‘اَب آیا ہے، اُونٹ پہاڑ کے نِیچے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طاقت جب حد سے زیادہ قوت پکڑ لیتی ہے تو تکبر آنے میں دیر نہیں لگتی، خوش فہمیاں اس کو غرور میں مبتلا کر دیتی ہیں، جب تک اونٹ پہاڑ کے نیچے نہیں آتا تو وہ اپنے آپ کو سب سے اونچا ہی سمجھتا ہے، کیونکہ جب بندہ اپنی حیثیت بھول جاتا ہے تو اللٌہ اُس میں کمتر اور حقِیر چیز سے ڈر پیدا کرتا ہے، وہ اپنے طاقت کا نشہ میں ایسی حرکتیں کرتا ہے جس سے وہ خودبخود ذلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے، کیونکہ اِسلام کا سپاہی اللٌہ کا سپاہی ہوتا ہے وہ بھی “آلِ رَسول”۔ اللٌٰہ تعالیٰ کی تائید اِس کو ہمیشہ حاصل رہتی ہے، وہی مسلمان سے مُومِن بن جاتا ہے، کوئی اِس کا” بال بِیکا” نہیں کرسکتا، دُشمن کی ہر حرکت اُلٹا اُسی کے گلے کا پھندہ بن جاتی ہے، یہ سب کچھ جو جدید ٹیکنالوجی اور دماغی صلاحیتوں کے ساتھ ہورہا ہے اُس میں تاریخ اور میرے آقائے دو جہاں (ص) کی 1400 سُو سال کے بعد کی اور قیامتِ کُبریٰ سے پہلے کی پیش گویاں شامل ہیں، جو کہہ دیا وہ تو ہونا ہی ہے، جنگ و جدل سے بھرپور معرکے، مہدی (ع) کا ظہور، عیسیٰ (ع) کا تشریف لانا اورفِتنَہ دَجال کو قتل کرنا، یاجُوج ماجُوج کا آنا، کُفر کی قوتوں بشمول اِسرائیل کا تباہ ہونا تو یقینی ہے،کیونکہ کُفر کی قوتیں دَجال کے اِستقبَال کی تیاری کررہی ہیں،مُسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے، اِس قوم میں مِیر جَعفَر اور مِیر صَادِق جیسے غَدار اور اِنفرادی فائیدہ اُٹھانے والے نہیں ہوتے تو ہمیں کوئی نُقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔

ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ ٹرمپ کی شکل میں دُنیا میں اَمَن قائم ہونے جا رہا ہے، مگر جلد ہی ہماری غَلط فِہمیاں گرم بھاپ کی طرح ہوا میں اُڑ گئیں، جو رہ گئیں وہ میزائلوں، دھماکوں اور بمباری کی لپیٹ میں آگئیں، پِھر قرآنِ مَجِید فرقانِ حَمِید پڑھتے ہوئے دو آیتوں پہ نظر پڑی جس میں اللٌٰہ کا فرمان تحریر تھا: ترجمعہ: “اے اِیمان والو، تُم یَہُود و نَصاریٰ کو ہرگز دُوست مَت بنانا، وہ ایک دُوسرے کے دُوست ہیں اور جو شَخص تُم میں سے اِن کے ساتھ دُوستی کریگا، بیشک وہ اِن ہی میں سے ہوگا، یقیناً اللٌٰہ تعالیٰ سَمجھ نہیں دِیتے، اُن لوگوں کو جو اپنا نُقصَان کررہے ہیں،” (پارہ۔ 6.لا یَحَبُ اللٌٰہ۔ سُورہ۔اَلمَائِدہ۔5.آیت۔51) آگے چل کر اسی سورہ میں دُوسری آیت نمبر۔56.میں “ارشادِ باری تعالیٰ ہےکہ جو شخص اللٌٰہ، اُس کے رسول اور ایماندار لوگوں سے دُوستی رکھے گا، یقیناً اللٌٰہ کا گروہ بلاشک غالب ہے” ، اِس کا مطلب یہ ہے کافروں کو جب مُوقع ملے گا مُسلمانوں کو نُقصَان پہنچائیں گے۔ ظاہر ہے فَرمَانِ الٰہی ٹَل نہیں سکتا۔
