تحریر: ریحان محمود خان
پاکستان اور چین کی دوستی کی 75ویں ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات
ہر رشتہ معتبرہوتاہے مگر دوستی کا رشتہ سب سے عظیم ہوتا ہے، شرط یہ ہے کہ اسے خود غرضی کے بجائے ایک دوسرے کے مشکل وقت میں کام آکر مضبوط بنایا جائے، یہ پاک چین دوستی 75 سال پرمحیط ہے، اس لیے پاکستان اور چین کے عوام کو دوستی کی 75ویں سالگرہ مبارک ہو، اس “عظیم دوستی” کو عظیم تر بنانےمیں چین پاکستان کے ساتھ ہر دم اور ہرمشکل کھڑا ہے، سازشوں اور غلط فہمیوں کی خطرناک آندھییوں کے باوجود پاک چین دوستی کامیابیوں کی نئی جہتوں اور منزلوں کو عبور کررہی ہے جو کہ معیشت، اقتصادیت اور ایک دوسرے کے تعلیمی روابطی اصولوں کی پل صراط کو عبور کرتی ہوئی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے نئے دور میں داخل ہوگئی ہے، جس کی سب سے بڑی نشانی “سی پیک” ہے جس میں مزید ممالک شامل ہونے کے لیے بے چین ہیں، کیونکہ دنیا کا مستقبل اور مناظر بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، صاف نظر آر ہا ہے کہ دنیا کا مستقبل کس کی گرفت میں ہوگا، ایسے وقت میں بھارت اس مہینے اپنی عالمی ذلت و شکست فاش کا سال پورا ہونے پر سالگرہ کا کیک کھانے کے باوجودسازشوں سے باز نہیں آرہا اور نہ ہی باز آئے گا، کیونکہ اس کا ہم نوا (اسرائیل) اس کے ساتھ ہے، جسے حرف عام میں ضرب المثل سے واضح کیا جا سکتا ہے کہ ” ایک مچھلی سارے تالاب کو “گندہ” کرتی ہے” مگر پاکستان کو تو اس کے قائم ہونے کے وقت سے ہی یہ دونو زہریلے دشمن جہیز میں ملے ہیں. سسرالیوں کو تو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے، “کمبل تم کو نہ چھوڑے یا تم کمبل کو نہ چھوڑو”، بات ایک ہی ہے، مگر ان کو ان کی اوقات تو یاد دلانی پڑتی ہے نہ، تاکہ سفارتی و دفاعی معاملات پرکچھ عرصے کے لیے تو سکون ہو جائے، مگردرپردہ ہندوستان، افغانستان کے دہشت گردوں سے مل کر”فتنہ الہندوستان” و “فتنہ الخوارج” کی شکل میں ہمارے فوجی جوانوں کو شہید کرتا رہتا ہے جس سے ہماری قوم کے بیٹوں کا لہو بھی گرم رہتا ہے، ہمارے لیے تو شہادت ہو یا غازی ایک تمنا اور عہدہ ہے. جب تک پاکستانی قوم میں یہ جذبہ زندہ ہے، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا، ملک بیرونی طور پر تو ناقابل شکست و ناقابل تسخیر ہوچکا ہے، حکومت اور عسکری قوت کو اب ملک کو اندرونی طور پر کرپشن، کالی بھیڑوں، ذاتی مفادات کی دیمکوں، فحاشی و بے راہ روی جو کہ “سوشل میڈیا” پر زیادہ نمایاں ہورہی ہے، اسے قابو کرکے بتدریج ختم کرنا ہے، اچھائی اور برائی کی تمیز مذہب نے سکھائی اور ہمارے آباؤاجداد کی خاصہ تھی، ثقافت و تہذیب کا نسل در نسل سبق تھی، یہ ہی ہمیں دوسری قوموں سے ممتاز کرتی تھی، اس کو ورکشاپس اور آگاہی پروگرام کے ذریعے عوام کی بیداری و آگہی کی مہم چلانی ہوگی، کیونکہ آج کل کی نوجوان نسل میں اخلاقی تربیت کا فقدان ہے، ہم کو یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم کیا تھے اور کیا ہوگئے، یا کیا بنا دییے جا رہے ہیں، نہ ہی ہم یہ جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں، یہ ہی ہماری تباہی کی علامت ہے. مزے کی بات یہ ہے کہ جس سے ہم غافل بھی نہیں ہیں.
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
