رَسی جل گئی، پر بل نہیں گیا

بھارت کی پاکستان کو بار بار بھڑ کیں، عوام دے رہی ہے اُس کو جھڑ کیں، جو کہہ رہا ہوں وہ میں کہنا نہیں چاہتا تھا کہ “لاتوں کے بھوت ، باتوں سے نہیں مانتے “‘ مگر جو سیانے کہہ گئے ہیں، وہ تو کہنا بنتا ہے نا معذرت کے ساتھ، مگر معذرت کیوں بھائی، جب دُشمن کے ہاتھ “پَگڑی” تک پہنچ جائیں”‘، “‘پانی سر سے اونچا ہو جائے”‘ اور دُشمن ڈھٹائی پر اُترا ہوا ہوتو ، میں بھی تھوڑا سا ڈھیٹ بن کر کہہ دیتا ہوں کہ “جو گرجتے ہیں وہ برَستے نہیں”‘ برَسنے کی کوشش کی تو بھارت “‘اپنے ہی دام میں آپ صیاد آگیا، یعنی شکاری خود شکار ہوگیا، (7) مہنگے ترین جدید طیارے، زمین پر بارش کی بوندوں کی طرح برس کر، زمین بوس ہو کر ملبے کا ڈھیر بن گئے ، ساتھ ہی مودی جی کے جعلی بھرم کے غبارے سے ہَوا، وہ بھی زور دار آواز کے ساتھ نکل گئی، قارئین میں بھارت کے لاتعداد ڈرونز اور میزائلوں کی تباہی کی بات نہیں کر رہا، جو پاکستان پر حملے کی غرض سے بھیجے گئے تھے ، یہ تو بھارت کو پاک فضائیہ کا شُکرگُزار ہونا چاہیے تھا کہ وہ چاہتے تو کارروائی کو مزید بڑھایا جاسکتا تھا اور دُنیا کو خبر ہونے تک پتہ نہیں بھارت کا کیا سے کیا ہوجاتا، اِس طرح جو مودی جی کی دنیا میں جو عزت تھی وہ بھی “‘ٹاٹا بائے بائے کر گئی ، اب میں تھوڑی سی ہمت مزید کرلوں کہ “:جو بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں “‘، کُتے کا لفظ اِس لیے حذف کر دیا کہ کُتے تو پھر بھی وفادار ہوتے ہیں، جان لیتے نہیں بلکہ بعض مرتبہ تو جان بچاتے بچاتے خود قربان ہو جاتے ہیں، ووُٹ حاصل کرنے اور اپنا اِقتدار بچانے کے لیے اپنے ہی عوام کو ٹرین میں جلا دیا جاتا ہے، مسلمان اور ہندوؤں کے درمیان فسادات کی آگ بھڑکا کر ایک ہی وقت میں سینکڑوں معصوموں کو موت کی نیند سلا دیاجاتا ہے اور الزامات کا بیا نیہ پہلے سے تیار ہوتا ہے فوراًہی پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے جیسے یہ اُس وقت وہاں چھپے ہوئے سب کاروائی دیکھ رہے تھے، مقبوضہ کشمیر پرظُلم مودی کی ڈھٹائی کی زِندہ مثال ہے، اِس وقت کی بھی ایک مثال ہے کہ “‘رَسی جَل گئی، پر بَل نہیں گیا”‘ جب دَم نہیں، تو بھرم بھی نہیں، بات جنگ کی تھی تو مثالوں کی لفظی بمباری میری جانب سے ضروری تھی، اوہ ، ہاں پِھر یاد آئی ایک اور مثال جو ہندوستان کی ہے مگر سب ہندئوں کی نہیں ، اِقتدار بچانے والوں کی ہے کہ ” بَغَل میں چُھری اور مُنہ پہ رَام رَام”‘یعنی در پرده ہر وقت جنگ چھیڑنے کی باتیں، چھیڑنے پر یاد آیا، چھیڑنے میں تو پاکستانی بہت ماہر ہیں ، اگر پاکستانی نوجوانوں نے چھیٹر دیا تو پھر کیا ہوگا۔ گزشتہ دِنوں بھارتی فوج کے سربراہ اپنیدر دویویدی نے نئی دہلی میں “‘چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگز”‘ سے خطاب کرتے ہوئے پھر وہی روائتی ڈرامائی بھڑک ماری، پہلگام واقعہ کے بعد یہ ایک معمول کا ڈرامہ بن گیا ہے، سب کچھ دیکھ اور سمجھ کر بھی بھڑک مارتے ہوئے بھارت نے کہا کہ اگر جنگی صورتحال دوبارہ پیدا ہوتی ہے تو بھارتی فوج ، پاکستان کو ایک ذمہ دار پڑوسی کی طرح برتاؤ کرنا سکھانے کے لیے تیار ہے،یعنی برتائو کی تمیز خود کو نہیں معلوم، شاگرد چلے ہیں، اُستاد کو سبق پڑھانے، حالانکہ مئی کی جنگ میں ایسا سبق سیکھا کہ “‘ عالمی اُستادِ محترم ڈونلڈ ٹرمپ”‘ کو فون کرنا پڑگیا، ٹرمپ کی جھاڑ(ڈانٹ)کی بازگشت عالمی سطح پر سنی گئی، مودی کی بہت سُبکی(بے عزتی) ہوئی، مگر اس کو اپنی اور اپنے ملک کی عزت کا خیال ہوتا تو ایسا نہیں کرتا، بھارت کے بار بار جھوٹے ڈراموں سے خطے میں موجود کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے، چند دن پہلے بھارتی ڈیفنس چیف انیل چوہان کا اپنی ہی قیادت سے اسلحہ کے حوالے سے رُونا دُھونا اور شِکوہ، اُن کی دِفاعی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، بھارت کی بھڑ کیں مارنے کی عادت اُس وقت بہت مہنگی پڑ گئی جب مئی میں “‘دُبئی اِیئر شُو”‘ کے دُوران بھارت کی بھڑکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اُن کا جنگی جہاز “‘تیجیس”‘ جس کی قیمت 550 کروڑ تھی ، پائلیٹ سمیت تباہ ہو کر ملبے کا ڈھیر بن گیا، طیارے کو خرابی کے باوجود دُبئی اِیئر شُو میں کیوں لایا گیا ؟ اِس کا کیس مودی اور اِیئر شو میں بھیجنے والے کے خلاف آج نہیں تو کل پرچہ ضرور کٹے گا کیونکہ بھارت کی مضبوط دِفاعی صلاحیت کے بلند و بانگ دعووں کی قلعی کھل گئی، عالمی دِفاعی مبصرین اور خریداروں کے سامنے طیارے بنانے والی کمپنی کا امیج خراب ہوگیا، اب اِس کی فروخت پر سوالیہ نشان آگیا، حسبِ عادت طیارے کی تباہی کا الزام فوراً ہی بلا سوچے سمجھے کسی نہ کسی پر تو لگانا تھا، تو امریکہ پر ہی لگا دیا، شُکر ہے یہ الزام پاکستان پر نہیں لگایا، یہ حادثہ اپنی نوعیت کا اور اِیئرشُو کی تاریخ کا پہلا حادثہ ہے۔ کینیڈا میں خالصتان کی تحریک کے لیے سِکھوں کو ریفرنڈم کی اِجازت مِل گئی، کیونکہ سارے ثبوت یہ بات واضح کر رہے ہیں کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کے لئے خطرہ بنتا جارہا ہے، وہ سِکھوں کی خالصتان کی جہد جد و جہد کو دبانے کے لئے اُن کے سرکردہ رہنماؤں کے قتل میں ملوث نظر آرہا ہے، بھارتی خُفیہ اِیجنسِیاں افغانستان، بَنگلہ دِیش اور مختلف ممالک میں دِہشت گردوں کو مالی مدد اور اَسلحہ کی مُعاونت فراہم کر رہی ہیں، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر پابندیاں نافِذ کرے، جُنوبی اِیشیاء میں امن کا خواب صرف خواب ہی رہے گا جب تک بھارت کی دُشمن پالیسیوں کی ناک میں