تحریر: ریحان محمود خان
ایک چَال کُفر کی ایک چَال اللٌٰہ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرائیل نے جنگ کا آغاز کر کے پہلا مرحلہ میزائلوں کا کھیل دِکھا کر اور ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کو ختم کرکے مکمل تو کرلیا، مگر نیتن یاہو اپنی گردن پر اَن گِنَت معصوم بچوں، بچیوں، نوجوانوں، بیگناہ ضعیف مردو خواتین کا خون سر پہ لے کر منظرعام سے غائب ہوگیا یا اپنے اَنجام کو پُہنچا، تصدیق ہونا ابھی باقی ہے، دیکھیئے آگے آگے کیا ہوتا یے، اگر زِندہ ہے تو اُس کو معلوم ہوگیا ہے کہ غلطی سے اُس نے “شیر کی کچھَار” میں ہاتھ ✋ ڈال دیا ہے، اَب مِیرا بچنا مَحال ہے، جنگ کا نتیجہ اِتنا بھیانک نکلے گا اُس کے اور ٹرمپ کے خَامُ و خَیال میں بھی نہ ہوگا، یہاں بھی امریکہ نے وہی کام کیا کہ اِسلامی ممالک کو آپس میں فرما بردار مُرغوں کی طرح لڑانے کے “چکر وِیو” میں پھنسا دیا، سب کو اپنا وجود امریکہ کی موجودگی میں بھی خطرے میں نظر آنے لگا، وہ سمجھ گئے ہم غیر محفوظ ہیں، مگر اِیران کو اِن سازشوں کا پہلے سے اِدراک تھا، اُس نے بہت مُحطاط و محفوظ انداز میں اپنے اوپر حملوں کا دفاعی جواب دیتے ہوئے شِہری آبادی سے ہٹ کر تابڑ توڑ فِضَائی حملے کئے، اُس نے دُشمن کو”وِرطَۂ حَیرَت “میں ڈالتے ہوئے کہ ہَکا، بَکا دُشمن زِیادہ نُقصان اُٹھاتا ہے، جِس جِس سرزمین سے حملے ہوئے، اُن میں سَعودی عرب، شام، قطر، بحرین، و دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں، جہاں امریکی اڈے قائم تھے، دراصل، اِن حملوں کے بعد یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ ایران نے مسلم ممالک پر حملے کئے ہیں، اِسرائیل اور امریکہ نے ” آ بیل مجھے مار” )(خوامخواہ پَنگا لینا) کے مصداق حرکت کی، ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنے ملک میں زَبردَستی “رِجیم چینج” (حکومت کا تختہ اُلٹ کر اپنی پِٹھُو حکومت لانا) کو ناکام بناتے ہوئے اپنا بدلہ لیتے ہوئے مُوساد کے جاسوسوں کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچایا اور بہت کم عرصے میں اِسرائیل اور امریکہ کو نہ صرف “ناکُوں چَنے چَبوا دیئے” (آئی مصیبت کا کوئی حل نہ نکلنا)، بلکہ اپنی میزائلوں کی رِینج سے پوری دُنیا میں “دھَاک، دَبدَبہ، ڈَر” بِٹھادیا، یعنی” اِمریکہ اور اِسرائیل اپنے اَربوں ڈالرز کے جدید میزائل، بَم اور فوجیوں کی قُربانی کے بعد بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے” دراصل ایران نے یہ جنگی حکمتِ عَملی اپنائی کہ “تھَکا تھَکا کر اور تَاک تَاک کر صحیح نِشانے پر مَارو” جب بھی مارو تو سنبھلنے نہ دو، بَرق رَفتاری سے اچانک پلٹ کر، جَھپَٹ کر، اتنی کاری ضرب لگائو کہ دشمن اپنے حَوَاس کھو بیٹھے، اپنے زخَم ہی چاٹتا رہ جائے، یہ(فارس) یعنی اِیران کی چھ ہزار سالہ تاریخ ہے، ایران جو عرصہ دراز سے کوششیں کرتا چلا آرہا تھا، اسرائیل نے اِس پر حملہ کرکے دِفاعی جواب دینے پر مجبور کردیا۔