میں نے پچھلے مہینے ایک مضمون لکھا تھا کہ “بڑی مَچھلی چُھوٹی مَچھلی کو کھا جاتی ہے” مگر یہ بھی صحیح ہے کہ اگر چُھوٹی مَچھلی اللٌہ تعالیٰ کے ساتھ ہوجائے تو بڑی مَچھلی کے حملہ کرتے ہی، طاقت کے نَشہ میں دَانت ہی ٹوٹ جائیں گے، ٹرمپ بَدمست ہاتھی کی طرح اپنے پائوں میں چھوٹے ملکوں کو گھانس پھونس سمجھتے ہوئے روندتے ہوئے اِسرائیل کو اِشارہ دے کر آگے بڑھنے لگا اور سمجھ رہا تھا کہ کچھ اور ممالک اُس کے ساتھ مل کر جنگ کریں گے، قیادت ختم ہوتے ہی اِیرانی قوم ہتھیار ڈال دے گی، مگر سب سے پہلے اِسپین نے امریکہ کو ہری جھنڈی دِکھادی، اِیران پر حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈوں کے اِستعمال سے واشگاف الفاظ میں اِنکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ کے غِیر قانونی اور یک طرفہ حملوں میں شامل نہیں ہونگے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری لازمی ہے، چاہے اِس کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ہسپانوی وزیراعظم کے اِنکار کے بعد امریکہ نے اپنے جَنگی طیاروں کو جَرمنی اور دِیگر یورپی مَمالِک مُنتقل کردیا۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بڑی افطار پارٹی کی تقریب کے اختتام پر، برطانیہ میں مسلمانوں کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ اِیران پر کسی بھی جارحانہ حملے میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے گا، پاکستان، ترکی، مصر، سعودی عرب، روس، فرانس اور چین بھی میدان میں آگئے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کو جنگ روک کر مذاکرات کرنے پر زور دے رہے ہیں، جنگ میں ساتھ نہ دینے کے بیانات سے امریکہ و اسرائیل کو شکست سامنے دکھائی دینے لگی ہے، ٹرمپ کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیئے، کیونکہ زبردست شکست کے بعد یہ کہنا نہ پڑجائے کہ ” اَب پَچھتَائے، کیا ہُوَت، جَب چِڑیاں چُگ گئیں کِھیت” اِس سے پہلے کہ پچھتانے کا موقع ہی نہ ملے، عزت تو دائو پر لگ ہی گئی ہے، جو بھرم رہ گیا وہ بھی ختم ہو جائے، بہتر یہی ہے کہ ہوش آجائے، اب وقت پہلے جیسا نہیں رہا، عزت سے جیو اور جینے دو کے اصول بہترین پالیسی ہے۔
واٹس ایپ پہ پڑھ کر ایک صاحب کے ٹیچر کا سنایا ہوا واقعہ منقول کررہا ہوں، چین کے پہلے وزیراعظم وزیراعظم چو این لائی (Zhou Enlai) 1964میں پہلی دَفعہ پاکستان تشریف لائے وہ کمیونسٹ تحریک کے بہت بڑے رہنما تھے، ہم اُس وقت اِسلام آباد شہر تعمیر کررہے تھے، جو دُنیا کا جدید ماڈرن شہر بننے جا رہا تھا، صدر ایوب خان کو بہت فخر تھا وہ ان کو شکر پڑیاں لے گئے بہت تفصیل سے اسلام آباد کا ماسٹر پلان بتایا، جب بریفنگ ختم ہوئی تو ایوب خان نے فَخر سے اُن کی طرف اِس اُمید سے دیکھا کہ مہمان بہت تعریف کریں گے، مگر چینی رہنما نے کہا آپ کا دُشمن (انڈیا ) اِس وقت اِیٹم بَم بنا رہا ہے اور آپ اِسلام آباد بنا رہے ہیں ؟ بہت گہرا طَنزیہ جُملہ تھا، بھٹو وزیر خارجہ تھے، وہ بھی اُس وقت موجود تھے، ایوب خان کو تویہ بات سخت ناگوار گزری، مگر بَھٹو نے اس بات کو اپنی گِرہ (ذِہن نشیں کر لینا) سے باندھ لیا اور پھر جیسے ہی موقع مِلا فُوری طور پر ایٹمی پروگرام شروع کیا، اگر شہر اور بلڈنگ بناتے رہتے تو آپ اور ہم اس وقت میزائل کھا رہے ہوتے۔