نکیل نہیں ڈالی جاتی ، بھارت کو زخمی شیر نہیں کہوں گا کیونکہ “شیر” ایک طاقت کا مُعتبر نام ہے ، جَنگ کا زخمی گیدڑ کہوں گا، سب کچھ سمجھتے ہوئے پھر وہی حرکت بار بار کرے، جس سے اُسے خود ہی ہزیمت کا سَامنا کرنا پڑے اور مُوقع ملتے ہی میدان سے بھاگ کر اپنے آقاؤں کے سامنے بچاؤ بچاؤ کی گردان الانپے کہ”بھگوان” کے لیے پاکستان سے بچاؤ. امریکی کانگریس نے مئی میں ہونے والی جنگ میں پاکستانی فتح کا اِعتراف کیا، پاک چین دُوستی کی جڑیں بہت مضبوط ہیں، پاکستان کی کامیابی میں چین نے نہ صرف ہمسایہ دُوستی کا ثبوت دیا بلکہ ہر مصیبت کے وقت ساتھ کھڑا رہا اور کھڑا ہے، پاک۔بھارت جنگ میں اپنا جدید دِفاعی نظام آزمایا جس سے بین الاقوامی سطح پر دُوسرے ممالک کے جنگی طیاروں اور اَسلحہ کی مانگ میں کمی ہوئی اور چین کے دِفاعی نظام کی مانگ اور خریداری کرنے میں اِضافہ ہوا، پاکستان کے تمام حساس ادارے اور فوجی سیاسی قیادت چوکنا ہے اور بھارت کی تمام حرکتوں پر گہری نظر ہے، اِس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چین نے جون 2025 ء میں پاکستان کو جے۔ 35 طیارے ،کے ۔جے۔ 500 اِیئر کرافٹ اور بلیسٹک “‘میزائل ڈیفنس سِسٹم “‘ فروخت کرنے کی منظوری دی جس کی وجہ سے پاکستان کو دِفاعی صلاحیت میں اضافہ ہو گا، مگر وفاقی بجٹ میں میں 20 فیصد اِضافہ کرنا پڑا، پاکستان کا رواں سال جنگ میں کامیابی کے بعد مورال میں اضافہ ہو اور عالمی سطح پر تعلقات میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ عاصم افتخار احمد نے ایک قرار داد جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں پیش کی جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف غیر ملکی فوجی مداخلت ، قبضہ اور انسانی حقوق کی پامالی اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اِقدامات کر سکے گی، اِس قرار داد کو تیسری کمیٹی انسانی حقوق برائے تحفظ نے اتفاق رائے سے منظور کر لیا، اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد “‘برائے تحفظِ حقِ خودارادیت”‘ منظور ہونا، عالمی سطح پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے، اس قرارداد میں فلسطین، کشمیر اور اُن ممالک کے عوام شامل ہیں جو نو آبادیاتی غیر ملکی اور اجنبی تَسَلٌُط کے تحت حقِ خودارادیت سے محروم ہیں، اِس طرح پاکستان چین کا جدید اَسلحہ اور ٹیکنالوجی اِستعمال کرنے کے بعد دوسرے ممالک رُوس، امریکہ اور فرانس کے اَسلحہ کو خیر آباد کرنے کی پوز یشن میں آگیا ہے اب جس سے جاسوسی/کنڑرول کا خدشہ بھی ختم ہو جائے گا اور پاکستان کا اپنا ڈیفینس نظام خود اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول میں ہوگا۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading