۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُل پِلازہ کی آگ رُوشَن ہوئی اور مَعدُوم (بُجھ) ہوگئی، مَگر اَنگِنَت (بے شُمار) سَوَالات مُختلف ذِہنوں میں چھوڑ گئی، جو اُمیدیں ذمہ داروں سے تھیں اُس میں چاہے کوئی بھی متعلقہ اِدارہ یا مِحکمہ ہو دَم توڑ گئیں، اِس دور میں جَہاں جَدید ٹِیکنالُوجی اور مَصنُوعِی ذَہانت(AI)، بامِ عُرُوج پَر ہے، اِیسے سَانِحہ کا اِس بیدَردِی سے وَقُوع پَزِیر ہوجَانا اور کئی دِن تَک زِندہ اِنسانوں کا پِلازَے کے اندر جَلتے رہنا، ہماری خُود غَرضی، ضمیر فروشی، رِشوت خوری،اَقربَا پَروری، سَرکارِی عہدوں پر سِیاسِی بُنیَاد پَر نااِہل افراد کی تَعیُنَاتی، کا نِیچے سے اُوپر تک کے گندے بَدبُودَار نِظام کا پُول کُھل گیا، یعنی ( بَرہِنہ) ہوگیا، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تمام اِدارے فُوری طور پر مِل کر سب سے پہلے آگ کو بجھاتے، تاکہ لوگوں کی قیمتی زندگیوں کو مِحفُوظ کیا جاسکتا، اِدَھر یہ واقعہ رُونما ہوا اور اُدَھر لَمحے بَھر میں پُوری دُنیا میں یہ خبر وَائرَل ہوگئی، ہر شخص کہتا ہے کہ ریاست ہو تو “ریاست مدینہ” جیسی، مگر عوام اور حکمرانوں کا کردار بھی تو “ریاست مدینہ” والوں جیسا ہونا چاہیئے تب ہی تو نظام اور انصاف کا معیار صحیح ہوگا، چِہرے نہیں، نظام دلانا ہوگا، جَب تَک قُوم اپنے اندر بُلند کِردار، بُلند اَخلاق، عَدل و اِنصاف، ایک دُوسرے کی عِزت کرنے کی تَبدِیلِیاں نہیں لائیں گیں، مُعاشرہ زَوَال پَزِیری کا شِکار رہے گا، کراچی سے فائیدہ سب اُٹھارہے ہیں اور جھوٹے دَعوے سب کرتے ہیں کہ “کراچی ہمارا” مگر جَب اِس کو بِہتر کرنے اور پیسہ لگانے کاوَقت آتا ہے، تو رَقم کا اِعلان تو بہت ہوتا ہے، پَر رقم جاتی کہاں ہے؟ یہ بھی سب کو مَعلُوم ہے، جو اُس کے ذِمہ دار ہیں جب وہ عہدے سنبھالتے ہیں تو اُن کے خُود کے حالات بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں اور “کراچی یَتِیم کا یَتِیم” ہی رِہ جاتا ہے، اِس کی حَالتِ زَار، اُبلتے گٹَر اور گڑھُوں کی زِینت بَنتے مَائوں کے لَختِ جِگر، مُوٹَر بائیک سَوار، ضعیف مَرد و زَن
کِسی سے چُھپے نہیں ہیں، جَگہ جَگہ کُوڑے کَرکٹ کے ڈِھیر، تَعفٌُن کی تازہ تازہ ہوائوں سے، قریب سے گزرنے والوں کا بہترین اِستقبَال کرکے دِماغ کو مُعطر کرتے رہتے ہیں اور اپنی صَفائی کرنے والوں کُو کُوستے ہوئے اِنتظامیہ کے کام نہ کرنے کی اندرونی کہانی آشکار کرتے رِہتے ہیں، کُون کہتا ہے؟