تحریر: ایان خان
کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی آواز، ان کا قلم اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ریحان محمود خان بھی انہی لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی قلم، صحافت اور تحریر کے نام کی۔ وہ معروف کالم نگار، صحافی اور مصنف تھے، جنہوں نے اپنے خیالات اور مشاہدات کو الفاظ کا روپ دے کر قارئین تک پہنچایا۔
ان کی تحریروں میں زندگی کے مختلف رنگ، معاشرتی مسائل، انسانی جذبات، حالاتِ حاضرہ اور فکر و احساس کے کئی پہلو نمایاں نظر آتے تھے۔ ان کا ادبی و صحافتی سفر صرف کالم لکھنے تک محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنی تحریروں کو کتابی صورت بھی دی۔ ان کی تصنیف “دل کی آواز سنو” ان کے فکری اور ادبی سفر کی ایک اہم یادگار ہے۔
ان کی ویب سائٹ “دل کی آواز سنو” بھی ان کے قلمی سفر کا ایک عکس تھی، جہاں ان کی تحریریں، کالم اور دیگر فکری مواد قارئین تک پہنچتا رہا۔ دل کی آواز سنو ویب سائٹ
ریحان محمود خان نمونیا جیسی بیماری سے شدید متاثر ہوئے۔ طبی معائنے اور ٹیسٹ بھی ہوئے۔ ان کے آخری طبی حالات میں خون کے انفیکشن اور بیماری سے متعلق علامات سامنے آئیں۔ ان کی حالت بتدریج تشویش ناک ہوتی گئی۔
ان کے آخری وقت کے حوالے سے ایک ایسا لمحہ بھی اہلِ خانہ کے لیے ہمیشہ کے لیے یاد بن گیا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
آخری وقت میں انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ “مجھے کچھ لوگ لینے آئے ہیں۔” اس کے کچھ ہی دیر بعد ان کے چہرے پر غیر معمولی سرخی نمودار ہوئی اور پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
یہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے ان کے اہلِ خانہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔
اگست25 2026 کو، 11 ربیع الاول کی صبح، اذانِ فجر کے وقت ریحان محمود خان نے اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہا۔
وہ وقت جب مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں، ایک قلم کار کا قلم ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
وہ اپنے پیچھے اپنی تحریریں، اپنی کتاب، اپنے قارئین، اپنے چاہنے والوں اور سب سے بڑھ کر اپنے اہلِ خانہ کے لیے اپنی یادیں چھوڑ گئے۔
ان کی آخری آرام گاہ محمد شاہ قبرستان، کراچی میں بنی، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
ریحان محمود خان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ان کا قلم تھا۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کے الفاظ باقی رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں آنے والے وقت میں ان کے فکری سفر، ان کے احساس اور ان کے قلم کی گواہی دیتی رہیں گی۔
آج جب ان کا بیٹا ایان اپنے والد کی یادوں کو سمیٹتا ہے تو اس کے پاس صرف باپ کی یاد نہیں بلکہ ایک قلم کار کا پورا ادبی ورثہ بھی ہے۔
صرف قلم ہی نہیں، کئی گھروں کے چراغ بھی روشن تھے
ریحان محمود خان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو بھی تھا جس کا شاید ان کی زندگی میں اتنا چرچا نہیں ہوا، مگر ان کے انتقال کے دن اس حقیقت کا اعتراف خود بخود سامنے آگیا۔
وہ اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتے اور اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ہمیشہ آگے رہتے تھے۔
اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کا سہارا بننا ان کی زندگی کا ایک خاموش معمول تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی قربانیوں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا اور نہ ہی لوگوں پر اپنے احسانات جتائے۔ وہ جس قدر خاموشی سے کماتے تھے، اسی قدر خاموشی سے اپنوں پر خرچ بھی کرتے تھے۔
شاید یہی وجہ تھی کہ 25 اگست 2026 کو جب ریحان محمود خان اس دنیا سے رخصت ہوئے تو صرف ایک گھر سوگوار نہیں تھا۔ ان کے انتقال کے دن کئی لوگوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا
“آج ہمارے گھر کے چولہے بج گئے۔”
یہ جملہ بظاہر مختصر ہے، مگر ریحان محمود خان کی پوری زندگی کی ایک بڑی حقیقت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
ایک انسان کی اصل دولت صرف اس کے بینک اکاؤنٹ، جائیداد یا آسائشیں نہیں ہوتیں؛ اصل دولت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے اس نے اپنی زندگی آسان بنائی ہو۔ ریحان محمود خان نے شاید اپنے لیے بہت کم جمع کیا، مگر اپنوں کے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے—اپنی محبت، اپنی مدد، اپنی تحریریں اور بے شمار یادیں۔
آج ان کا قلم خاموش ہے، مگر جن گھروں میں ان کی وجہ سے کبھی چراغ جلتے تھے، وہاں ان کی یاد ہمیشہ ایک چراغ کی طرح روشن رہے گی۔
ریحان محمود خان چلے گئے، مگر “دل کی آواز” خاموش نہیں ہوئی۔
وہ آواز آج بھی ان کی تحریروں کے ذریعے سنائی دیتی ہے۔
مرحوم لیجنڈ ریحان محمود خان
“اسٹار پلس” کے رائٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر (ر) ڈپٹی میئر سیکریٹریٹ، کراچی،
ممبر کراچی پریس کلب و آرٹس کونسل آف پاکستان،
معروف کالم نگار، صحافی اور قلم کار تھے۔
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
