
بے سَروپا یادیں، مجھے پَل پَل ستاتی ہیں
خود ہی اک دِن مٹ جاؤنگا اِن کو مٹاتے مٹاتے
اگر رُونقِ محفل ہوتے، کسی کے دل کا سرور ہوتے
یوں سَرِراہ اپنا خودیِ وقار نہ کُھوتے
شَمع گُل ہوتی ہے رات بٔھر رُوتے رُوتے
مگراُجالا کر ہی دیتی ہے پِگھلتے پِگھلتے
اُنہوں نے ساتھ چھوڑ دیا چٔلتے چَلتے
کُچھ لوگ بَدل جاتے ہیں مُوسم بُدلتے بَدلتے
راہ بھی وہ ہی، ہم سفر بھی وہ ہی
شاید ہم ہی اجنبی ہوگئے چَلتے چَلتے
کائنات بھی گزرتی ہے مَکافاتِ عَمل سے
جوکیا برا، اُس کی سزا ملے گی مَرتے مَرتے
مُجھے یقین تھا کہ اِحساس تو میرا ضروُر کرینگے
مگر وہ خاموُشی سے سَرَک گئے سَرکتے سَرکتے
ریحان محمود خان (رِم جِھم)
06-11-2000
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