ابھی دنیا کے ذہن سے ونیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغوا کاروں کا واقعہ مِحُو نہیں ہوا اور قارئین کو ٹرمپ کے الفاظ بھی یاد ہونگے کہ اگر ہم وینزویلا پر قبضہ نہیں کرتے تو چین کرلیتا۔
ٹرمپ صاحب سے یہ سوال پوچھنے کی کس مائی کے لال میں طاقت ہے کہ اَب تَک چین کو ایسا کرنے سے کس طاقت نے رُوکا ہوا تھا؟ یا چین کوئی کام کرتا ہے تو کرنے سے پہلے ٹرمپ صاحب سے پوچھتا یے، چین نے عالمی طاقت ہوتے ہوئے بھی اپنے دو شہروں ہانگ کانگ (برطانیہ۔UK) اور مَکائو (پُرتگال) کی لیز/پٹٌَہ/مُدت ختم ہونے پر قانونی طریقے سے واپس لیے، ٹرمپ کو ڈَھنگ سے جواب تک دِینا نہیں آتا، یعنی اِس طرح کے اِلزامات لگاتے رہو اور غِیرقانونی قَبضہ کرتے رہو،
اِسپین نے اُس کے غَیرقانونی حملے میں ساتھ نہیں دیا تو اُس کو بھی کھلی دَھمکی لگادی، آپ غور کرلیں، تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد پورے کرتا ہے، مگر اِخراجَات دُوسرے ملکوں کو ڈرا کر اُن پہ ڈال دیتا ہے، ان کے وسائل سے فائیدہ اُٹھانے کے لیے ان ہی کے ہی ملک میں ڈیرے ڈال دیتا ہے، پھر فوجی اِخراجات بھی لیتا رہتا ہے۔
اسلامی ممالک کو قرآنِ مجید سے رہنمائی لینی چاہیئے کہ کیا یہ کافر ہمارے دُوست ہوسکتے ہیں، یہ اِقدامات اُٹھانے چاہیے کہ اپنی سَرزمین حملوں کے لیے اِستعمال نہ ہونے دیں، ایک اکیلے ملک نے سب کو مُنہ دیا ہوا ہے، شُمالی کوریا جو کہ مسلم ملک نہیں ہے مگر اس نے بھی ایران پر حملے کو ساری دنیا کے سامنے غیرقانونی اور دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دَخل اندازی کہا ہے۔
اب دُوسرا اور خطرناک مرحلہ شروع ہوگیا ہے امریکہ کی “بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے”، اَصل میں خلیج میں آئل کی رَسد کو اپنے ماتحت کرنا یعنی آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے پوری دُنیا کو محکوم بنانا وہ بھی اُن ہی کے اخراجات پہ، ٹرمپ کو یہ معلوم ہی نہیں کہ اِس طرح تو کئی ایٹمی طاقتیں میدان میں آجائیں گی اور دُنیا اپنی تباہی کی طرف بڑھنے لگے گی، پھر تیسری عالمی جنگ کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا، آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ حدیثوں سے لگایا جا سکتا ہے، یہ وہی وقت ہو گا جب مہدی علیہ السلام کے ظہور کا وقت قریب آرہا ہوگا، دُنیا کی بساط اب لپٹنے والی ہے، اسی لیے سیقول کے پارہ۔2 میں سورہ بقرہ میں فرمانِ الہیٰ ہے کہ ایک چال کافِر چلتے ہیں، ایک چال اللٌٰہ چلتا ہے، بے شک، ہوگا بھی وہی جو اللہ چاہتا ہے، ٹرمپ نے جو کرنا تھا وہ کرکے دیکھ لیا، زبردست ناکامی ہوئی، اب اگر ٹرمپ اپنی عزت اور وقار بچانا چاہتے ہیں تو ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ وقت ضائع کیے بغیر، کامیابی کے شادیانے بجاتے ہوئے،یہ کہتے ہوئے واپسی کا راستہ (پَتلی گلی) سے نکل لیں کہ ہم نے اپنے اہداف بہت خوبی اور وقت ضائع کیے بغیر پہلے ہی حاصل کرلیے اور ہم اِس جنگ کو دُنیا میں نہیں پھیلانا چاہتے، صرف اور صرف یہی ایک راستہ بچا ہے، کیونکہ وہ اپنی جلائی آگ میں زیادہ دیر ٹِہر نہیں سکیں گے۔