، انتظامیہ کام نہیں کرتی یہ بُہتَان تَراشی اور اِلزام تَراشی بھی تو کام ہے، بات کچھ زیادہ حقیقت کی طَرف چلی گئی جو کرتا دَھرتاؤں کی مُونچھوں کے تائو کو نیچا کرسَکتی ہے، کیونکہ سَچ کڑوَا ہوتا ہے اور بُولنے والوں کی بُولتی بَند کرسکتا ہے، کسی سے اس کی زندگی نہ چِھینُو، وہ بھی کِسی کا کچھ نہ کچھ تو ہوگا نا، کراچی جو کہ پورے مُلک کو پَال رہا ہے، سَمندر قریب ہونے کے باوجود کراچی کو وقت پر آگ بجھانے کا پانی تک نہیں مِلا، کربلا نے پھر اپنا وَاقعہ دُہرایا، وہاں پانی نہ دے کر “شِمَر” نے قیامت ڈھائی، یہاں اِس دَور کے “بے ضمیروں” نے زِندہ اِنسانوں کو آگ کی بَھٹی میں جُھونک دِیا اور اُوپر سے شَرمِندہ 🫣 ہونے کے بجائے، فِرعُونی بیانات نے آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا، میں نے گزِشتہ کالم میں نَرِیندَرمُودی جیسے حُکمرانوں کے لیے کہا تھا کہ وہ اپنے اِقتدار کو طُول دِینے کے لیے عَوام سے بَھری ٹِرینوں کو ہی جَلا دیتے ہیں، مگر اِس آگ نے تو مُودی کے ظُلم و بَربَریت کو بھی مات دیدی، انڈین فلم میں دیکھتے آئے ہیں کہ کمرشل پِلازہ تعمیر کرنے کے لیے اُس پر بسنے والوں سے پلاٹ خالی کرانے کے لیے غریبوں کی جھونپڑیوں کو راتوں رات جلا دیا جاتا ہے، جس میں چھوٹے بچے اور ان کے ماں باپ کو زندہ جلادیا جاتا ہے، جو بچ جاتے ہیں وہ کھلے آسمان تلے سخت سردی میں ٹِھٹَھر رہے ہوتے ہیں اور بَدُعائیں دے رہے ہوتے ہیں، یہی مَناظر گُل پلازہ اُن لوگوں کے ظنظر آئے جو رات و رات سڑک پر آگئے، کہیں یہ بھی ایک سازش تو نہیں تھی کہ آگ نے آنناً فانناً پورے پِلازہ کو لپیٹ میں لے لیا، اورنگی ٹائون میں فِیکٹری میں لگنے والی آگ میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، اگرکسی بھی سانحہ کی غیر جَانّبدَارَانہ تِحقِیقَات کرکے مُلزمان کو کیفرِکردار تک پُہنچَا دِیاجاتا تو یہ وَاقعات بَار بَار نہیں ہوتے، اِس سَانحہ کی تِحقِیقَات کا بھی حَشر سَابقہ سَانِحَات جیسا ہی ہوگا جو اب تک ہوتا آیا ہے، آپ ہی قاتل، آپ ہی منصف، پھر فیصلہ کیسا؟ شاعر احمد فراز کا شعر ہے:
“میں کِس کے ہاتھ ✋ پہ اپنا لہُو تلاش کرُوں؟”
” تمام شِہر نے پِہنے ہوئے ہیں دِستانے۔”
بَس اِتنا ہی کہونگا کہ یہ اِجتماعی مُنافِقت، اِجتماعی مَفادَات کی کہانی ہے، سَوالا تو پیدا ہورہے ہیں غُور و فِکر کرنے والوں کے لیے، اسی میں جُوابات پوشیدہ ہیں،
فَائر بِریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی کم کیُوں تھا؟ اِس جَدِید دور میں گُل پلازہ میں آٹومیٹک فائر الارم کی تنصیب کیوں نہیں تھی؟ بِیسمنٹ میں خریدار کیوں پھنسے رہے؟ آگ محسوس کرتے ہی اِیمرجَنسی کورِیڈُور کے دَروازے کیوں نہیں کھولے گئے؟ لوگوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے شَاپِنگ سینٹر میں میں موجود تھی تو 8:00بجے شب سے ہی دروازوں کو کیوں بند کردیا گیا؟ ہر ماہ دوکانوں سے مینٹیننس کی مدَد میں وصولی کی رَقم سے کیا حِفَاظتی اِنتظامات نہیں ہوسَکتے تھے؟ پلَک جھپکتے ہی تیزی سے آگ پھیلنےکے کیا مَقاصِد کارفَرمَا تھے؟ میں یہ سب اللٌہ پر چھوڑتا ہوں وہی عَدل و اِنصَاف کرنے وَالا اور اِن لوگوں کی دَادرَسی کرنے وَالا ہے جنہوں نے اپنے پِیارُوں کو اپنی آنکھوں کے سَامنے خَاکِستَر ہوتے ہوئے دِیکھا، اُن کی چیخوں سے عَرش بھی کانپ اُٹھا ہوگا، دُنیا نے اُن کے بَچے بِلکتے، رُوتے، سِسَکتے، آہو بَکاء کرتے ہوئے دِیکھے، کاش ہم اللٌہ اور اُس کے رَسول(ص) کے فَرمان کے مُطابق جِینا سِیکھ لیں، اِس میں ہی ہَم سب کی بھلائی ہے، آمین، آخر میں حُکامِ بالا کے لیے چند تَجاوِیز پیش کررہا ہوں، وہ جو اِس سانحہ میں ہم سے جُدا ہوگئے وہ وَاپس تو نہیں آسَکتے، مگر دَرج ذِیل تجاویز پر عمل کرکے سَانِحَات کو کَنٹرُول کیا جاسکتا ہے اور قِیمتی جَانوں کے زِیاں کو رُوکا جَاسکتا ہے:
1). کے۔ایم۔سی۔ کے مِحکمے فائر بریگیڈ کے عَملے فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کی جَدِید آلات کی مَدَد سے ہنگامی بُنیَادوں پر تَربِیَت دِی جائے۔
2). آگ بُجھَانے کے لیے اِضَافی پَانی کا اِنتظَام رَکھَا جَائے۔
3). تَعمِیر ہونے وَالی کثیرُ المَنزِلہ عِمارتوں کے سَامنے ایک اِیمبولِینس کی 24 گھنٹے مُوجُودگی ضَرُوری ہے۔
4). یہ کام ہَرشخص نہیں کرسَکتا، لہذا ٹِیکنیکل اِسٹَاف اور آفیسرز کو ایسی جگہوں پر تعینات کیا جائے، جُو جَدِید ٹِیکنِیکل تَربِیَت اور آلات کے سَاتھ اَچانک لگنے وَالی آگ کو پِھیلنے سے رُوک سَکیں۔
5). کثِیرُ المَنزِلہ عِمَارَت کی تعمیر کے بعد مِحَکمہ فَائِر بِریگیڈ سے حِفَاظتی اِنتظامات کی مُوجُودگی کا سَرٹِیفکِیٹ لینا ضَرُوری رَکھا جَائے۔
6). ہر کَمَرشِل عِمارت میں دَاخلے اور خَارجی دَروَازوں کو چَوڑا رَکھا جَائے اور کم اَز کم دُو دَروَازے اِیمَرجَنسی کے وَقت اِخراج کے لیے رَکھے جائیں۔
7). کثِیرُ المَنزِلہ عِمَارَت کی مَنزِلُوں سے لوگُوں کے اِخرَاج کے لیے اِیمَرجَنسی زِینہ لازمی مُوجود ہو۔
8). گُل پِلازہ کی آگ بجھانے میں جو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ کے عملہ یا کارکن اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے شہید یا زخمی ہوگیا ان کو سول ایوارڈ اور نقد کیش انعام سے نوازا جائے، آگ سے نقصان ہونے والوں کے لیے حکومت سندھ پہلے ہی معاوضے کا اِعلان کرچکی ہے جانے والے تو واپس نہیں آسکتے، مگر شاید لوَاحِقین کے کُچھ آنسو پُونچھے جَاسکیں۔
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
