اللہ اپنے بنائے ہوئے بندے کی رَگ رَگ سے واقف ہے۔

میری نظر اخبار کی ایک خبر پر مرکوز ہوئی جو ایک واقعہ کی شکل میں موجود تھی، جس میں 36 سالہ برطانوی خاتون ہیلی بلیک نے بتایا کہ جب میں جھولے میں لیٹی ہوئی اپنی بیٹی کو دُودھ کی بوتل منہ سے لگانے کے لیے جُھکی تو اُس نے زور دار جمائی لی ، اُس کو جمائی لیتا دیکھ کر مجھے بھی جمائی آنے لگی ، میں اپنی آتی ہوئی جمائی رُوکنے میں ناکام رہی، وہ کہتی ہیں کہ میں نے جیسے ہی منہ کھول کر جمائی لی، اُن کو اپنی گردن میں بجلی سی چمکتی ہوئی محسوس ہوئی ، ایک منٹ کے ہزارویں حصے میں اچانک اِس عمل سے اُن کی گردن کی ہڈی سرک گئی اور اُن کا اُٹھا ہوا باز و ہوا میں معلق رہ گیا ، تکلیف محسوس ہوتے ہی ہیلی نے اِشارے سے شوہر کو ایمبولینس بلانے کے لیے اشارہ دیا ، ہیلی کو اسپتال لے جایا رہا تھا تو اُس وقت بھی وہ شدید درد محسوس کر رہی تھی ، ڈاکٹرز بھی فوری طور پر کچھ سمجھ نہ سکے، تو ہیلی کی گردن کا اسکین لینے کے بعد ڈاکٹرز کو معلوم ہوا کہ زوردار جمائی لینے کی وجہ سے ہیلی کی گردن کی C6 اور C7 ہڈیاں ، اُن کی ریڑھ کی ہڈی (لمبر اسپائن ) کی ہڈیوں سے آگے آگئی ہیں، یعنی ہڈیوں کی قطار میں جو تواتر کے ساتھ جڑی ہوئی ایک دُوسرے کو سہارا دے رہی ہوتی ہیں، اپنی قطار سے دو (۲) ہڈیاں ہٹ گئیں، بعدازاں ڈاکٹرز نے اِس واقعے کو عجیب و غریب واقعہ قرار دیتے ہوئے ہیلی کے زندہ رہنے کے چانسِز فِفٹی فِفٹی قرار دِیا، جس کے بعد ہیلی کی فوری سَرجری کی گئی اور ڈاکٹرز اُسے بچانے میں کامیاب ہو گئے، چھ (6) ماہ تک ہیلی وہیل چیئر پر رہی تاہم اب وہ مکمل طور پر صحتیاب ہیں، ہیلی نے کہا کہ اب جب بھی جمائی آنے لگتی ہے تو میں گھبرا جاتی ہوں اور صحتیابی کے باوجود آج بھی میں اکثر اپنے بازوؤں، کمر، گردن اور سر میں درد محسوس کرتی ہوں۔
کہنے کو تو ایسے واقعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں مگر یہ واقعہ سامنے آجانے کے بعد نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں دِماغی طور پراپنے ماضی 1988 ء میں چلا گیا کہ جب میں ریگل چوک، الہٰی سینٹر، صدر کی دُوسری منزل پر واقع معروف کراچی ایکسرے سینٹر میں شام کو پارٹ ٹائم سروس کرتا تھا، ڈاکٹر محمود، ڈاکٹر سلیم کیانی، ڈاکٹر ہارون اور ڈاکٹر گلزار احمد (ریڈیالوجسٹ) ، جن کا شمار پاکستان کے مشہور و معروف اور قابل ریڈیالوجسٹ میں شمار ہوتا ہے، کی نگرانی میں رپورٹس ٹائپ کرتا تھا، وہاں کا ماحول بہت اچھا تھا، خاص کر ڈاکٹر گلزار صاحب جو اُس وقت مُرشد ہسپتال میں بھی ریڈیالوجسٹ تھے ، تقریباً 35 سال سے اپنا سٹی ایکسرے اینڈ الٹرا ساؤنڈ، III-B – 3/27 – A، بالقابل آغا خان لیبارٹری، (صابر مارکیٹ)، کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور رواں سال میں انتہائی قابل ایم ۔ بی۔ بی۔