تیسرا مرحلہ اور آخری سازش جو بہت خطرناک ہے بھائی کو بھائی سے مذہبی، سیاسی، معاشی بنیادوں اور فِرقَہ پرستی کی آگ بھڑکا کر جذباتی گوئیوں کو آگے لایا جائے گا جو آپس میں پھوٹ ڈال کر ایران اور پاکستان یعنی فرقہ ورانہ فسادات کو ہوا دے کر شِیعوں اور سُنیوں کے ساتھ خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کی جائے گی جیسا کہ 10 رمضان المبارک کو پاکستان میں دیکھنے میں آیا تھا، ایرانی قیادت کی شہادت نے بِکھری ہوئی قوم کو متحد کردیا اور ایرانی عوام دُشمن کے سامنے “سِیسَہ پلائی ہوئی دیوار”(نہ ٹوٹنے والی دیوار) بن گئے۔ اِس طرح وہاں کے حالات نہ صرف پاسداران اِنقلاب کے کنٹرول میں آگئے، خود ایک امریکی صحافی” ٹکر کارلسن ” کے مطابق سعودی عرب کی خفیہ نے موساد کی جاسوسی کا ایک نیٹ ورک پکڑا ہے جو سعودیہ میں مختلف تنصیبات میں دھماکے کرنے کا اِرادہ رکھتا تھا، جس کا اِلزام لا محالہ اِیران پہ آنا تھا اور اس طرح سعودی عرب اور دیگر اسلامی ریاستیں اِس اندھی جنگ میں شریک ہو جاتیں۔
اسلامی ممالک پاکستان، چین اور روس کی طرف دیکھنے لگے، ایران نے مذاکرات کی حامی بھرتے ہوئے اپنی شرائط رکھ دیں، وہ بھی عالمی دستاویزی ثبوت کے ساتھ کہ اَب ایران پر حملہ نہیں ہوگا اور جنگی نقصانات کا ہرجانہ فریقین سے دلایا جائے تو بات بن جائے گی۔
پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت بہترین کام کررہی ہے اور اِسلامی ممالک سے مِل کر عالمی امن قائم کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، سب سے بڑی بات ہے کہ “معرکۂ حق” کے بعد پاکستان کی اہمیت، رُعَب و دَبدَبہ، جَدید ترین ٹیکنالوجی کا اِستعمال اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا “ڈنکا” دنیا میں بج رہا ہے، ہر ہر لمحے پاکستان ایران اور سعودیہ عرب کے ساتھ نہ صرف کھڑا ہے بلکہ سب ممالک کو مذاکرات کی میز تک لانے کی کوششیں کررہا ہے، پاکستان کو بہت ہوشیاری اور سَمجھ سے کام لیتے ہوئے کہ جب پاکستان پر حملہ ہوا تھا تب کس ملک کا کیا کردار تھا؟ پاک۔سعودی ڈِیفَنس معاہدہ تو بعد میں ہوا، ایرانی عوام “چاہ بہار پورٹ ” پر بھارتیوں سے کہہ رہے تھے کہ بھاگ جائو، تم نے ہمارے مسلم بھائی پاکستان پہ حملہ کیا ہے ؟ پاکستان “پُھونک پُھونک کر قدم ” رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ پاکستانی عوام کو فرقوں کی بنیاد پرایک دُوسرے سے نہ لڑا دیا جائے، سکردو سے لےکر کراچی تک جو بھی ہوا، سب کے سامنے ہے اور جو ہونے والا ہے وہ “کسی کے وہم و گمان” میں بھی نہ ہوگا، اللٌہ تعالیٰ ہم سب کو ہر آفت و بلا سے محفوظ رکھے۔آمین
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
