ ہم سرخ رو ہوگٸے

نظمیہ شاعری
ہم گمان میں رہےکہ ہم سرخ رو ہوگٸے
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ہم ویسے ہی زندگی سے بیزاربیٹھے جاتے ہیں
جس کو دیکھیے اپنے فسانے سنانے آجاتے ہیں
فرصت، نفرت اورکھوج بہت ہے اپنوں کو
زرا کوٸی تو زیشعور سمجھاٸے ان کو
گڑھے مردے نکالنا مشغلہ ہے جنکا
خوشی ایک آنکھ نہ بھانا دوسروں کا
کیڑے نکال تو لیتے ہیں دوسروں میں آخرکار
مگر اپنےداغ دھبے پوشیدہ رہ جاتے ہیں سرکار
رسواۓ زمانہ ہونے سے بچ نہیں سکتے
جو خود اپنا احتساب نہیں کرسکتے
شیشے کا گھراور پتھروں سے دوستی
احتیاط تو کیجیٸے، نازک زمانہ ہے
تنہاٸیوں میں ان کو یاد تو غير ہی آتے ہیں
ہمیں تو وہ وقت ضرورت ہی بلاتے ہیں
ہمارے قرب سے دوری تو ایک بہانہ ہے
ان کا سپنا تو کوٸی اور ہی سہانا ہے
یاد توان کو ضرورآٸیں گے ایک دن
مگر جب ہم یاد بن جاٸیں گے ایک دن
آخرکار، انہوں نے اپنا ظلم آزما لیا
ہم نے بھی اپنا انتہاٸی ظرف آزمالیا
وہ سمجھتے رہے کہ وہ کامیاب ہوگٸے
ہم گمان میں رہےکہ ہم سرخ رو ہوگٸے
کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا اس کھنچاتانی میں
وہ نظروں سے گر گٸے، ہم دنیا سے گزرگٸے
ریحان محمود خان(رم جھم)
04-07-2026


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.