دُنیا تیار ہو جائے، اپنے اِختتامی سَفرکی طرف، کیونکہ پُرانے کِھلاڑی لائے ہیں پُرانا جال ” نیو وَرلڈ آڈَر” یعنی ” دُنیا کا نیَا حُکم نامۂِ تَعبِیدَاری” ایک نئے، مَضبُوط، جدید خَطرناک اِرادوں کے ساتھ، امن کا واوِیلا دُھوم دَھڑک، شورشرابے اور مُلَمٌَہ سَازی کے ساتھ، جیسے “گولڈ لِیف کے پِیکٹ میں کے۔ٹو کا سگریٹ” لیے ہوئے، یعنی اپنے مفادات کی آگ میں دُوسروں کو جلانے کے لیے، آخر میں گھیرا تَنگ کرتے ہوئے یہ سَفر چین کی طرف براستہ پاکستان، کاش جُو میں سُوچتا اور تِحرِیر کرتا آرہا ہوں، وہ غلط ہو اور دُنیا تباہی سے مِحفوظ ہوجائے، آمین، میں تو ٹَرَمپ کو امن کا مَتلاشی اور امن نِفاذ کرنے والا سمجھ رہا تھا، مگر جلد ہی ” بِلٌَا تھیلے سے باہر آگیا” یَعنی مِیرا خُواب ایک ڈرائونے خُواب میں تَبدِیل ہوگیا، کیونکہ ٹرَمپ نے وَاشگاف اَلفاظوں میں اپنے غَلط عَمل کو صَحِیح ثابِت کرنے کے لیے چین اور رُوس پر اِلزام عائد کیا کہ اگر “گرین لینڈ” پَر میں قَبضہ نہیں کرُونگا تو چین اور رُوس کرلینگے، یہ حملے کا جواز بلکل بھونڈا ہے، ٹرَمپ نے میڈیا کے سَامنے کہا کہ ہم جہاں چاہیں حَملہ کرسکتے ہی، اِسی کو تو دُھونس اور دَھمکی کہتے ہیں، ایک بہت مَشہُور مِثل ہے نا ” چَٹ بھی میری، پَٹ بھی میرا،اورٹَنٹَا مِیرے باپ کا”۔
کیا ٹَرَمپ کی دُوسرے مُلک کے اندرونی مُعاملات میں دَخَل اَندازی نہیں ہے؟، اُنہوں نے اِیرانی عَوام سے کہا کہ اِحتجاج جاری رکھیں، مَدَد پُہچنے والی ہے، ظُلم کرنے والوں سے حِساب لِیں گے، اِس طرح کے حالات میں ایسے بیانات حملہ کرنے کا موقع تلاش کرنے کے مانند ہے، ان باتوں کا گہری نظروں سے دِفاعی تجزیہ کرتے ہوئے درج ذیل سَوالات تو ہر ذِی شَعُور کے ذِہن میں آتے ہیں اور اِن سَوَالُوں میں دُنیا کا مُستَقبِل اور جواب پوشیدہ ہے؟
1). کیا یہ کسی دُوسرے مُلک کی خُود مُختاری میں، اشتعال انگیزی، دَخل اندازی اور عَوام کو وَرغِلانا نہیں؟
2)۔ کیا وِینیز وِیلا پَر شَب خُون مارنا، زبردَستی گرفتار کرکے کے لے جانا، جَنگی جَرائم نہیں۔
3). کیا ٹَرمپ نے اپنے سُلوُک سے اِیک مُعِمٌَرخَاتُون کے حُقُوق کو پَامال اور بے عزتی نہیں کی؟
4). کیا آپ عَالمی امن قائم کرنے نہیں آئے تھے؟
5). چُھوٹی جَنگیں خَتم کر کے دُنیا کو “جنگ عظیم” کی طرف دھکیلنا، مِیرے گُزشتہ مَضمون “طاقَت کا نَشہ، چُھوٹی مَچھلی بَڑی مَچھلی کو کھا جَاتی ہے” کو سَچا کردیا؟
6). آٹھ جَنگوں کو خَتم کرنے والا رِیکارڈ بَناتے بَناتے نہ جانے آپ کو کیاہوا کہ آپ “دُو ملکوں کا صدر ” کہہ کر دُنیا کے ریکارڈِڈ خودسَاختہ صَدر بَن گئے۔
7). آپ کو معلوم تھا کہ آپ کے مُلک کی معیشَت تَنزٌلی کا شِکار ہے تو ایک ہی راستہ اختیار کیا کہ آپ نے دُوسرے مُلکوں پَر اپنی مَرضی سے زِیادہ سے زِیادہ “ٹیرف” لگا کر مَفلُوج تِجارتی پابندیاں عَائد کردیں تاکہ وہ سَرنَگوں رہیں۔