ایس ڈاکٹر طفیل خانزادہ، افروز ڈائگناسٹک لیب کے ساتھ مریضوں کی خدمات میں پیش پیش ہیں، ڈاکٹر گلزار صاحب مجھے باقاعدہ ہڈیوں کی ساخت، کھوپڑی (اسکل) چیسٹ کی پسلیوں ( رِب کیج)، چیسٹ ڈزیز، فائبروسسز کیلسیفکیشن اِز سین، برونکائیٹس، سائینو سائیٹس، ناک کی ہڈی کا بڑھنا، روٹ کینالز، جلدی بیماریاں، فَنگل اینڈ فنگس ڈزیز ،جلدی انفیکشن، ہارٹ سائز، سروائیکل بونز ، لُمبر اِسپائن، ڈیجینیریٹیو چینجز (ہڈیوں کی شکست وریخت، ٹوٹ پھوٹ ) ، گردوں کا سائز ، نی جوائنٹس، پَٹیلوفیمورل جوائنٹس)، اِیلیوجوائنٹس ہیں، حِِب جوائنٹس ، مَسلز معہ مَسکیولر پین، پیدا ہونے والے بچے کے فیٹل ہیڈ سائز، میموگرافی، چھوٹی آنت، بڑی آنت معہ ہرنیا وغیرہ کے بارے میں تفصیلاً آگاہی دیتے تھے یا یوں کہنا زیادہ اچھا ہوگا کہ ہر ایکسرے سے متعلق سمجھاتے بھی تھے ، وہاں میڈیکل کی زبان سے آگاہی بھی ہوئی جو کہ آج 37 سال بعد بھی ایک ایک حروف ذہن میں محفوظ ہے، جو لوگ اچھے ہوتے ہیں اُن سے حاصل کیا ہوا ایک ایک لفظ اُن کی عزت کے ساتھ آج بھی میرے دل میں زندہ ہے کیونکہ وہ ہمارے اُستاد اور مُحسن بھی ہیں ۔ چلیئے ہم اِس اَچھائی کے مسئلے کو “‘تقابُلِ اَدیان “‘ سمجھ کر نہیں، اللٌٰہ رَب العالمین کے حُکم کی رُوشنی میں دیکھتے ہیں، اللٰہ کا ہر حُکم ایک نعمت بھی ہے جس میں ہماری بقاء اور سلامتی کے راز پوشیدہ ہیں، جن سے یہ پتہ چلے گا کہ ہمارا اِسلام ایک مکمل “‘ضابطہ حیات “‘ بھی ہے جو تمام اِنسانیت کی بھلائی کا دَرس دیتا ہے، جمائی لینا ایک قُدرتی فِطرتی فعل اور عمل ہے، مگر جو شخص جمائی لے رہا ہوگا تو اُس کا منہ بہت بے ڈھنگے انداز میں جانوروں کی طرح کُھل جاتا ہے،حیرت انگیز بات یہاں یہ ہے کہ اُس کو جمائی لیتے دیکھ کر دیکھنے والے کو خود بھی جمائیاں آنے لگتی ہیں، اگر یقین نہیں ہے تو تین خواتین یا مرد بیٹھے ہوئے بات کر رہے ہوں اور اُن میں سے ایک شخص جمائیاں لینے لگے، تو آپ دیکھیں گے کہ جو دُوسرے افراد اُس محفل میں بیٹھے ہوئے ہیں اُنہیں بھی بے ساختہ فوراً ہی جمائیاں آنے لگیں گیں، یہاں مجھے اللٰہ کے وہ احکامات یاد آئے جو اُس نے ہمارے پیارے آقا کے ذریعے ہم تک پہنچائے، اللہ تعالیٰ کے فرمان کا ذکر ہی کرونگا تو بہتر ہوگا، کیونکہ اللہ تعالٰی کو معلوم ہے جو مٹی کا پُتلا (بَندَہ) میں نے بنایا ہے ، اُس کی حفاظت کیسے ہوگی؟ اِس لیے اُس نے آسمانی صحیفے نازل فرمائے ، اچھے برے کی تمیز سکھائی ، اسلام نے 1400 سو سال پہلے ہی اِنسانی ضابطہ حیات میں بہتر زندگی گزارنے کے اَدب و آداب بتائے ، اِس میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ جب جمائی آئے تو فورمُنہ پر ہاتھ رکھ لینا چاہئے کھانا کھاتے ہوئے خاموش رہنا چاہیئے، کیوں؟ مندرجہ بالا واقعہ ہوا یہ اِس چیز کی نِشاندھی کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی رَب المسلمین نہیں رَبُ العالمین ہے، ہیلی خاتون تو مسلمان نہیں عیسائی تھی ، مگر یہ اِحکامات تو اللٰہ کے ہر اِنسان کی بہتری کے لیے ہیں، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا مَسلک دِین سے تعلق رَکھتا ہے، اگر وہ الگ سَمجھتا ہے تو اپنے جسم کے کسی حصے میں سوئی چھو کر خون کی رَنگت دیکھ لے، وہ ہی بَناوٹ ، وہی چلنے، کھانے اور سانس لینے کا ایک جیسا انداز ، جب ہیلی نے جمائی لی تو اُس کا مُنہ غلط انداز میں کھلا ہوا تھا، ہوا جسم میں دَاخل ہوئی تو، جَبڑے کی کھال میں کھنچاؤ پیدا ہوا، گردن کی سروائیکل ہڈیوں پر ایک دَم زور پڑا، ہیلی کی گردن کی C6 اور C7 ہڈیاں اُن کی ریڑھ کی ہڈی (لمبَر اسپائن) کی مجموعی ہڈیوں L4 اور L5 سے آگے نکل کر ہڈیوں کا وہ سیٹ۔