تحریر: ریحان محمود خان
اگرہم غيرت مند قوم ہیں تو کشکول کیوں نہیں توڑدیتے؟
خودار قومیں نہ کبھی اپنی عزت و وقارکاسودا کرتی ہیں، نہ ہی مشکل سے مشکل حالات میں گھبراتی ہیں، وہی عالمی سطح پر اپنا مقام جلد حاصل کرلیتی ہیں۔
میری بات کا یقین نہ ہو تو اسراٸیل، امریکہ اور ایران کی جنگ میں عوام، فوج اور برسراقتدار ایرانی حکمران جماعت کا مضبوط اتحاد سب کے سامنے ہے، جنگ کے موقع پر ایرانی عوام کو کھانے پینے، پیٹرول، گیس اور بجلی کی فراہمی میں نہ ہی کوٸی تعطل آیا اور نہ ہی مہنگاٸی ہونے دی گٸی اور نہ ہی کسی کے سامنے رونا رویا گیا،اسراٸیل افراتفری اور مذہبی منافرت کی آگ تک نہیں پھیلا سکا، یعنی دشمن کی اسٹریٹجی/منصوبے/سازش کو سمجھتے ہی پہلے ہی سے منصوبہ بندی کی گٸی، جس سے نہ صرف قوم سرخرو ہوٸی بلکہ ایرانی قیادت کی ایران پر گرفت بھی مضبوط ہوٸی۔
راقمِ مضمون کو پیسے کمانے کا شوق ہے نہ ہی خودنماٸی کا، بس قوم کو بیرونی قرضوں میں روز بروز خطرناک اضافے کو دیکھتے ہوۓ دل خون کے آنسوں روتا ہے، تھوڑا قرض ادا کرکے شور مچایا جاتا یے اور زیادہ قرضہ خاموشی سے لے لیا جاتا ہے، کن شراٸط پر قوم کو اندھے کوٸيں ميں دھکیلا جاتا ہے، وہ شراٸط سہی ہوں تو عوام سے پوشیدہ نہ رکھی جاٸیں، وہ رقم سود کے ساتھ آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔
میں نے قرض اتارنے کا حل روزنامہ اخبار ریاست میں 6/ فروری 2008ء کو تحریر کیا تھا، جو کہ میری نٸی شاٸع ہونے والی کتاب “دل کی آواز سنو” میں مضمون نمبر۔6، صفحہ۔34 پر موجود ہے، جس کا عنوان تھا “کیا ہم آزاد ہیں؟” اس میں ملکی قرض اتارنے کے حل کے حوالے سے چند نکات پیش کیے تھے، قوم سے صرف ایک روپیہ روز جمع کرنے کا کہا تھا، جو کہ ایک سال کے حساب سے کم و بیش (36 ارب 50 کروڑ) بنتا ہے، مگر شرط یہی تھی کہ اس فنڈ کو تحفظ حاصل ہو، کوٸی بھی آنے والی حکومت اس فنڈ کواستعمال نہ کر سکے۔
اپنا ایک شعر بھی تحریر کیا تھا، جو کہ لمحہ فکریہ بھی ہے:
پاکستان پرقرض اِک بڑھتا ہوا مرض ہے
مٹی کا جو قرض ہے ختم کرنا ہمارا فرض ہے
مٸی 2025ء کو “معرکہ حق” کی فتح کے بعد دنیاء سمجھ گٸی کہ بیرونی طور پر پاکستان کی طرف کوٸی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں صرف ایک ادارے پر ہی ملکی سالمیت کی ذمہ داری ہے، دوسرے ادارے معذرت کے ساتھ کیا اپنےاندر سے کرپشن، مفادپرستی، اور رشوت ستانی کو کنٹرول نہیں کرسکتے، جب تک ادارے صاف و شفاف طریقے سے اپنے اپنے فراٸض انجام نہیں دیں گے تو ملک تباہی کی گڑھے میں گرتا رہے گا۔
مخلص قیادت اللہ سے ڈرتی ہے، حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ میری حکومت میں اگر کوٸی کتا بھی پیاسا رہ گیا تو اس کا بھی مجھے جواب دینا ہوگا، اب تو عوام کی حالت پر کسی کو رحم نہیں آتا، ہرشے پر ٹیکس دینے پر سپرٹیکس بھی ادا کرو، اس کے باوجود ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بیمار کردینے والےگندے ماحول میں زندگی گزارو، ہر سال خفیہ معاہدے کے تحت اربوں روپے بجلی کی مد میں (آٸی۔ پیز) کومفت ادا کرو مگر ان پیسوں سے ڈیم مت بناٶ، مہنگی بجلی کا بوجھ ختم نہ کرو، کیونکہ ان معاہدوں کو ختم کرنے سے قومی خزانے پر سے بجلی کا بوجھ ختم اور کمیشن کا خاتمہ ہوگا، یہ صرف مخلص قیادت سے ہی ممکن ہے۔
جو قیادت ملک اور عوام کے لیے مخلص ہوگی وہ سب سے پہلے ملک کا کشکول توڑے گی،
مخلص قیادت اس لیے کہا ہے کہ اس حقیقت سے کوٸی انکار نہیں کرسکتا کہ ایران سے پیٹرول لینا ہو تو زیادہ سے زیادہ سو (100) روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا، لیوی 80 روپےبھی لگا لی جاۓ تو 180 روپے لیٹر پڑے گا، سستی بجلی اور سستی گیس بھی ایران سے وافر مقدار میں مل سکتی ہے، اس طرح بھی ہم بچت کر کے ایک سال کے اندر اندر قرضہ اتار سکتے ہیں، آخر متحدہ عرب امارات (یو۔اے۔ای) کا قرضہ ان کی اچانک فرماٸش پر ایک جھٹکے میں ادا کیاگیا، اس سے واضح ہوا کہ ہم ایک غيرت مند قوم ہیں، لیکن ہم صاحب بہادرکے ڈر اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں، قارٸین میں ان معاملات میں نہیں پڑنا چاہتا جو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ پیٹرول، چینی، آٹا اور روزمرہ استعمال کی اشیاء پر کس مافیا کی اجارہ داری ہے اور کون کون اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جن ممالک کے درمیان جنگ ہورہی تھی وہاں مہنگاٸی نہیں ہوٸی، پاکستان میں راتوں رات کونسی قیامت آگٸی کہ امیر مزید امیر ہوا اور غریب مزید غریب ہوکر فاقوں اور علاج کے بغیر ہی مرگیا، اشرافیہ نے الفاظوں کے ہیر پھیر اور گورکھ دھندوں سے معصوم عوام کو ہمیشہ کی طرح بیوقوف بنالیا، کیوں کہ عوام اب مہنگاٸی اور ظلم و ستم سہنے کی عادی ہوگٸی ہے، بیڑیاں نکال بھی لی جاٸیں تو ذہن اور سوچ غلامی کی زنجیروں کو محسوس اور خود کو قیدی محسوس کرتا رہےگا، عوام کو یہ ادراک ہی نہیں کہ وہ کتنی طاقتور ہے۔
جب عوام جاگ جاتی ہےتو فلپاٸن کے صدر مارکوس اور بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد جیسا حشر ہوتا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالی نے اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلی، جس کو نہ ہو احساس آپ اپنی حالت بدلنے کا، کیونکہ سوچ، ذہن اور احساس بدلتا ہے تو غلامی سے آزادی کی جدوجہد شروع ہوتی ہے، جس سے قصبہ، شہر، صوبہ اور ملک کی حالت بدلتی ہے، آزادی کا نیاء سورج طلوع ہوتا ہے، ہم اس ماحول کےعادی ہوچکے ہیں، رہی سہی کسر موباٸل کے منفی استعمال اور رجہانات نے ختم کردی ہے، ہم اب بدلنا بھی نہیں چاہتے، مسیحا بھی آٸے گا تو ہمارے اندر سے ہی آۓ گا، جو ہمارے معاشرے اورسوچ کو بدلے گا، اللہ ہمیں اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنے اور اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
