عالمی سفارتکاری کی بہترین مثال “مَعرکۂ عَالمی اَمن پاکستان”

تحریر: ریحان محمودخان

عالمی سفارتکاری کی بہترین مثال “مَعرکۂ عَالمی اَمن پاکستان”

سب سے پہلے پوری دنیا کو کامیاب معاہدہ ہونے پر مباکباد، امریکہ، ایران، پاکستان، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، سعودیہ عرب، بحرین، شام، لبنان و دیگر ممالک کی کاوشیں رنگ لاٸیں، معاہدہ ہونے سے زیادہ اس کی حفاظت اور مخلصانہ عملدرآمد ہے۔
جب کبھی بھی دُنیا “جنگ اور عالمی اَمن” کا تذکرہ کرےگی تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے مدبر اور سنجیدہ کردار،بصیرت اور بار بار ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کو کبھی بھول نہیں پاٸے گی، “ڈاک فاٸٹ” میں تو ہمارے پاٸلیٹ مشہور ہی تھے کہ جھپٹنا، پلٹنا اور پلٹ کرجھپٹنا پھر فضأ میں ہی غوطہ لگا کرعقب سے نمودار ہوکرکامیاب وار کرنے کا کوٸی ثانی نہیں رکھتے ہیں، ہونے والی بات چیت اور معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھی یہی حکمت عملی نظر آٸی، جنگ کرنےسے زیادہ اہم جنگ کو روکنا ہے جس سے پوری دنیاکو خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ نہ رکنے والی تباہی شروع نہ ہو جاٸے۔
“اسلام آباد عالمی امن معاہدہ” وہ تاریخی معاہدہ ہے جس نے “معرکۂ حَق” کے بعد عالمی سطح پر “معرکۂ عالمی اَ من پاکستان” کے نام سے تاریخ میں سنہری حرفوں سے کندہ کیا جاٸے گا، اس صدی کی کامیاب سفارتکاری کا جب بھی ذکر آۓگا توسب سے پہلے پاکستان کا نام آٸے گا، برطانیہ کی خبررساں ایجنسی کے مطابق اس کامیاب معاہدے کے فریق امریکہ کے صدر ڈنلڈ ٹرمپ اور ناٸب صدر جے۔ڈی۔وینس اور ایران کی جانب سے ایران کی پارلیمنٹ کےاسپیکر باقر قالیباف نے اس تاریخی “مفاہمتی یادداشت” پرڈیجیٹل دستخط کیے، جس کے تحت معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز اسی ہفتے سے شروع ہونے کا امکان ہے، سب سے پہلے آبناۓہرمز کی بندش کو ختم کرنا، ایران پر عاٸد امریکی بحری ناکہ بندی کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، 300 ارب ڈالرز کے تعمیراتی فنڈز کی مشروط واپسی، ایران پرپابندیوں میں نرمی و دیگر مراعات، معاہدے پر عملدرآمد کا طریقہ کاربھی طے کرلیا گیا ہے، اس “عالمی امن معاہدے” کی کامیابی کاسہرا امریکہ اور ایران کو بھی جاتا ہے، اگر دونوں جنگ روکنے میں سنجیدہ نہیں ہوتے تو کوٸی بھی کچھ نہیں کرسکتا تھا، دونوں ممالک نے ایسی کوٸی بات پیدا نہیں ہونے دی جس سے معاہدہ ثبوتاز ہوتا۔

راقمِ مضمون نے گذشتہ تحریروں میں ہوشیار کرتا رہا ہے کہ اسراٸیل کو بھی پابند کرنے کی شِق اس معاہدے میں شامل ہونا چاہیے تھی کیونکہ وہ بعد میں کہہ سکتا ہے کہ معاہدے میں، میں شامل ہی نہیں ہوں، اسراٸیل کا لبنان پر بار بار حملہ، امن معاہدے کی کامیاب کوششوں کو ناکام بنانے کی ایک کڑی ہے، امریکہ ایران جنگ اسراٸیل کے حملے کے بعد شروع ہوٸی تھی، اسے پابند کرنے کے لیے یا معاہدے میں اس بات کی بھی ضمانت لی جانی چاہیےتھی کہ اگر اسراٸیل نے اپنی ہٹ دھرمی برقراررکھتے ہوٸے “جینیوا عالمی امن معاہدے” کی خلاف ورزی کی، جیسا کہ وہ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قانون کوخاطر میں نہیں لاتا ہے، تو آٸندہ کا لایحۂ عمل کیا ہوگا؟ “جینیوا عالمی امن معاہدہ” ممکن ہی جب ہوا جب اسلام آباد کی سیاسی اور عسکری قوت یکجا تھی، پاکستان کا نڈر اور بے باک فیلڈ مارشل جنگ کے دوران بھی اپنی جان کی پروا کیے بغیر بار بار ایران کا دورہ کرکے معاہدے کی کامیابی میں کردار ادا کرتا رہا، یہ سفارت کاری کی “سپرہٹ” شکل تھی، معذرت کے ساتھ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگی ماحول سے نکلنے کے بعد بھی پاکستان کی سیاسی قیادت عوام کے ساتھ سیاست، سیاست کھیلتی ہے یا پیٹرول کو واپس جنگ سے پہلے کی قیمت پہ لے جاتی ہے، یاایرن سے آٸل کا معاہدہ کرتی ہے یعنی امن کے ثمرات نچلے درجے کے مہنگاٸی سے کچلے ہوۓ عوام تک پہنچتے ہیں یا ہر مرتبہ کی طرح بے چارے عوام کو چُسنی (نِپل) مُنہ میں دے کر سُلادیا جاتا یے یعنی دُو سے چَار روپے کم کرکے “حَأتَم طَاٸی کی قبر پہ لات مار دی” جاتی ہے، جب پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنا ہوتا ہےتو خاموشی سے اچانک راتوں رات غریب عوام کے سرپر پیٹرول مہنگا کرنے کا بَم پھوڑ دیا جاتا ہے اور کہا جاتاہے کہ عالمی سطح پر ایسا ہونے سےایسا کرناپڑا، اب کیا جواب یاجواز ہے قیمت کم نہ کرنے کا؟


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.