“عالمی اَمن کا قیام” – “ڈِیل یا ڈِھیل “

تحریر: ریحان محمود خان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈِیل اور ڈِھیل میں کیا فرق ہے؟
“ڈِیل” ایک معاہدہ کہلاتا ہے، جو کہ آپس میں دُو فریقین کی رضامندی سے ہوتا ہے، مگر تیسری قوت کے زیر اثر ہوتا ہے جو کہ امن کے قیام اور جنگ سے نفرت کے لیے مذاکراتی ٹیم بیٹھتی ہے، کچھ ضوابط طے کرنے ہوتے ہیں کہ اس دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئندہ کا لایحۂ عمل طے کرنا ہے، اُسے ڈِیل یا مُعاہدہ کہتے ہیں، “ڈِھیل” اُسے کہتے ہیں کہ طاقتور شخصیت یا ملک کسی دوسرے کمزور ملک کے ساتھ اُس کی شرائط مانتے ہوئے مُعاہدے پر دستخط کرتا ہے، حالانکہ وہ بزورِ طاقت اپنی بات مَنوا سکتا ہے، امن کا موقع فراہم کرتا ہے، یہ ” ڈھیل” کہلائے گی، جنگ بندی میں توسیع اس کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

“ڈِیل”ہو یا ایک دوسرے کو “ڈِھیل”دی جائے، فریقین کا زرا سا سخت رویہ “عالمی اَمن” کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، امن ہی وہ واحد نُکتہ ہے جس پر مشرِق وَسطٰی میں موجود طاقتیں متفق ہیں مگر مُسَلسَل “لبنان اور غزہ” پر حملے اَمن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کی وجہ سے خطے کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے، پاکستان کی امن کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے، جس سے پاکستان کا قد دُنیا میں اونچا ہورہا ہے، ثالثی کا کردار حفاظتی حصار میں، غیر ملکی وفد کو اِس طرح لانا اور واپس پہنچانا کہ اُن کی عزتِ نَفس اور وَقار مَجرُوح نہ ہو، مہمان نوازی میں ہرطرح کا خیال رکھنا اِنتہائی عمدہ اِقدامات ہیں۔
“عالمی اَمن مُعاہدہ”جب ہی مُمکن ہے کہ نِیت صاف ہونی چاہیئے، “نیت صاف مَنزِل آسان” فریقین میں سے کسی بھی ملک کو یہ محسوس نہ ہو کہ اُس کی حَق تَلفی ہورہی ہے، جو کاوشیں نظر آرہی ہیں وہ مثبت ہیں، اُمید ہمیشہ اچھی رکھنی چاہیئے، جَنگ بَندی کرانا آسان کام نہیں، دُونوں کی باتوں کو سَمَجھنا، فُوری طور پر حل طلب مسئلوں کو حل کرنا، اِن مسئلوں پر بار بار بحث کرنا، “عَالمی اَمن” کے نِفاذ میں حائل رُکاوٹوں کو دور کرنا، اس کے حَل کے لیے “تِھنک ٹِینک” (دَانِشوَروں) سے رُجوع کرنا، اِس وقت تک سِیز فائر جاری رہنی چاہیئے، “تنگ آمَد بَجَنگ آمد” آخری آپشن ہونا چاہیئے، دِیرپا اور پائیدار امن کے قیام کے لیے، مذاکرات ضروری ہیں، بار بار بیٹھنے سے 47 سالہ نفرت کی برف ایک دَم نہیں پگھلے گی وقت تو لگے گا، نا اُمیدی کُفر ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی ٹیم بھی اَمن کے قیام کے لیے سَنجیدہ نظر آرہی ہے، ورنہ جنگ بندی میں توسیع یقیناً “قیامِ اَمن” اور “کامیاب معاہدے” میں جہاں ایران کا ہاتھ ہوگا، وہیں ٹرمپ کے سَر سے بھی دَردِ سَر ختم ہو جائے گا، امن معاہدہ وہی پائیدار ہو سکتا ہے جس میں کسی بھی فریق کو یہ محسوس نہ ہو کہ اُس کو دَبائو میں لے کر یا دُھونس دَھمکی سے کام لیا گیاہے، کیونکہ یہ دو یا تین ملکوں کی بقأ کا مسئلہ نہیں، “عَالمی اَمن ” کا مَسئلہ ہے جس میں، بڑی بڑی طاقتیں امریکہ، روس، چین، فرانس، بَرطانیہ، اِٹلی سمیت ایران، پاکستان، اسپین، کیوبا، وینزویلا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام، لبنان، شام، مصر، دبئی، شامل ودیگر متاثرہ ممالک میں شامل ہیں، کیونکہ آئل کی قیمتیں آسمان پر پہنچنے کی وجہ سے تمام ممالک کی معیشت زوال پزیر ہے، دو فریقِ حالتِ جنگ میں ہیں، تیسرا ملک جس کی وجہ سے “عَالمی اَمن” خطرے میں پڑا، وہ شرارتوں سے باز نہیں آرہا، اسے لگام دینے کی کون ضمانت دیگا، صرف تنِ تنہا ملک پاکستان ثالث ہے، یہ تو دُنیا مان گئی ہے کہ ثالث”مارخوردَبَنگ” ہے اور ثالث کا کردار دَبَنگ تھا، تو فریقین کو مذاکرات کی میز تک لے آیاہے، جنگی فریقین بھی مُخلِصانہ کوششیں کررہے ہوں تو یقیناً اَمن ممکن ہو کر رہےگا، نیتیں بھی صاف نظر آرہی ہیں ورنہ جنگ میں وقفہ یعنی جنگ بندی ممکن ہی نہیں تھی، ٹرمپ کی ٹیم ہو یا ایران کے عراقچی کی ٹیم ہو، ریفری پاکستان ہے جس پہ دونوں ٹیمیں مکمل بھروسہ کررہی ہیں، ابھی تک سب کچھ اچھا چل رہا ہے، اللہ کرے آگے بھی اچھا ہو اور مذاکرات “کچھ لو اور کچھ دو ” پر کامیاب ہوجائیں ، آمین۔
میں نے گزشتہ مہینے زبان بندی پہ ایک کالم تحریر کیا تھا کہ “جنگ بندی سے پہلے زبان بندی ضروری یے” ، ورنہ امن کی کوششیں بیکار جاسکتی ہیں اور دنیاء تباہی کی طرف نکل جائے گی، قارئین ہم اگلے کالم میں ایران میں “رِجیم چِینج” نہ ہونے اور اُن عوامل پر غور کرکے ایران کے عوام کے اِستقامت کو باریک بینی سے دیکھیں کہ اِتنی تباہی کے بعد بھی دُنیا میں وہ سَر اٹھا کر کیسے کھڑا ہے؟ کسی ملک سے بھی کشکول پھیلا کے بھیک نہیں مانگی کہ ہم تباہ ہوگئے ہیں، ہمیں امداد دو۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.