8). دُوسری حِکمتِ عَملی یہ اَپنائی کہ جُو مُلک قُدرتی وَسائل سے مَالا مَال ہیں یعنی “گرین لینڈ” رَکھتے ہیں، تیل میں خُود کفِیل ہیں، اُن کی خُود مُختاری کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ زَبردَستی حَملہ کر کے وِینِیزوِیلا کے صَدر معہ اِہلیہ کو ببانگِ دُہَل دُنیا کے سَامنے اُٹھا کر(اَغوَا) کر کے اپنے مُلک لے گئے۔ دُنیا کے سَامنے اِحترامِ خواتین جو اَمریکہ کا خَاصہ تھا تار تار کردیا، اَفسُوس صَد اَفسوس، کیا یہ جُرم نہیں، (آپ کے اور دُنیا کے قَوانین کے تِحَت)، کیا یہ صَحیح عَمل تھا؟ ہاں کیونکہ آپ اپنے آپ کو”سُپر پاوَر” سَمجھتے ہیں، جبکہ چین نے ثابت کیا کہ وہ سُپر پاور ہے مگر وہ خود نہیں کہتا، مگر مسلمان کا “سُپر پاوَر” صرف اور صرف اللٌہ تعالیٰ ہے۔
9). کیا آپ اِیرانی عوام کے ہمدرد بَن کر دُوسرا شکار اِیران کی قومی سَلامتی کا نہیں کرنے جارہے؟۔
10). خَبر یہی ہے کہ اَمریکہ اِسلامی مُلک قَطَر سے حَملہ کریگا، یعنی مُسلِم مُلک کو مُسلِم ملک سے بھی لڑانے کی سازش کی تیاری ہے۔
اب یہ مُسلم حُکمرانوں نے سوچنا ہے کل وہ اپنی کمزوری اور تباہی کا ذریعہ نہ بنیں، اپنی مَرضی کی حُکومَت قائم کرنے کے لیے اپنے بیان کے مُطابِق اَمریکہ کُچھ بھی کرسَکتا ہے، جوکہ نرِیندَر مُودی کے سَپنے کی طرح نہ ٹُوٹ جائے، کیونکہ اِیران میں جو لوگ وہاں اَفراتَفری پِھیلا رہے تھے وہ میڈیا پر واضح ہوچکے کہ کون ہیں؟ اِیرانی عوام حکومت مُخالِف اَفراد کے سَامنے ڈَٹ گئی ہے، اب اِحتجاج کمزُور ہوتا جارہا ہے، یعنی اَمریکہ، اِسرائیل اور حُکومت مُخالِف شَرپسَندُوں کا گٹھ جُوڑ میڈیا پر واضح ہوگیا، اگر حالات سنگین ہوئے تو لگتا ہے کہ 24 سے 48 گھنٹے اِیران کے لیے بہت اِہم ہیں، رَاقِم مُتَوَاتِر کافی عَرصے سے گُزِشتہ کالَمُوں میں تِحرِیر کرچکا ہوں کہ اب جَنگ پہلے اِلیکٹرانک مِیڈیا، عالمی ذرائع اِبلاغ اور جَدید مَنصُوبہ بَندی کے تِحَت میڈیا پر لَڑی جَاتی ہے جو اِس میں کامیاب ہوتا ہے، اُسے ہی جنگ میں کامیابی ملتی ہے ورنہ رُسوائی اُس کا مُقدر بَن جاتی ہےاور جدید ٹِیکنالُوجی ایک بَدبُود٘ار “”پُھس اور ٹُھس”” میں تبدیل ہو جاتی ہے یعنی “ھَوَا” وہ بھی زوردار آواز کے ساتھ نکل جاتی ہے یعنی مفلوج و ناکارہ ہو جاتی ہے، گرین لِینڈ پر قَبضے کے حَوَالے سے یُورپ اور اَمریکہ آمنے سامنے آگئے ہیں، اِٹلی، بَرطانِیہ اور فرانس نے بھی تیاری کرلی، سب سے بڑا ہتھیار مَصنوعی ذَِہانت (اے۔آئی) کے سَہارے، اب جِس مُلک پہ حَملہ کیاجاتاہے، وہاں کے تمام الیکٹرانِک سِسٹَم کو جام کردیا جاتا ہے، ٹیکنالوجی نے اِتنی تَرقی کرلی ہے کہ کسی بھی وَقت کوئی ملک اُس کا نِِعمُ البَدل تیار کرسَکتا ہے، وَقت پڑنے پر اچانک “لیزر گائڈ سِسٹَم” سے دُشمن کے جَہاز کے دُو ٹُکڑے کیے جاسکتے ہیں، بِہرحال یہ اللٌٰہ تعالیٰ کو بُھول گئے ہیں اور مُسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے پِھر ایک ہو رہے ہیں، ایک چال یہ چلتے ہیں، اللہ اُن کی گمراہی میں اُن کو ڈھیل دیئے جاتا ہے اور ایک چال اللٌٰہ چلتا ہے، تو یہ تمام چالیں بھول جاتے ہیں اور بے بَس ہو جاتے ہیں، اللٌٰہ ہی نے کامیاب ہونا ہے۔