‏الجزیرہ نے (DGISPR) سے انٹرویو لیتے ہوئے، ان سے ایک سوال پوچھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران کے بعد اگلا ہدف پاکستان ہوا تو؟ ڈی۔جی۔آئی۔ایس۔پی۔آر نے سب کی خوش فہمیوں کو دور کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عسکری اِداروں کو اِس بات کی کوئی پریشانی نہیں کہ اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے یا نہیں، دُنیا کو کبھی تجربہ نہیں ہوا کہ وہ کسی ایٹمی طاقت کو آزمائے، اگر ایسا کچھ ہوا تو دُنیا میں وہ ہو گا جس کا تصور شاید اب تک کسی نے نہیں کیا ہو گا۔ اس کے ایسے نتائج نکلیں گے جو شاید دُنیا برداشت نہ کر سکے۔ پاکستان کے بہادر سپوت نے مزید کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، پھر دُہراتا ہوں کہ اِیٹمی طاقت سے ٹکرانا بہت بڑی حِمَاقَت اور ناقابِلِ تَصور عمل ہو گا۔

پاکستان اور دیگر ممالک میں یہی فرق ہے کہ دُنیا سمجھتی ہے کہ پاکستانی فوج جس کے پاس اِیٹَم بَم ہے وہ بیوقوف قوم ہے، نہیں ایسا نہیں، ہاں وہ اِیٹَم بِم کی طرح پھٹنے سے پہلے خاموش ہے، جب ہی خاموشی سے اِیٹم بم بنالیا، دُنیا سوچتی رہی کہ کشکول پھیلانے والا ملک سوئی نہیں بنا سکا تو وہ اپنے پائوں پر زیادہ دیرکھڑا بھی نہیں رہ سکتا، اِیٹم بَم بنانا تو بہت دور کی بات ہے، طاقت کے نشے میں جو خُوش فِہمی اور غلط فہمی اسرائیل، انڈیا اور امریکہ کو تھی وہ ہوا ہوگئی، کیونکہ سب سے پہلے اِیٹم بَم بنانے کے لیے اہم پرزوں کا حصول، ایٹم بم کی بنیاد رکھنے والی عالمی شخصیت سابق وزیرِ اعظم پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اِس نیک کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے مایا ناز سائنسدان “مُحسنِ پاکستان” عبد القدیر خان مرحوم، اُن کی ایٹمی ریسرچ ٹیم، اس کام میں مدد کرنے والے ایک ایک گُمنَام فرد کو جو زِندہ ہیں یا اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے سب کو سَلام، سَلام، سَلام، ان کے لیے پاکستانی قوم دل کی گہرائیوں سے دعا کرتی ہے کہ اللہ اُن سب کو دُنیا اور آخرت کی سُرخ روئی، کامیابی اور کامرانی عطا فرمائے اور پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت جو عالمی سازشوں کو سمجھتے ہوئے، اُن کے مِشَن کو کامیابی سے لے کر چلتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے ملک کا نام روشن کررہی ہے، اُن کو مزید حوصلہ اور ہمت عطا فرما، آمین


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading