
“‘ہندو توا”‘ عوام کو مذہب کے نام پہ لڑائو اور حکومت کرو۔
کہا یہ جاتا ہے کہ “‘جیسا کرو گے ویسا بھروگے”‘ نفرتوں کا بیج بویا تو نفرتوں کی فصل ہی کاٹو گے، محبتوں کی نہیں”‘،
ساری دنیا جان گئی ہے کہ مودی امن کا دُشمن ہے، اپنے اِقتدار کو طُول دینے کے لیے اپنی ہی اقلیتی عوام سے دُشمنی کررہا ہے جنہوں نے اُسے اِقتدار تک پہنچایا، دراصل “‘ہندو توا”‘ کے بیانیے کے بعد جس میں وہ ہِندو اِنتہا پسند تنظیموں کو خوش کرنے اور آنے والے الیکشن میں کامیابی کے لیے اُن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مذہب کا کارڈ استعمال کررہا ہے کہ “‘مسلمانوں کو اپنے مذہب اور تاریخ کے دِفاع کے لیے شہادتیں دِینی ہونگیں”‘، ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ صدیوں سے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، ایک ساتھ رہتے ہوئے ایک دُوسروں کے مذہب کا اِحترام کرتے آئے تھے، تو اب ایسا کیا ہوگیا کہ ایک دوسرے کی جان و مال کے دشمن بن گئے، چاند، سورج، ستارے، درخت، چرند، پرند، زمین و آسمان بدل گئے کیا؟ کیا خون کی رنگت تبدیل ہوگئی؟ نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا، نفرتوں کو ہوا دے کر صرف سوچ تبدیل کی گئی، بس آناً فاناً اِحساسات، محبتیں، رفاقتیں، اَخلاقیات ایک دُوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ اپنی موت آپ مرگیا اور مفادات نے جَنَم لے لیا، ایک دُوسرے کے دِیرینہ ساتھی جو اِنسانیت کے نام پر ایک دُوسرے کی حِفاظت کرتے تھے، حکمرانوں کی پھیلائی ہوئی رنجشوں کا شکار ہوکر ایک دُوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے، کیوں کے اپنے اِقتدار کو طُول دینے کے لیے “مودی جی “عرصے سے یہ خونی کھیل کھیل رہے ہیں، کیونکہ اقتدار کے نَشے کا مزا ہی الگ ہے، خالصتان تحریک اور سِکھ فَار جَسٹِس کے رہنما گرپتونت سِنگھ نے کہا ہے کہ یہ بیانیہ مودی کی فاشِسٹ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، یہ بھارت میں موجود اقلیتوں کی جانوں کے لیے زبردست خطرہ بن گیا ہے، مُسلم دُشمنی میں صدیوں پُرانی مَسجدوں کی شہادت کو قومی اور سیاسی تماشہ بنادیا ہے جس سے مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان موجود بھائی چَارہ خَتم اور دُشمنی میں اِضافہ ہو جائے گا، مودی کے اِس بیانیے کے بعد بانیِ پاکستان قائدِاعَظم کے “‘دُو نَظریے “‘ کی اہمیت اور پُختگی کو تقویت ملی ہے کہ پاکستان کے تعمیر کے وقت جو مخالفین تھے، آج وہ جان گئے ہیں کہ قائدِ اعَظم کتنے عَظِیم مُفکِر، سیاسی تَدبٌُر، بَصیرت اور مستقبل پر عَقابی نَظر رَکھنے والی عَظِیم شَخصِیت تھے کہ وہ پہلے ہی آگاہ ہوگئے تھے کہ بعد میں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ اُن کی زِندگی نے وفا نہیں کی ورنہ وہ اور اُن کا ساتھ دینے والی شخصیات پاکستان کی بُنیادیں مَضبوط کر جاتیں، اُن کے مُخالفین بھی اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں، مگر مخالفین تو مخالفین ہوتے ہیں وہ کسی پَل چین سی نہیں بیٹھتے، اُن کا کہنا یہ ہے کہ جہاں اکثریت ہوتی ہے وہاں سے ہجرت نہیں کی جاتی، یہ مسلمانوں کی قوت کو تقسیم کیا گیا، اُنہوں نے اپنی اَنا کی خاطر ہندوستان کو تقسیم کرایا، اُن مخالفین کو میں یہ بتا تا چلوں کہ ہِندوستان میں مسلمان زیادہ ہیں یا پاکستان میں؟ وہاں ابھی تک مسلمان آزادی کی تحریک کیوں نہیں چلا سکے؟ کیا وہاں کے مسلمانوں کی جان و مال محفوظ ہیں؟ جبکہ اُن کو کِسی طرح کی بھی آزادی حاصل نہیں، یہاں تک کہ سُکون سے عبادت کرنے کی بھی آزادی حاصل نہیں، قائدِ اعظم کو معلوم تھا کہ آزادی ابھی نہیں لی تو کبھی نہیں ملے گی، یہ عظیم ہستی بانیِ پاکستان مُحمد عَلی جِناح (رح) کی مہربانی ہے وہ آزادی دِلا گئے، اَفسُوس کہ ہم اُن کے تحفہ کی لاج بھی نہیں رکھ سکے، آدھا پاکستان گَنواں دا اور آدھے کو کرپشن کے ہاتھوں ختم کرنے کے درپے ہیں۔
بات ہورہی تھی بھارت کی تو نئی دِہلی پریس ٹی۔وی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق آر۔ایس۔ایس، کے زیر ِ اثر “ہندوتوا ایجنڈے” کے تحت بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہر سطح پر مُنظٌَم انداز میں اِنتہا پسندانہ سلوک میں اِضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ حکومتی جانبدارانہ رویوں نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے، مہاراشٹر میں تین مُسلم طلبہ کو کِلاس رُوم میں نماز پڑھنے پر شدید زَدوکوب کرکے ایک مُورتی کے سامنے جُھکنے پر مَجبور کیا، اِسی طرح آگرہ میں 64 سالہ مسلم ٹیکسی ڈرائیور کو ہندو نوجوانوں نے زبردستی رُوک کر ہِندوانہ مذہب کا نَعرہ لگوایا، وہ نعرہ اس لیے نہیں لکھ رہا ہوں کہ قارئین وہ نعرہ کیوں پڑھیں یا دوہرائیں، یہ تو عام ہوتا جارہا ہے کہ کھلے عام نفرت انگیز تقاریر، شَر انگیزیاں، لَعَن تَعَن عام ہوگیا ہے، مسلمانوں کا جِینا دُوبھر ہوتا جارہا ہے، یقیناً اِن اِقدامات کو مودی سرکار کی سَرپرستی حاصل ہے جس کی وجہ سے امن نافِذ کرنے والے تماشائی بنے رہتے ہیں، اِس طرح خود بہ خود ایک مرتبہ پھر حالات تقسیمِ ہِند کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا اِدراک بہت جلد یا بدیر “مودی جی” کو ہو جائے گا مگر جب تک “‘پانی سر سے اُونچا اور بہت اُونچا”‘ ہو جائے گا اور حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے، پاکستان کو مُنقسِم دیکھنے والے کا خواب، عنقریب خود اُس کے ہِندوستان کو ٹُکڑوں میں تقسیم کردے گا۔ ان شاءاللہ ۔
Discover more from Dil Ki Awaz Suno
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