خبر یہ ہی کہ سَعوُدی عَرَب، قَطَر، عُمان اور رُوس کے پیُوٹن کے بیانات سامنے آنے سے اِیران پر حملہ میں دِیر ہورہی ہے ورنہ اب تک اَمریکہ حملہ کرچکا ہوتا، دراصل ٹرمپ شِیر بن کر اِس لیےدَھاڑ رہے تھے کہ وہ ایلون مَسک کے ڈیجیٹل اِِسٹار لِنک کے بچھائے ہوئے نیٹ ورک کے مضبوط جال کے ذریعے وہاں کا نیٹ جام کرکے فسادات کو تیزی کے ساتھ بَھڑکایا، ٹرمپ کے الفاظوں نے “جلتی پر تیل” ڈالا جس سے زیادہ گڑبڑ ہوئی، اُس کی تفصیل آنے والے مضمون میں بیان کی جائے گی، ایران نے بہت کوشش کی مگر اُسے دِیر ہوئی، فسادیوں کو مدد تو نہیں آسکی، مگر ایران نے ایلون مَسک کا نیٹ ورک توڑ کر اپنا نیٹ ورک بتدریج بحال کرلیا، اور ایران کے سُپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای، کی عوام کو تمام سازش کا علم ہوگیا اور “پاسدارانِ انقلاب” لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے، اس طرح فسادات کا زور ٹوٹ گیا اور فسادی ناکام ہوگئے، امید ہے ٹَرَمپ نے اپنی بہت بڑی سُبکی مِحسُوس کرتے ہوئے “نُوشتہ دِیوار” پڑھ لیا ہوگا کہ ایران سے جنگ میں ” لوہے کے چنے چبانا” پڑیں گے ایسا نہ ہو کہ دانت ہی ٹوٹ جائیں، اِیران میں آہستہ آہستہ حَالات معمُول پر آنے لگے ہیں، یہی کامیابی اِیران کو محفوظ کرگئی، امریکہ کا جام کیا ہوا جدید نیٹ ورک توڑنے میں ایران کو تین دن لگے، پھر دُنیا کو معلوم ہوا کہ اِیران جدید نیٹ ورک ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ترقی کرچکا ہے، ہوسکتا ہے کہ وینیزویلا کے صدر معہ اہلیہ کے آپریشن میں بھی یہی ٹیکنک استعمال ہوئی ہو، جتنے وقت میں یہ کام ہوا، اتنی دیر سِسٹَم جام کیاگیا ہو اور آپریشن مُکمل ہوتے ہی فوراً ہی آن کردیا گیا ہو، کیونکہ اِس کارروائی کو ٹرمپ ٹی۔وی پر خُود واچ کررہے تھے، ان کو یہی امید تھی کہ ایران میں بھی جلد ہی کامیاب ہونگے،اِن فریبی معاملات سے پتہ چلتا ہے کہ جنگیں اب ہتھیار سے کم ذَہانت کے اِستعمال سے زیادہ جیتی جاسکتی ہیں، ہر مُلک اپنے دِفاع کا حَق رَکھتا ہے، اگر یہ جنگ خدانخواستہ شروع ہوئی تو یہ مَشرقِ وَسطیٰ تک مِحدُود نہیں رہے گی، وِینِیزوِیلا پر شَب خُون مار کر ٹَرمپ کےحوصلوں میں اِضافہ ہوگیا ہے، جو کہ کمزور ملکوں اور عالمی امن کے لیے خطرناک اور تباہی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ہیں، اب وہ تین مُلکوں کا خُود سَاختہ صَدر بننے کا سَپنا دیکھ رہا ہے، سَپنا دِیکھنے پر کِسی کو پابَندی نہیں مگر دُوسروں کے لیے مَنفی سَپنا دِیکھنا غِیر قانُونی وغِیراَخلاقی ہے، کیونکہ عَالمِی سَطح پَر “نُوبل اِنعام” سے مِحرُوم ہونے کے بعد زَبَردَستی “گنِیز وَرلڈ بُک” میں اپنا نام دَرج کرانے کی تیاری ہے، “گنِیز وَرلڈ بُک” کی اِنتظامیہ نے بھی ہَری جَھنڈِی دِکھا دی ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا، یہ ٹِرانسفَر اییبل نہیں، اب “اَنگوُر کَھٹٌِے” ہی ہوسکتے ہیں۔اللٌٰہ پوری دنیا کو منفی طَاقَت اورتباہی سے مِحفُوظ رَکھے۔ آمین
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
