ایران امریکہ معاہدے کے ثمرات عوام تک۔ “حکومت وقت کا احسن اقدام”

تحریر: ریحان محمود خان

ایران امریکہ معاہدے کے ثمرات عوام تک۔
“حکومت وقت کا احسن اقدام”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راقم مضمون نے اپنے کالم “سفارتکاری کی بہترین مثال۔ معرکۂ عالمی امن پاکستان” مورخہ: 19/جون 2026ء کی “اسٹار پلس” انگریزی کے اخبار کی اشاعت میں حکومت وقت سے گزارش کی تھی کہ عالمی امن معاہدے کی کامیابی کے بعد عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت میں کمی کے ثمرات عوام تک بھی پہنچنے چاہیٸے اور ایسا ہوگیا، حالانکہ جنگ سے پہلے کی قیمت 220 روپے تھی اور حکومت نے احسن قدم اٹھاتے ہوٸے مہنگاٸی میں پسے ہوٸے عوام کو ریلیف دے ہی دیا، آہستہ آہستہ اور کمی آٸے گی، مگر حکومت کو ان لوگوں پر نظر رکھنی ہوگی جن لوگوں نے پیٹرول کی بڑھتی ہوٸی قیمتوں سے فاٸدہ اٹھاتےہوٸے ضروریات زندگی کی اشیاٸے خوردونوشت کی قیمتیں آسمان پر پہنچادیں۔ اب یہ حکومت اور ان کے کارندوں پر منحصر ہے کہ وہ عوام کو پہنچنے والے حکومتی ثمرات کو ضاٸع نہ ہونے دیں، یہی عوامل عوام میں الیکشن کے وقت دوبارہ منہ دکھانے کا سبب بنیں گے۔
معاہدہ تو ہوگیا اور امریکہ نے اپنا دامن بھی بچالیا جوغلطی سے اسراٸیل کے جنگ کی ابتدأ کرنے سے جھلسنے لگا تھا، ٹرمپ نے اسراٸيل کو (شَٹ اَ پ) کال بھی دے دی ہے، یعنی بنے بناٸے کھیل ک مت بگاڑنا، امن کے معاہدے کو مضبوط کرنے کے لیے مذاکرات ہوتے رہیں گے مگر پاکستان کی عالمی امن کی کاوشوں کو تاریخ کبھی بھی نہیں بھلا پاٸے گی، ایک طرف اپنےسے کٸی گنا بڑے جدید ہتھیاروں سے لیس بھاری بھرکم توپ خانہ رکھنے کے باوجود ذہنی چالاکی اور چابک دستی کے ساتھ ببانگ دہل اپنے اوپر حملہ کرنے والے دشمن کو وہ دندان شکن جواب دیا کہ اس کی نسلیں بھی یادرکھیں گی، مگر یہ دشمن لومڑی سے زیادہ چالاک اور گیدڑ سے زیادہ بزدل ہے، جو کہ شپ خون مارتاہے وہ بھی اپنے یہودی دوست کے کہنے پر، حلانکہ وہ اور اس کا دوست پاکستان کی ابھرتی طاقت سے خوفزدہ ہے، سو بار سوچے گا پھر بھی ڈاٸریکٹ حملہ نہیں کریگا۔
اب تو پاکستان کو اپنی خوداری کو سامنے رکھ کر بے دھڑک مستقبل کا لایحۂ عمل مرتب کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارے نوجوان کسی بھی ملک کے جوانوں کی صلاحیتوں سے پیچھے نہیں ہیں، صرف انہیں سرکاری سپورٹ کےساتھ ساتھ حوصلہ افزاٸی کی ضرورت ہے:
شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے یہ بات پہلے فرما دی تھی کہ ” (نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کِشتِ ویراں سے)
(ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی)
(محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے)
(ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند)
ہمارے پاکستانی نوجوانوں میں آگے بڑھنے کے لیے بھرپر صلاحيتیں موجد ہیں، خاص کر کراچی کے نوجوانوں میں، کراچی کے نوجوانوں پر کیوں زور دیا ہے، میں خود کراچی سے ہوں، میں نے بغور دیکھا ہے، کراچی ان خراب حالات کے باوجود وہ یہاں زندگی گزاررہے ہیں کچھ نہیں کہتے، میں خود کٸی مرتبہ موٹر باٸک کے ساتھ کھلے مین ہولز، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سجدہ ریز ہوچکا ہوں، بعض مرتبہ تو اتنا جذباتی ہوجاتا ہوں کہ اٹھتا ہی نہیں تو لوگ اٹھاکر ہسپتال پہنچاتے ہیں، جہاں استعمال کے لیے پانی اور پینے کا صاف پانی نہ ملے، ہاں گرد، دھول مٹی سے آنکھوں میں پانی ضرور مل جاتا یے، مہنگی بجلی کا بل بھرنے کے باوجود بجلی 12 گھنٹے غاٸب، بجلی بے وفا ہے، بار بار روٹھ کے جاتی، یہ تک نہیں بتاتی کہ کب آٸے گی، پانی کے پاٸپ لاٸن میں گیس اور گیس کےمیٹروں میں پانی وہ بھی گٹر لاٸن کا، صحیح کرنے والوں کو بلاٶ تو نٸے داماد کے نخرے کیا ہونگے جیسے ان کے نخرے ہوتے ہیں، آگٸے تو کام نامکمل چھوڑکر گڑھا کھلا ہی چھوڑ جاتے ہیں تاکہ موٹر باٸک والے کو اوپر جانے میں جلدی ہو تو وہ یہی راستہ اختیار کرے، کیونکہ صبح جاتے وقت سڑک کھدی ہوٸی نہیں ہوتی، رات کو بجلی نہ ہونے سے اس کھلے گڑھے سے یہ حادثہ رونما ہوجاتا ہے۔
یہ صورتحال بتانے کا مقصد یہی ھا کہ ان سنگین حالات میں رہنے والے تو اپنا ٹیلنٹ ہی کیا اپنا ذہنی سکون اور اچھی زندگی کو ہی بھول چکے ہیں پھر بھی پورے پاکستان کو70 فیصد سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، ارباب اختیار کو سوچنا چاہیے کہ اگر کراچی والوں کو سب کچھ ملے، بچوں کا مستقبل سامنے ہو تو کراچی والے کیا پاکستان کو بلندیوں تک نہیں پہنچاٸیں گے؟، ترقیافتہ نہیں بناٸيں گے؟، کیونکہ ان کا جینا مرنا یہاں پر ہی ہے، جو کماتے ہیں وہ کہیں اور لے کر نہیں جاتے، یہاں پر ہی خرچ کرتے ہیں، اللہ ارباب اختیار و اقتدار میں موجود پاکستان کو ترقی دینے اور حفاظت کرنے والوں کو ملکی معاملات کی سمجھ عطا فرماۓ۔آمین


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.