اَپ جو اللہ نے اُن نازک ہڈیوں کو ایک خاص ترتیب سے ایک دُوسرے پر بیٹھی ہوئی حرام مغز سے جڑی ہوتی ہیں، اُن میں اُس وقت دوران خون سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں رُکا، ہیلی اگر اپنے مُنہ پر ہاتھ رکھتی جیساکہ حُکمِ اللٰہ تھا، تو گردن کی ہڈیوں پرزور نہیں پڑتا، ایک بڑی دُوسری ہڈی سے آگے نکل جانے والی ہڈی میں جام ہوگئی ، جس کی وجہ سے بازو سے جڑا ہوا ہاتھ معلق نہ ہوتا اور منہ کو بے تحاشہ پھیلنے نہیں دیتا، گردن کے نیچے سے گزرتا ہوا خون اپنی روانی برقرار رکھتا، جیسے ہی ہاتھ منہ پہ آتا جمائی ختم ہو جاتی، اور جسم اپنی قدرتی ساخت پر واپس آجا تا اور یہ خطرناک صورتحال پیدا نہ ہوتی، یہ کیسے ہوا ؟چھوٹی بڑی، رنگ برنگی وریدو کے جھرمٹ میں لیے ایک پورا جال موجود ہے، جن میں پٹھے ( مَسَلز ) موجود ہیں ، اُس پر اللہ کا اِنعام یہ کہ اگر ایک ورید خون پہنچانے میں ناکام ہو تو دوسری ورید یہ کام کرنا شروع کر دیتی ہے، میرے مالک کی مصوری کو دیکھئے، پیمائش اور میزان ( بیلنس) کا مطالعہ کیجیے اور غُور کیجئے کہ کیا قابل سے قابل ریاضی دان ایسی سیٹنگ کرے گا، مختلف انسانی شکلیں، لکیریں ایک دُوسرے سے مختلف، اِن لکیروں میں سب راز پوشیدہ کہ انسان نے کیا، کیا؟، اور کہاں، کہاں؟ کس وقت کرنا ہے، اُس پر کاریگری دیکھیے کہ اُوپر سے نیچے تک ریڑھ کی ہڈیوں کو تسبیح کے دانوں کی طرح دِماغ سے نکلتی ہوئی ایک ہڈی کے بعد دُوسری ہڈی کے ساتھ ایک خاص جگہ (Disk Space) دے کر بٹھایا گیا، ایک دوسری ہڈی کے ساتھ جوڑتے ہوئے نیچے لے کر آتے ہوئے ایک درمیانی جگہ سے پھر چھوٹی ہوتی ہے ہوئی ہڈیوں کا کولھے (حِِب جوائنٹ) کے آخری حصے پر ایک نکتے پر اختتام ہوتا ہے، قبر میں یہی نکتہ سلامت رہتا ہے اور دُوبارہ زندہ کیئے جانے کےعمل کاحصہ ہوگا ، یہی ریڑھ کی ہڈی پورے جسم کے نظام کو متوازن رکھتی ہے۔
میں مستقبل کی نشاندھی بھی کرتا چلوں کہ اللہ تعالٰی نئی نسل کے جسموں کو صحت کے ساتھ سلامتی میں رکھے، آمین، ہم غیر محسوسانہ انداز میں موبائل ٹیکنالوجی کے غلط مُسَلسَل، بے جا اِستعمال اور قیمتی وقت کو ضائع کرنے کے نقصانات سے آگاہ ہونے کے باجود ہٹ دَھرمی سے اپنی گردن کو غلط انداز میں جُھکے رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی میں کُب یعنی (اُبھار، ٹیڑھا پن ) پیدا ہورہا ہے، ہم اور ہمارے ناپختہ ذہن والے اِنتہائی چھوٹے بچے ، مرد وخواتین ، نوجوان نسل اور بوڑھے اِس بات سے بے بہرہ، نابَلد اور ناآشنا اپنے جسم کی قدرتی ساخت کو تبدیل کرتے ہوئے کُبڑے ہور ہے ہیں، جس کی وجہ سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔
مندرجہ بالا واقعہ ہماری غلطیوں کی طرف اشارہ کرتا ہےکہ انسان کو اللٰہ تعالیٰ نے دُنیا میں بھیجا ضرور مگر اُس کو بار بار سمجھا بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنے جسم، سوچ ، بلندی، پستی، چلنے پھرنے ، کھانے پینے ، اُٹھنے بیٹھنے، دوڑنے بھاگنے، ایک دُوسرے سے بات کرنے کے آداب پر توجہ دینا ضروری ہے، غرض کہ ہر، ہر لمحے حضرتِ اِنسان کو اللٌٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکراُس کا شُکر ادا کرتے رہنا چاہیے، اللٌٰہ تعالیٰ کی مرضی سے جینے میں ہی اپنا اور زندگی کا فائدہ ہے، اللٌٰہ تعالیٰ غور و فکر کرنے کی سُوچ عَطا فرمائے۔ آمین


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading