جب ” آپرِیشن سِندُور بَنا آپرِیشن تَندُور”، پھر بھی عَقَل نہیں آئی۔

ر

۔

کیا کریں؟ کیا نہ کریں؟، کیا کہیں؟ اور کیا نہ کہیں؟، ہم پڑوسی کے ادب و اِحترام جو ہمارے اِسلاف اور اِسلام کا دَرس ہے سوچتے رہ جاتے ہیں،بلکہ دُوستی کا قدم بھی بڑھاتے ہیں، مگر وہ اپنی سوچ کی گندی اور بدبودار چال چل جاتاہے جس سے پورے خطے میں جنگ کے بادل چھاجاتے ہیں، اس کے غیرشعوری بیانات سے امن غیر محفوظ ہو جاتاہے، جب بھارتی قیادت اور آرمی چیف ایسے بیانات دیں گے کہ خود اُن کی بے عزتی اور جگ ہنسائی ہو تو کیا ماحول پُرامن رہے گا؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کو اِس بات کا احساس تک نہیں ہوتا، جیسا کہ بھارتی آرمی چیف کا تازہ ترین بیان کہ “‘آپریشن سیندور”‘ تو ایک ٹریلر تھا، تو میری بات سچ ہوگئی کہ جو میں گزشتہ کالمز میں تحریر کر چکا ہوں کہ بھارتی قیادت اور اُن کی آرمی فلمیں بہت دیکھتی ہے، ظاہر ہے یہ اُن کا کلچر ہے جو بہت مشہور ہے، کہ “‘گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوگا مگر فلمیں اور سپنے ضرور دیکھیں گے”‘، کیونکہ فلمیں، ڈرامے، تھیٹر دیکھتے ہوئے ہیرو بننے کے چکر میں مُکالمے (فلمی ڈائیلاگ) بول کر خوش ہو جاتے ہیں، جواسکرپٹ میں لکھا ہوا مل جائے تو وہ الفاظ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، چلو مان لیا یہ ٹریلر تھا مگر اُس کے جواب میں فرانس کے رافیل طیاروں، لاتعداد ڈرونز، اسلحہ ڈیپوز اور رُوس سے خریدا ہوا دِفاعی نظام ایس۔400، کی تباہی تو سپنا نہیں حقیقت تھی، جس کا اِظہار امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریروں میں بار بار کررہے ہیں، بھارتی قیادت کو چونکہ سَپنے دیکھنے اور سَپنوں میں رہنے کی عادت ہے، اس لیے وہ جاگنا ہی نہیں چاہتی، جب خلافِ تَوقع اچانک کسی شخص کا سُہانا، سُندر سَپنا ٹوٹتا ہے تو اُس کی دِماغی حالت کا اُلٹنا، بِہکی بِہکی اور اُونگی بُونگی باتیں کرنا تو بنتا ہے نا، مودی جی کے دماغ میں یہ چھوٹی سی بات نہیں سَما رہی یا دِماغ ہی نہیں ہے کہ جب ٹریلر کے جواب میں اتنی بڑی تباہی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ، تو پوری فلم بھی چلائی تو کیا ہوگا؟ اُس کا حشر دیکھنے کے لیے زندہ رہنا بھی ضروری ہے، اللہ کو تو نہیں مانتے، نیوٹن ہی کو مان لو جو کہتا ہے کہ ہر عمل کا رَدِعَمل ضرور ہوتا ہے، بے جان کِرمِچ کی گیند ہی کو لے لیجئے ، اُس کو زمین پر بار بار مار کے دیکھو، ہر بار رَدِعَمل سامنے آئے گا، یہ ایک اَٹل حقیقت ہے، فرق یہ ہے کہ پاکستان بڑھکیں نہیں مارتا، ردِعمل، تحفظات اور اپنے دِفاع میں میزائل مارتا ہے، وہ بھی ہوش و حواس میں رہ کر ، بھارت کی معصوم جنتا کا خیال کرتے یوئے، معصوم شہریوں کا کیا قصور؟ یہ تو کسی بھی ملک کی قیادت ہر مُنحصر ہوتا ہے کہ وہ سِسکتی انسانیت اور عوام کے زخموں پر مَرحَم رکھے۔
پاکستان، پاکستان ہے، کوئی اندھا، جابر، ظالم اِسرائیل نہیں ، جس کا کھانا معصوم، بے گناہ، نہتے، بھوکے ، غریب ، زخمی، خون میں نہائے ہوئے بچے، نوجوان، ضعیف خواتین اور مرد ہوں، پاکستان نے جدید اسلحہ “‘شوکیس”میں رکھنے کے لیے نہیں اور نہ ہی نُمائش کے موقع پر تماشائیوں کے لیے بنایا ہے، پاکستان نے ہر موقع پر بلندو بانگ آواز میں بتایا ہے کہ وہ اِیٹمی صلاحیت میں اضافہ اپنی دِفاعی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کرتا ہے کیونکہ وہ ایک ذِمہ دار ملک ہے، مئی 2025ء کی جنگ اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھارت کے تمام اسلحہ خانوں اور فوجی اڈوں پر ایک ساتھ کمپیوٹرائزڈ نشانہ لینے کے باوجود حملہ نہیں کیا، صرف بھارتی قیادت کو ہوشیار اور آگاہ کیا کہ تمہاری زرا سی غلط حرکت تم کو بہت بڑا نقصان پہنچائے گی، یہ بھی بتایا کہ بھارت کے خُفیہ اَڈے کہاں کہاں ہیں؟، بھارتی قیادت کا اسی وقت نظامِ ہاضمہ خراب ہوگیا تھا اور شاید دُھوتی بھی گِیلی ہوگئی تھی، وہ پیٹ پر ہاتھ رَکھ کر درد سے کراہتے ہوئے، لُوٹا لے کر شُوچالیہ (بِیتُ الخَلا) جانا آنا شرُوع کردیا، اُس کے بعد کچھ عرصے کے لیے “‘شَمشَان گَھاٹ”‘ کی طرح خاموشی چھاگئی، ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی درد ہلکا ہوتا ہے، واپس اِس کے نئی فلم اورنئے ڈرامے شروع ہو جاتے ہیں، اُن کے دِیش کا ماحول ہی اِیسا ہے، ہرکام آئیڈیے پر کرتے ہیں، دِماغ ہوتا تو پڑوسیوں سے تعلقات اِستوار کرتے، جِیوُ اور جِینے دو کے اُصول اپناتے، اپنی طاقت نہیں گنواں تے، “‘ معرکۂ حق “دراصل جنگ کی اِبتداء تھی اور اب اِنتہا یعنی آخر ہوگی، ایسا نہ ہو کہ فلم تو فلم ہے، سارے کردار ہی صفحہ ہستی نہ مٹ جائیں، بہتر یہی ہے کہ نقصان سے بچا جائے، سامنے سے ہونے والی شکست کو تسلیم کرکے، افغانستان کے دہشت گردوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر کارروائی نہیں کی جائے اور افغانستان کو بھی شعور کے ساتھ اپنی عوام اور ملکی مفاد میں فیصلے کرنے چاہییں، اگر پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی سرپرستی ان کے ملکی مفاد میں ہے، تو پھر پاکستان بھی حق بجانب ہے کہ وہ اپنے ملکی مفاد میں سرحدوں کے خلاف ہونے والی ہر دہشت گرد کارروائی کو روکنے کے لیے آخری حد تک جاتے ہوئے دہشت گردوں کو وہاں پہنچادے جہاں وہ پاکستان کے اِسکولز اور کالجوں کے معصوم اور نہتے طلبہ و طالبات کو پہنچانا چاہتے ہیں، اگر پاکستان امن نہیں چاہتا تو مذاکرات کی میز پر کبھی نہیں آتا، کیونکہ طاقت کے نشے میں رہتے ہوئے، کسی مظلوم کے خلاف طاقت استعمال کرنا، بہادری نہیں کمزوری ہے۔
مگر ہوتا یہ ہے کہ امن قائم کرنے کو دہشت گرد اور اس اُن کے سَہولَت کار، سیکورٹی فورسز کی کمزوری سمجھتے ہیں، افغانستان کی طالبان قیادت نے تاحال نہ ہی مثبت جواب دیا ہے اور نہ ہی اُن دہشت گر فتنہ الخُوارِج کو رُوکنے کے اِقدامات کئیے، بلکہ بھارتی قیادت سے مذاکرات کر کے اُن کی سرپرستی حاصل کرلی، ایسی خطرناک صورتحال میں پاکستان ہوشیار نہ رہے تو اُس کی سالمیت پر سوالیہ نشان آتا ہے، دشمن کے خاموشی سے اقدامات سے بے خبر نہیں رہا جاسکتا، یہ بے وقوفی اور لاپرواہی ہوگی، مگر نہ صرف سیکیورٹی اِدارے، قیادت اور عوام باخبر رہتے ہوئے، دُشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہوئے قومی یکجھتی کے ساتھ ہر طرف سے چوکنا ہیں، وطن کی سرحدوں کی حفاظت اور قربانی کے لیے تیار ہیں، نام کسٹم پیڈ گاڑیوں خیبرپختون خواہ کے دشوار گزار راستوں میں آسانی سے استعمال کیجاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ یہ دہشت گرد دنیا کے لیے بھی خطرہ ہیں، حیرت ہوتی ہے اِن کی ذہنیت پہ کہ یہ اسلامی لوگ ہیں جو تجارت کو ترجیح دینے کے بجائے، دہشت گردی کو فوقیت اور فروغ دے رہے ہیں جبکہ تجارت اللہ کو پسند ہے، اپنے اسلامی بھائی کو چھوڑ کر عید مسلم سے ناطہ جوڑ رہے ہیں، جو کھلا دشمن ہے اور اِس پر بھرُوسہ کرنا بہت جلد واضح کردیگا کہ افغانستان اور بھارت کی دُوستی کا یہ رِشتہ جو پاکستانی دُشمنی پر قائم ہے، دیکھیئے کب تک چلتا ہے اور پاکستان کی صَبرُ و بَرداشت کب تک چلتی ہے، بھارت کی فسادی اور تباہی پھیلانے والی پالیسیاں اب دنیا بھر میں بے نقاب ہوچکی ہیں اور بہت جلد اپنی حرکتوں کا مزا چکھنے والا ہے۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

One thought on “جب ” آپرِیشن سِندُور بَنا آپرِیشن تَندُور”، پھر بھی عَقَل نہیں آئی۔

Leave a Reply to Muhammad Ali Qazi Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading