
یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم نے وہ علمی، تعلیمی، تربیتی اور اخلاقی کارخانے ہی بند کردئیے جہاں اِنسان کی ذہنی نشو نما کے ساتھ اَخلاقی اقدار، اپنے آبائو اجداد کے نقش و قدم پہ چلنے کے اسباق پڑھائے جاتے تھے، مگر آج کی اِس نشست اور کثیر تعداد میں شرکاء کو دیکھ کر مِحسوس ہورہا ہے کہ اِن کارخانوں نے پھر سے اپنا کام کرنا شروع کردیا ہے، اِس کا سِہرا ندیم ظفر صدیقی کو جاتا ہے، جنہوں نے عملی جدوجہد کر کے اِتنا کامیاب پروگرام ترتیب دِیا، شُرکاء کا جمعِ غفیر دیکھ کر معلوم ہو رہا کہ ہم نے رَضی حیدر صاحب کے شایانِ شان پروگرام نہیں کیا کیونکہ جگہ کم پڑگئی، کراچی کے ذیلی دفتر کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ یہ پہلا پروگرام ہی کامیابی کی شان بن گیا، اِن خیالات کا اظہار اَکادمی اَدبیاتِ پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اکادمی اَدبیاتِ پاکستان، کراچی سینٹرکے زیرِ اہتمام “‘اہلِ قلم سے ملیے”‘ کے عنوان سے ممتاز شاعر، محقق اور ادیب خواجہ رَضی حِیدر کے ساتھ مکالمہ کی نَشِست گزشتہ روز اَکادمی ادبیاتِ پاکستان، کراچی سینٹر سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اُنہوں نے مزید کہا مجھے اُمید سے زیادہ حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں، ادب و ثقافت کے حوالے سے کراچی میں پہلی ہی نشست اتنی کامیاب نَشِست ہوئی، ایسی نشستوں کا اہتمام کرنے کے لیے شعراء اور ادیبوں کی ایک فہرست تیار کرلی گئی ہے اور رضی حیدر صاحب کے نام سے ہی اِس کا شاندار آغاز ہوگیا ہے، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ آج کی تقریب اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ رضی حیدر جیسی ملنسار اور معصومانہ ذہن رکھنے والی شخصیت بہت کم ہوتی ہیں، رضی حیدر صاحب کی شفقت جب بھی دیکھتی ہوں مجھے میرے والد یاد آجاتے ہیں، انہوں نے جو کتابیں قائدِ اعظم محمد علی جناح پر لکھیں وہ میں نے پڑھیں ہیں، ان کے ہاں تعلیم زندہ کتاب بن جاتی ہے، وہ اپنے اشعار میں الفاظ اتنی خوبصورتی سے اِستعمال کرتے ہیں کہ اِس کی ترتیب سے ایک”‘ زندہ کتاب”‘ بن جاتی ہے، انہوں نے بہت کتابیں لکھی ہیں اور 200سے زیادہ اسکرپٹ لکھے ہیں، ڈاکٹر اقبال پیر زادہ نے کا کہ ہمارا اور ان کا ساتھ 32 سال پرانا ہے، رضی حیدر انتہائی مدبر اور مثبت سوچ رکھنے والے انسان ہیں، مبین مرزا نے کہا کہ اکادمی ادبیات نے جو سلسلہ اسلام آباد سے شروع کیا تھا، اُس کا آغاز اب کراچی میں ڈاکٹر نجیبہ عارف کی کاوشوں سے آگے بڑھ رہا ہے، رضی حیدر صاحب نے اپنے عہد کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے، قائدِ اعظم کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ فرض کفایہ تھا جو ادا ہوگیا، پروفیسر انیس زیدی جو کسی تعارف کے محتاج نہیں اُنہوں نے کہا کہ میں خواجہ صاحب کو ان اکابرین میں شمار کرتا ہوں جو وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنا وقت تعمیری کاموں میں صرف کرتے ہیں، ان کے مزاج میں ٹکرائو اور پاکیزگی ہے جو ان کو ورثے میں ملی ہے،انہوں نے پاکستانیت پر بہت اچھا لکھا ہے، خواجہ رَضی حیدرنے اپنے اعزاز میں رکھی گئی نشست سے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد صاحب کی علمی و ادبی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ ایک مرتبہ میرے والدنے مجھ سے پوچھا کہ “‘حیثیت بنانی ہے یا شَخصیت”‘، حیثیت تو مِحنت سے بن ہی جاتی ہے مگر شَخصیت بنانے کے لیے تمہارے آبائو اَجداد نے بہت مِحنت اور جِدوجَِہد کی اور نام کمایا۔ میں نے قائدِ اعظم پر دُو (2) کتابیں اور تین (3)شعری مجموعے تحریر کئے، نشست کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی نے اپنے مُدبرانہ انداز اور دِھیمے لہجے میں جو کہ اُن کی گفتگو کا خاصہ ہے، کہا کہ خواجہ رَضی حیدر کی آج کی یہ نشست ہمیشہ یادگار بن کر ہمارے ساتھ رہے گی، ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کراچی آنے سے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ کراچی میں اکادمی کے کام کو کیسے انجام دینا ہے اور انہوں نے کامیابی کے ساتھ اس کا آغاز کردیا ہے، رضی حیدر کی شاعری کی خصوصیت یہ بتا رہی ہے کہ ہال میں وہ سب کے دل میں موجود ہیں، اگر پاکستان اور قائد اعظم پر گفتگو کرنے کو کہا جائے تو رضی حیدر سے بہتر کوئی بیان نہیں کرسکتا، اِن کی ادبی خدمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اِن کو”‘ اِسکالر”‘کا خطاب دیا جائے کیونکہ یہ کام اور کام کرنے والے لوگ ہیں، نشست کی نظامت ممتاز اور معروف ادبی و سماجی شخصیت جناب ندیم ظفر صدیقی نے انتہائی منظم انداز میں انجام دی، اِس موقع پر سابق صوبائی وزیر حکومت سندھ، جناب مدد علی سندھی، کراچی پریس کلب کے الیکشن کمیٹی کے وائس چیئرمین ، حسن امام صدیقی، ممتاز علمی اور سماجی و ادبی شخصیت طارق جمیل، ڈاکٹر خورشید احمد، کالم نگار، کہانی نویس اور مصنف، ریحان محمود خان، اہلیہ و اویس ادیب انصاری، کَرَن سِنگھ، مزاح نگار محترمہ غزالہ خالد، محترمہ پروفیسر نوشابہ صدیقی، محترمہ ہما بیگ، کھتری عصمت علی پٹیل، اقبال لطیف،ندیم ظفر(آرٹسٹ) و دیگر ادبی و سماجی شخصیات کثیر تعداد میں موجود تھیں۔









Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
