معروف سیاسی شخصیات سے ملاقات اور کتاب کا تحفہ

مرحوم ریحان میہمود خان کی ادبی روایت اور محبتوں کا ایک یادگار لمحہ

زندگی کے بعض لمحات بظاہر عام ہوتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ خوبصورت یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک یادگار موقع اُس وقت دیکھنے میں آیا جب متحدہ قومی موومنٹ (MQM) کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور محترمہ نسرین جلیل صاحبہ تشریف لائے۔ اس موقع پر مرحوم ریحان میہمود خان نے اپنی تصنیف ’’دِل کی آواز سنو‘‘ انہیں بطورِ تحفہ پیش کی۔

یہ محض ایک کتاب کا تحفہ نہیں تھا، بلکہ ایک قلم کار کی جانب سے اپنی فکر، احساسات اور ادبی کاوشوں کو دوسروں تک پہنچانے کی ایک خوبصورت کوشش تھی۔ مرحوم ریحان میہمود خان اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی مسائل، انسانی احساسات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا ذوق رکھتے تھے۔

ڈاکٹر فاروق ستار اور محترمہ نسرین جلیل جیسی معروف سیاسی شخصیات کو اپنی کتاب پیش کرنا اس ملاقات کی ایک خوشگوار یاد بن گیا۔ ایسے مواقع اس بات کی علامت ہیں کہ کتاب اور قلم کا رشتہ صرف ادبی محفلوں تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے عام لمحات میں بھی علم و ادب کی خوشبو بکھیر سکتا ہے۔

آج مرحوم ریحان میہمود خان ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی تحریریں، یادیں اور ادبی خدمات ان کے نام کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ ان کی کتاب ’’دِل کی آواز سنو‘‘ ان کے فکری سفر اور ادبی ذوق کی ایک یادگار ہے۔

تحریر: ایان خان
فرزندِ مرحوم ریحان میہمود خان


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.