غم نہ کرو اے اہلِ جہاں! میں مرا نہیں، بس عشقِ اللہ میں نکل پڑا ہوں

فرزندِ تحریر: ایان خان
مرحوم ریحان محمود خان

اے زمانے والو! میری جدائی پر آنکھیں نم نہ کرو، میرے جانے کو اختتام نہ سمجھو۔ میں مرا نہیں، بس اس دنیا کی عارضی بستی سے نکل کر اپنے اُس رب کی طرف چل پڑا ہوں، جس نے مجھے زندگی عطا کی، سانسیں دیں، محبت دی اور ہر قدم پر اپنی رحمت کا سایہ رکھا۔

یہ سفر ہے جس کی منزل نگاہوں سے اوجھل ہے، مگر دل کو یقین ہے کہ راستہ اُسی کی طرف جاتا ہے۔ دنیا کی رونقیں، رشتوں کی محبتیں، خواہشوں کے میلے اور زندگی کی تمام مصروفیات ایک مقام پر آ کر پیچھے رہ جاتی ہیں، اور انسان تنہا اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے۔

مجھے روتے ہوئے الوداع نہ کہنا، میری خاطر اپنے آنسوؤں کو دعا میں بدل دینا۔ اگر کبھی میری یاد آئے تو میری آواز نہیں، میرے رب کا نام یاد کرنا۔ میرے لیے چراغ نہیں، فاتحہ پڑھنا؛ میرے لیے ماتم نہیں، مغفرت کی دعا کرنا۔

میں نے دنیا سے منہ نہیں موڑا، بس اپنے رب کی محبت کو اپنا آخری سفر بنا لیا ہے۔ شاید یہی عشق کی انتہا ہے کہ سب راستے چھوڑ کر اُس در کی طرف چل پڑے جہاں سے کبھی کوئی خالی نہیں لوٹتا۔

اے میرے پیاروں! غم نہ کرو…
یہ جدائی چند لمحوں کی ہے، ملاقات اُس ذات کے حکم سے ہوگی جس کے قبضۂ قدرت میں ہر جان ہے۔

میں مرا نہیں…
بس عشقِ اللہ میں نکل پڑا ہوں۔


Discover more from Dil Ki Awaz Suno

Subscribe to get the latest posts sent to your email.